مجھے کچھ بھی ہوا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے

سوشل میڈیا انفلوئنسر اور معروف میزبان وقار وقار ذکا نے کہا ہے کہ اگر مجھے یا میری فیملی کو کوئی بھی نقصان پہنچا تو اسکے ذمہ دار وزیر اعظم عمران خان ہوں گے۔ ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کی اور میری معیشت ٹھیک کرنے کے معاملے پر جنگ ہے لیکن گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر کے کہنے پر آپ نے میرے خلاف جو کارروائی کروئی یے وہ ذیادتی ہے۔
میری آپ سے درخواست ہے کہ چیزوں کو صرف اپنے اور میرے درمیان رکھیں۔ اگر میری فیملی کو کچھ بھی ہوا گا تو عمران خان ذمہ دار ہوں گے۔ یاد رہے کہ وقار ذکاء نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کر رکھی ہے جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ اس کا فائدہ ملکی معیشت کو پہنچ سکے۔
وقار ذکا نے کہا کہ مجھے 10 جنوری کو حکومتی افراد کی جانب سے کہا گیا کہ آپ نے اپنے کیس سے پیچھے ہٹ جانا ہے اور کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے بزنس پر پابندی لگنے دو لیکن میں نے کہا میں کرپٹو کے بزنس پر بین نہیں لگنے دوں گا کیونکہ مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو ایک موقع مل رہا ہے امیر ہونے کا اور یہ موقع عمران خان چھیننا چاہتا ہے۔
وقار ذکا کا کہنا تھا کہ عمران چاہتے ہیں کہ میں سب کو زکوة اور صدقے پر رکھوں، اب وزیراعظم میرے خلاف ہو چکے ہیں اور مختلف اداروں کو ہدایست دے رہے ہیں کہ وقار ذکا کو الٹا لٹکا دو۔ لیکن میں ڈروں گا نہیں اور نہ ہی اپنے موقف سے پیچھے ہٹوں گا۔ انہون نے کہا کہ اگر کوئی میری فیملی تک پہنچا تو پھر میں بھی بنی گالا پہنچ جاوں گا۔
مری کھل تو گیا لیکن رونقیں بحال نہ ہو پائیں
دوسری جانب ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ثنا اللہ عباسی نے کہا ہے کہ ہم کرپٹو کرنسی میں کام کرنے والی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کیلئے پی ٹی اے سے رجوع کریں گے تاکہ فراڈ اور منی لانڈرنگ جیسے واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔
ایف آئی اے کے سربراہ نے سائبر کرائم سرکل آفس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سینئر حکام کی ٹیم کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے ریگولیٹری میکانزم کے بارے میں پریزنٹیشن دی۔ جس میں بتایا کہ بینک نے سندھ ہائی کورٹ کی حکم کے تحت ہی کرپٹو کرنسی ریگولیٹ کرنے کی سفارش کی تھیں۔ ثنا اللہ
عباسی نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کی بدولت جو مسائل پیدا ہوئے اس حوالے سے قانونی ماہرین سے رجوع کر لیا گیا ہے۔ کرپٹو کرنسی کا بزنس کرنے والوں نے دھوکے بازی کا ایک نیا طریقہ متعارف کروایا ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکا سمیت برطانیہ اور کینیڈا نے کرپٹو کرنسی کو قانونی قرار دیا مگر چین اور دیگر ممالک میں اس پر پابندی عائد ہے۔ انہوں نے وقار زکا کا نام لیے بغیر کہا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث فراڈیوں کے خلاف سخت کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
