مری کھل تو گیا لیکن رونقیں بحال نہ ہو پائیں

8 جنوری کی رات سانحہ مری میں 24 سیاحوں کی جانیں چلی جانے کے افسوسناک واقعہ کے بعد ملکہ کوہسار کہلانے والے برف پوش شہر میں لوگوں کو داخلے کی اجازت تو مل گئی ہے لیکن مری کی رونقیں بحال نہیں ہو پائیں اور شہر سنسان پڑا ہے۔

مری کو سیاحوں کے لئے کھولنے کے بعد قابل غور بات یہ ہے کیا شہر کے باسیوں کی رویئے میں کوئی تبدیلی آئی یا اب بھی ان پر بے حسی کا رویہ غالب ہے۔ جنوری کے پہلے ہفتے میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے مری کے سیاحتی مقام کو دس روز بند رکھنے کے بعد سے کھول دیا ہے مگر ملک کے سب سے مشہور سیاحتی مقام کی رونقیں اب بظاہر ویسی نہیں رہیں۔

این ڈی ایم اے ایکٹ 2010 کے تحت انتظامیہ ایک دن میں صرف 8000 گاڑیوں کو مری میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے، لیکن وہاں چند سو گاڑیاں بھی نظر نہیں آتیں۔ مری کا راستہ سنسان ہے جبکہ جگہ جگہ پولیس اہلکار اور برف ہٹانے والے ٹرک کام پر مامور دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب مال پر، روڈ جہاں عام دنوں میں تل دھرنے کو جگہ میسر نہیں ہوتی تھی وہاں ایک دو سے زائد سیاحوں کی فیملز مشکل سے نظر آتی ہیں، ایک شخص کا کہنا تھا کہ یہاں آنے کے بعد ہمیں نہیں لگ رہا کہ مری کے لوگ سدھرے ہیں، ہمیں بہت تنگ کیا گیا یے اور گاڑی تک پارک نہیں کرنے دی جا رہی۔

کیا کپتان نے آرمی چیف کو توسیع کی پیشکش کر دی؟

ایک ہوٹل مالک نے حکومتی رویے کا گلہ کرتے ہوئے کہا کہ مری میں مرنے والوں کا مدعا ہم لوگوں پر ڈال دیا گیا ہے حالانکہ یہ سانحہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہوا۔ مری کے ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ ’’مری مری ہے‘‘ لیکن اب اسی مری میں سنسانی کے ڈیرے ہیں۔ دکاندار نے پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مین جی پی او چوک پر کوئی رش نہیں ہے اور دکاندار پریشان ہیں، وہ روز صبح آٹھ بجے دکانون پر آتے ہیں اور واپس آٹھ بجے دکانیں بند کر کے چلے جاتے ہیں، یہ وہ دکاندار ہیں جو پہلے صبح چھ بجے آتے تھے اور رات کے دو بجے تک اپنا سامان بیچتے تھے، مگر اب انکے کاروبار کو بہت ذیادہ فرق پڑا ہے اور بزنس تباہ ہو گیا ہے۔

ایک ہوٹل مالک کے مطابق لوگ مری حادثے کی وجہ سے ڈرے ہوئے ہیں اور مری سنسان ہو چکا ہے۔ اس نے کہا کہ آپ فی الحال دیکھ سکتے ہیں سارے شہر میں مکمل خاموشی ہے، نہ تو عوام ہیں اور نہ کوئی رونق ہے۔واضح رہے کہ 7 اور 8 جنوری کی شب مری کے راستے میں واقع کلڈنہ میں 24 سیاح برف کے طوفان میں گاڑیوں میں پھنس گئے اور بروقت امداد نہ ملنے سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، انتظامیہ نے اس واقعے کے بعد مری کو 10 روز کے لیے وقتی طور پر بند کر دیا تھا اور 17 جنوری کو محدود پیمانے پر سیاحوں کے لیے دوبارہ کھولا تھا۔

Back to top button