رہائی کی ڈیل نہ ملنے کے بعد عمران کا فوجی قیادت پر بڑا حملہ

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے فوجی اسٹیبلشمینٹ کی جانب سے رہائی کی ڈیل دینے سے انکار کے بعد ایک مرتبہ پھر فوجی قیادت پر بڑا حملہ کرتے ہوئے یہ الزام عائد کر دیا ہے کہ موجودہ آرمی چیف نے دس برس تک اپنا عہدہ نہ چھوڑنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کار اسے ایک خودکش حملہ قرار دے رہے ہیں جس کے نتیجے میں عمران خان کی سیاسی موت یقینی ہو گئی ہے ۔
عمران خان کے ایکس اکاونٹ پر پوسٹ کردہ خصوصی پیغام میں کہا گیا ہے کہ میں عاصم منیر کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کے ماننے والے ہیں۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں یزیدیت اور فرعونیت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے کیونکہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی انسان کے آگے جھکنے کو شرک مانتے ہیں۔ مجھ پر اور بشرٰی بی بی پر جیل میں جو ذہنی تشدد ہو رہا ہے وہ عاصم منیر کروا رہا ہے اور اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم جھک جائیں یا ٹوٹ جائیں۔
عمران خان نے ریڈ لائین کراس کرتے ہوئے کہا کہ جنرل یحیٰی خان کو فوج نے پاکستان چلانے کے لیے منتخب نہیں کیا تھا۔ لیکن یحیٰی نے فوج کا کندھا استعمال کر کے اپنی ڈکٹیٹر شپ قائم کی اور ملک میں ظلم و جبر کا بازار گرم کیا۔ بالآخر اپنے دس سالہ اقتدار کے لالچ میں یحیٰی نے ملک دو لخت کر دیا۔ عمران نے کہا کہ آج کا آرمی چیف بھی اسی طرز پر فوج کا کندھا استعمال کر کے پاکستان میں لاقانونیت اور فسطائیت کا ماحول بنائے ہوئے ہے۔ خان نے کہا کہ عاصم منیر نے اپنے دس سالہ ناجائز اقتدار کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ سب سے پہلے جمہوریت کا گلا دبوچا، 9 مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر جب 8 فروری کے الیکشن میں عوام نے تحریک انصاف کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے تو اس کے مینڈیٹ کو بے شرمی سے چرا لیا گیا۔ اس کے بعد عوام کا مینڈیٹ چرا کر سزا یافتہ لوگوں کو اقتدار دے دیا گیا۔ اس کے بعد عدلیہ کو مفلوج کیا گیا اور چھبیسویں ترمیم کے ذریعے ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے۔ عدلیہ کو سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
عمران خان نے الزام لگایا کہ اس کے بعد میڈیا کی آزادی پر قدغن لگا دی گئی ہے، آزاد میڈیا کا تصور پاکستان سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ نہایت مشکل سے پاکستان میں جیسی تیسی جمہوریت کے تسلسل سے یہ دو چیزیں، کسی حد تک خود مختار عدلیہ اور آزاد میڈیا تھا، مگر ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی وجہ سے ان دونوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ملک میں اس وقت جمہوریت معطل ہے، انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے، عدلیہ غلام اور میڈیا خوفزدہ ہے۔
عمران خان نے یہ بیہودہ الزام بھی لگایا کہ جب سے جنرل عاصم منیر آرمی چیف بنے ہیں وہ مسلسل افغانستان کے ساتھ حالات خراب کرنے کی کوشش میں ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ عاصم منیر نے آرمی چیف بنتے ہی پہلے افغانستان کو دھمکیاں لگائیں، پھر تین نسلوں سے مقیم افغانیوں کو پاکستان سے دھکے دے کر نکالا پھر وہاں ڈرون حملے کیے۔ انہوں نے پوری کوشش کی ہے کہ افغانوں کو اکسا کر پاکستان کے خلاف جنگ کروائی جائے اور پاکستان میں دہشتگردی کا ماحول بنایا جا سکے تاکہ مغرب میں موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابیز کو دکھا سکے کہ میں ہی ہوں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہوں۔
عمران خان نے کہا کہ جبر کے اسی نظام کے باعث پاکستان میں اس وقت معیشت بھی تاریخی سست روی کا شکار ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بالکل صفر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنی کم سرمایہ کاری نہیں آئی جتنی اس دور میں ہوئی۔ تین سال میں ملک پر قرضہ دگنا ہو چکا ہے۔ ہر پاکستانی اس وقت قرضے کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ جب تک ملک میں عوامی حکومت قائم نہیں ہو گی معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔
75 سالہ وزیراعظم مودی کی ریٹائرمنٹ کی بات کیوں ہو رہی ہے؟
عمران نے مذید کہا کہ ملک میں اخلاقیات کا جو جنازہ اٹھا ہوا ہے اس کی بھی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ جو کام جنگوں میں بھی نہیں ہوتے وہ یہاں عوام کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے، بچوں کو اٹھا کر ہراساں کیا گیا، بزرگوں کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ کبھی کسی سیاستدان کے گھر کی غیر سیاسی خواتین کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا جو میری اہلیہ اور دیگر گھر والوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جب ملک کا اقتدار ان چور لٹیروں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے گا جن کی کرپشن کی داستانوں سے بچہ بچہ واقف ہے تو اخلاقیات ایسے ہی تباہ ہوں گی۔
عمران خان نے ریڈ لائن کراس کرتے ہوئے مزید کہا کہ انتخابات سے قبل جب ہر جانب خوف کا ماحول تھا، میں نے پیشین گوئی کی تھی کہ تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی اور ایسا ہی ہوا۔ آج میں پھر ایک پیشین گوئی کر رہا ہوں کہ ملک میں جو ناانصافی، ظلم و فسطائیت ، لاقانونیت اور معاشی تباہی کا ماحول ہے پاکستان میں بہت تیزی سے حالات اسی جانب گامزن ہیں جو نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے تمام پارلیمنٹیرینز اور پارٹی ممبران کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب حقیقی اپوزیشن کرنے کا وقت ہے۔ جو ایسا نہیں کرے گا وہ اپنی سیاسی قبر کھودے گا کیونکہ عوام کی یہی آواز ہے۔ ہم نے مینڈیٹ چوری سمیت ہر ظلم پر قانونی راستے اختیار کر کے دیکھے مگر ہمیں انصاف نہیں ملا اس لیے اب ڈٹ کر اپوزیشن کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ ان کے ساتھ آپ جتنا تعاون کریں گے یہ اتنا ہی آپ کو کچلیں گے۔ جو بھی ڈٹ کر اس نظام کے خلاف کھڑا نہیں ہو گا وہ خود اپنی سیاسی قبر کھودے گا۔
