75 سالہ وزیراعظم مودی کی ریٹائرمنٹ کی بات کیوں ہو رہی ہے؟

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے 75 برس کے ہو جانے کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کیا وہ سیاست سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ اپنے 75 برس کے ہوتے ہی مودی کی طرف سے یہ پیغام جاری کیا گیا کہ انھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سالگرہ کی مبارک باد دی ہے۔ مودی نے ایکس پر یوکرین تنازع کے حل کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ ان کی طرح انڈیا اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
سیاست میں ویسے تو عموماً عمر کی پابندی نہیں ہوتی لیکن جب 2014 میں مودی پہلی بار وزیراعظم بنے تھے تو اس وقت انھوں نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کے لیے یہ ضابطہ وضع کیا تھا کہ جو رہنما 75 برس کے ہو گئے ہیں وہ سیاست سے الگ ہو جائیں۔ اس وقت سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی علالت کے سبب سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر چکے تھے لیکن ان کے نائب اور مودی کے سیاسی گرو لال کرشن اڈوانی بی جے پی کے سب سے قد آور اور متحرک رہنما تھے۔
مرلی منوہر جوشی بھی بی جے پی کے قد آور رہنماؤں میں شامل تھے۔ مودی نے ایک غیر رسمی ’مارگ درشک منڈل‘ یعنی رہنما کمیٹی بنائی تھی جس میں اڈوانی اور جوشی جیسے سینیئر رہنماؤں کو شامل کر کے انھیں متحرک سیاست سے عملی طور پر بے دخل کر دیا گیا۔ کچھ مہینوں سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ آیا مودی بھی 75 برس کے ہونے پر سیاست سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ لیکن حال ہی میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ایک بیان کے بعد یہ ساری قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں۔ اب تو مودی 2029 کے عام انتخابات کی بھی باتیں کرتے ہیں۔
ایسے میں مبصرین کا خیال ہے کہ انڈیا کی سیاست سے مودی کو الگ کرنا اب مشکل ہو گا۔بھارتی سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بی جے پی کے دستور میں 75 برس کی عمر کی نہ تو کوئی قید ہے اور نہ ہی ملک کے آئین میں ایسا کوئی ضابطہ ہے۔انکے مطابق مودی نے اصل میں یہ کہا تھا کہ 75 برس کی عمر کے سیاسی رہنماؤں کو سیاست سے کنارہ کش ہو جانا چاہیے۔ انھوں نے جو مارگ درشک منڈل بنایا تھا وہ دراصل اپنے سینیئر رہنماؤں اڈوانی اور جوشی کو سیاست سے ہٹانے کا ایک حربہ تھا۔ مودی اس بات کو فراموش نہیں کر سکے تھے کہ اڈوانی اور کئی دیگر رہنماؤں نے ان کی وزارات عظمی کی امیدواری کی شدت سے مخالفت کی تھی۔
یاد رہے کہ نریندر مودی 2014 میں وزیر اعظم بننے کے بعد پچھلے 11 برس سے حکمراں جماعت بی جے پی کے سب سے طاقتور رہنما ہیں۔ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی سیاست کا محور ہیں۔ انڈین سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر بی جے پی چاہے بھی تو مودی کو نہیں ہٹا سکتی کیونکہ پارٹی میں ان کے درجے کا کوئی دوسرا رہنما نہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ ایک مقبول لیڈر ہیں اور انفرادی طور پر اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ سیاست اور ان کی پارٹی ان کے ہی گرد گھومتی ہے۔ ایسے میں سوال یہ بھی ہے کہ کیا انڈیا میں مودی کا کوئی متبادل نہیں؟
بی جے پی پر گہری نظر رکھنے والی بھارتی تجزیہ کار آرتی جے رتھ کہتی ہیں کہ مودی کی قیادت میں بی جے پی میں پچھلے 11 برس میں کوئی لیڈر نہیں ابھر پایا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اگر مودی ہٹ جائیں تو اہم سوال یہ پیدا ہوتا کہ ان کی جگہ پر کون آئے گا۔ ان کا کوئی متبادل رہنما نہیں جن کا نام لیا جا سکے۔‘ وہ بتاتی ہیں کہ بعض اوقات وزیر داخلہ امت شاہ کا نام لیا جاتا ہے اور کچھ لوگ یو پی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا نام بھی لیتے ہیں۔ تاہم جس طرح پورے ملک پر مودی کی گرفت ہے، اس طرح کی پکڑ ان رہنماؤں کی نہیں۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’امیت شاہ کبھی بھی عوامی رہنما نہیں رہے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی مقبولیت کم و بیش یو پی تک محدود ہے۔ مودی نے عوام میں اپنے لیے جو جگہ بنائی، اس طرح کی مقبولیت کسی کو نہیں حاصل ہوئی۔ اس لیے بے جے پی کے پاس کوئی متبادل نہیں۔ آر ایس ایس کے پاس بھی کوئی راستہ نہیں۔ ان کو بھی مودی کے ساتھ چلنا پڑے گا۔‘
تاہم آرتی کا کہنا ہے کہ مودی کی قیادت نے بی جے پی کی مستقبل کی قیادت کے لیے مشکلیں بھی پیدا کی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جو بی جے پی واجپئی اور اڈوانی کی تھی، اس میں بہت سارے ثانوی اور علاقائی رہنماؤں کو آگے بڑھایا جاتا تھا۔ ان کی پذیرائی کی جاتی تھی اور انھیں اعلی درجے کا رہنما بنایا جاتا تھا۔ مودی بھی اسی دور کی پیداوار ہیں۔ لیکن جب سے مودی آئے ہیں وہ سیاست میں واجپائی اور اڈوانی کی اس ڈگر سے ہٹ گئے۔ انھوں نے سیکنڈ جنریشن کی لیڈر شپ کو فروغ نہیں دیا۔ ان کا طرز بہت حد تک اندرا گاندھی کی شخصی قیادت جیسا ہو گیا۔ لہذا اب مودی ایک ایسا بڑا درخت بن چکے ہیں جس کے نیچے کوئی دوسرا پیڑ نہیں اُگ سکتا۔
لیکن اسکے باوجود بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی اپنا سیاسی عروج دیکھ چکے ہیں اور اب سیاسی طور پر پہلے کے مقابلے کمزور ہیں۔ انکے مطابق آنے والے مہینوں میں بہار اور بنگال اسمبلی کے انتخابات کے نتائج کا مودی کے سیاسی مستقبل پر براہ راست اثر پڑے گا۔
