عمران کا جیل میں Nokia 3300 موبائل استعمال کرنے کا انکشاف

قیدی نمبر 804 عمران خان کی جانب سے دوران قید جیل سے مختلف لوگوں سے رابطے کیلئے محفوظ ترین موبائل فون نوکیا 3300 استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف کے چیف منصوبہ ساز جنرل فیض حمید کی گرفتاری کے بعد خبریں سامنے آئی تھیں کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل محمد اکرم کے ذریعے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جس موبائل فون پر بات کرتے تھے سیکیورٹی اداروں نے وہ بٹنوں والا موبائل فون برآمد کر لیا ہے۔ تاہم اب حکومت نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان جیل میں دنیا کا محفوظ ترین موبائل فون نوکیا 3300 استعمال کرتے ہیں۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اس حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان اور جنرل فیض حمید کا معاملہ زیادہ عرصہ معلق نہیں رہے گا، چند دنوں یا ہفتوں میں معاملات حتمی شکل اختیار کرلیں گے۔

خواجہ آصف نے کہا ’میں خود بھی جیل میں رہا ہوں وہاں انسان اکیلا ہوتا ہے، مگر عمران خان جیل میں اتنے اکیلے نہیں ہیں، وہ سارا دن میڈیا سے گفتگو کرتے ہیں، پرانا موبائل فون نوکیا 3300 بھی استعمال کرتے ہیں جو دنیا کا محفوظ ترین فون سمجھا جاتا ہے، ہمیں تو جیل میں گفتگو کیلئے کوئی نہیں ملتا تھا مشقتی سے ہی بات کرتے تھے‘۔وزیر دفاع نے کہا ’عمران خان میڈیا سے آئے دن گفتگو کرتے ہیں، ٹوئٹر پر ان کے بیانات چلتے ہیں، یہ سب ان کے خدشات ہیں، ظاہر ہے جو کچھ انہوں نے کیا ہوا ہے وہ سب ان کے دماغ میں بیٹھا ہوا ہے اس لیے وہ یہ اندازے لگا کر میڈیا کو بتاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں تو جیل میں ایسی کوئی سہولت میسر نہیں تھی کہ روز میڈیا سے بات کریں، ٹوئٹر بھی چلائیں اور اخباروں میں آرٹیکلز چپھوائیں۔‘

وزیر دفاع خواجہ آصف کے انکشاف کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عمران خان کے جیل میں  نوکیا 3300 موبائل فون کا استعمال زیر بحث ہے، اس پر سوشل میڈیا صارفین مختلف تبصرے کرتے دکھائی دیے۔

مدنی نامی صارف نے لکھا ’یہ کون سے وزیر دفاع ہیں،جو اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ نوکیا 3300 محفوظ ترین موبائل فون ہے۔ جناب دنیا بہت آگے نکل چکی ہے۔‘

تاہم ایک اور صارف شاہد فیاض نے لکھا ’ میں اس بات کی تائید کرتا ہوں کہ نوکیا 3300 کو پکڑنا مشکل ہے میرا جن دنوں جرمنی میں موبائل بزنس تھا وہاں اکثر روسی مافیاز کے لوگ آ کر 3210 یا 3300 موبائل مانگا کرتے تھے۔‘

دوسری جانب اگر نوکیا 3300 موبائل فون کا ذکر کیا جائے تو ویب سائٹ جی ایس ایم ایرینا کے مطابق یہ فون سال 2003 میں لانچ کیا گیا تھا، اس میں سیمبین ایس 30 کا آپریٹنگ سسٹم چلتا تھا۔ اس فون کو میوزک پلیئنگ فون کے طور پر مارکیٹ کیا گیا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ آیا سیمبین فونز ٹریس کیے جا سکتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق سیمبین فونز کو ٹریس کرنے میں مشکل ضرور پیش آسکتی ہے مگر یہ ناممکن ہرگز نہیں ہے۔سیمبین فونز بنیادی فیچر فونز ہوتے ہیں جن میں جدید سمارٹ فونز کی طرح کنیکٹیویٹی یا ٹریکنگ کی صلاحیتیں نہیں ہوتیں۔ تاہم، یہ مکمل طور پر ناقابل شناخت نہیں ہیں۔میٹا اے آئی کے مطابق سیمبین فونز کے مقام کا اندازہ لگانے کے لیے سیل فون ٹاور کا ڈیٹا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فون کے آئی ایم ای آئی نمبر کو ڈیوائس کی شناخت اور ٹریک کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فون سے کی گئی کالز اور ٹیکسٹ کے ریکارڈز بھی نیٹ ورک کمپنی سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

Back to top button