اسلام آباد میں بغیر اجازت جلسہ کرنے پر 3 سال قید کا قانون تیار

حکومت نے مختلف سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کے نام پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو یرغمال بنانے کا سلسلہ بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سینیٹ نے اتحادی حکومت کی جانب سے پیش کردہ اسلام آباد میں بغیر اجازت جلسے، جلوس کے انعقاد اور شرکت پر تین سالہ قید کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے تاہم دوسری جانب ناقدین اس بل کے غلط استعمال کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سینیٹ میں یہ بل ایسے وقت لایا گیا ہے جب پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور وہ مختلف وجوہات کی بنا پر پانچ بار جلسہ ملتوی کر چکی ہے۔ تاہم اب پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے ترنول چوک پر آٹھ ستمبر کو ہر حال میں جلسہ ہو گا جس کے لیے وہ پہلے ہی مقامی انتظامیہ سے اجازت نامہ حاصل کر چکی ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد میں جلسے سے متعلق پیش کردہ بل کے متن کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں جلسہ کرنے سے سات روز قبل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو تحریری درخواست دینا ہو گا اور جلسے کی وجوہات اور اس کے دورانیے کا بھی بتانا ہو گا۔بل کے متن کے مطابق جلسے کی جائز وجوہات نہ دینے پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جلسے کی اجازت نہیں دے گا اور اجازت نہ دینے کی تحریری وجوہات بھی دے گا۔سینیٹ میں پیش کردہ بل میں یہ شق بھی شامل ہے کہ حکومت اسلام آباد کے کسی مخصوص علاقے کو ریڈ زون یا ہائی سیکیورٹی زون قرار دے سکتی ہے جہاں جلسے کی ممانعت ہو گی۔بل کے کے متن کے مطابق اگر مجسٹریٹ جلسے کی اجازت نہ دے تو اس فیصلے کے خلاف کمشنر اسلام آباد کے پاس اپیل کی جا سکے گی۔ اگر کمشنر بھی درخواست مسترد کردے تو اس صورت میں سیکریٹری داخلہ سے رجوع کرنا ہو گا۔بل میں مجسٹریٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی صورت میں تین سال تک قید اور جرمانے کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تین سال سزا پانے والے شخص کو دوبارہ خلاف ورزی کرنے پر دس سال تک قید کی سزا کی تجویز بھی بل میں شامل ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مذکورہ بل کے قانون بننے کی صورت میں اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت لینے کے عمل میں ہی ایک سے ڈیڑھ ماہ لگ جائے گا، یہی نہیں جلسے کی اجازت دینے یا نہ دینے کا معاملہ پھر بھی حکومت کی صوابدید ہی ہو گا۔ناقدین کے مطابق بل کے تحت جلسے کی اجازت لینے کے لیے تین فورم تخلیق کیے گئے ہیں اور سیاسی جماعتیں ان فورمز سے رجوع کرنے سے قبل عدالت نہیں جا پائیں گی۔

حکومتی بل کے حوالے سے تجزیہ کار نصرت جاوید کہتے ہیں اسلام آباد میں آئے روز ہونے والے جلسے جلوسوں کی وجہ سے شہر کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا جاتا ہے جس سے شہریوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ البتہ جلسوں کی اجازت سے متعلق بل قانون بنا تو اس کے غلط استعمال کا خدشہ بہرحال موجود رہے گا۔ بل کی منظوری کے بعد سیاسی جماعتوں کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان ایچ آر سی پی نے اس بل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ سینیٹ میں پیش کردہ بل سے ضلعی مجسٹریٹ کو امن و امان کی بنیاد پر عوامی اجتماعات پر پابندی کا اختیار مل جائے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ عوامی اجتماعات کو سخت گیر ضابطے میں لانے کی غرض سے لایا جانے والا مسودۂ قانون دستور کے آرٹیکل 16 کے تحت عوام کے پُر امن اجتماع کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ایچ آر سی پی نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ اگر مذکورہ بل پارلیمان سے منظور ہو گیا تو یہ عوام کو متحرک کرنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ایچ آر سی پی نے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف سے اِس مسودہ قانون کو رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

البتہ وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ مذکورہ بل مناسب ہے جس کے تحت جلسے کی جگہ مختص ہو گی۔ان کے بقول اسلام آباد میں جس کا دل کرے کہیں بھی آ کر جلسے جلوس کر دیتا ہے۔ اس لیے جلسے جلوسوں سے لوگوں کی زندگی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

Back to top button