کپتان نے ‘اگر مجھے نکالا’ کی دھمکی اپوزیشن کو دی یا فوج کو؟

تجزیہ: عامر میر
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقتدار سے نکالے جانے کی صورت میں مزید خطرناک ہو جانے اور سڑکوں پر نکل آنے کی دھمکی کے بعد ایک کھلبلی مچ گئی ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ دھمکی انہوں نے اپوزیشن کو دی ہے یا فوجی اسٹیبلشمنٹ کو؟ حکومتی حلقوں کا اصرار ہے کہ عمران خان نے یہ دھمکی اپوزیشن کو دی ہے جبکہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ عمران نے اسٹیبلشمنٹ کو دھمکایا ہے۔

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے دھمکی دیتے ہوئے جان بوجھ کر یہ کنفیوژن برقرار رکھی ہے کہ وہ کس سے مخاطب ہیں۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کی تازہ دھمکی اپنے ترجمانوں سے حالیہ گفتگو کا تسلسل ہے جس میں انہوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ نواز شریف کو ملک واپس لاکر چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بنانے کی سازش کی جارہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان میں سازش ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے جبکہ اپوزیشن اس کا فائدہ اٹھاتی ہے اس لیے عمران خان کی تازہ دھمکی بھی اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرکے دی گئی ہے۔

عمران خان نے اتوار کو پی ٹی وی پر عوام کے سوالات کا براہ راست جواب دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر وہ اقتدار سے باہر نکل کر سڑکوں پر آ گئے تو وہ اور بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔ عمران کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘ابھی تک تو میں چپ کر کے پرائم منسٹر آفس میں بیٹھا ہوتا ہوں، یا تماشے دیکھ رہا ہوتا ہوں، لیکن اگر میں سڑکوں پر نکل آیا تو آپ لوگوں کے لیے چھپنے کی جگہ نہیں ہو گی۔عمران نے یہ بھی کہا کہ وہ نہ صرف اپنی موجودہ مدت پوری کریں گے بلکہ آئندہ بھی وزیراعظم بنیں گے اور مدت بھی پوری کریں گے۔

یاد رہے کہ عمران سے عوام کے سوالات اور جوابات کا پروگرام ایسے وقت میں ہوا ہے جب پچھلے دنوں پارٹی اجلاس کے دوران وزیرِ دفاع پرویز خٹک وزیراعظم کے ساتھ سیدھے گئے اور کہا کہ اگر آپ کا رویہ نہ بدلا تو ہم ائیندہ آپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔ دوسری جانب حزبِ اختلاف پارلیمینٹ میں ان ہاؤس چینج کے لئے تحریک عدم اعتماد لانے اور لانگ مارچ کی تیاریوں کا عندیہ دے رہی ہے۔ عمران کی جانب سے ’آپ کا وزیرِاعظم آپ کے ساتھ‘ کے نام سے عوام سے براہ راست گفتگو کرنے کا یہ معمول نیا نہیں ہے تاہم اس مرتبہ یہ نشست ایک عرصے کے بعد لگائی گئی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ سوالات کے جواب پارلیمان میں دینا چاہتے ہیں لیکن انھیں حزبِ اختلاف کی جانب سے وہاں پر بولنے نہیں دیا جاتا۔

ادھر مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے عمران کو ایک ٹویٹ میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘آپ کی دھمکیاں کہ اقتدار سے نکالا گیا تو مزید خطرناک ہو جاؤں گا، گیدڑ بھبکیوں کے سوا کچھ نہیں۔ جس دن آپ اقتدار سے نکلے، عوام شکرانے کے نفل پڑھیں گے۔ نہ آپ نواز شریف ہیں جس کے پیچھے عوام کھڑی تھی نہ ہی آپ بیچارے اور مظلوم ہیں۔ آپ سازشی ہیں اور مکافات عمل کا شکار ہوئے۔

اس سے۔پہلے عمران خان نے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘اگر میں اقتدار سے باہر نکل گیا تو میں آپ کے لیے زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔‘ شہری کی طرف سے سوال پوچھا گیا تھا کہ اپوزیشن لانگ مارچ کا منصوبہ رکھتی ہے، تو کیا عمران اس بارے میں پریشان ہیں؟ جواب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘جب سے میں اقتدار میں آیا ہوں، کبھی کوئی سیاست دان کہتا ہے کہ اب گئی حکومت اور کبھی دوسرا یہ بات کرتا ہے۔ یہ پبلک کو باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام کو یا تو ذوالفقار علی بھٹو نے نکالا، یا وہ میرے ساتھ نکلے۔ وہ انگریزی کا محاورا ہے کہ اب ہر وقت تمام لوگوں کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ہاں مہنگائی ہے، عوام تنگ ہیں لیکن وہ آپ کے ساتھ باہر نہیں نکلیں گے۔ میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت یہ مدت بھی پوری کرے گی اور اگلی بھی مدت کر ے گی۔ ہم اتنے مشکل وقت سے نکلے ہیں، کسی حکومت کو وہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو ہمیں کرنا پڑا ہے۔

بھارت میں نفرت کی آگ بھڑک رہی ہے

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری جماعت نہ صرف یہ مدت پوری کرے گی بلکہ آئندہ مدت بھی پوری کرے گی اور میں خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر میں اقتدار سے باہر نکل گیا تو آپ کے لیے اور بھی زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اتوار کے روز تقریبا ہر معاملے پر متضاد گفتگو کی اور کنفیوژڈ نظر آئے۔ انہوں نے پہلے کہا کہ میں راتوں کو اٹھ کر سوچتا ہوں کیونکہ مہنگائی نے مجھے پریشان کررکھا ہے۔

پھر کہا مہنگائی پوری دنیا میں ہے اور حکومت کی کارکردگی بہترین ہے جسے میڈیا نہیں دکھاتا۔ ناقدین کے بقول اگر حکومت کی کارکردگی بہترین ہے تو پھر وزیر اعظم مہنگائی سے پریشان کیوں ہیں؟ معیشت دان وزیراعظم کی انوکھی منطق پر پریشان تو ضرور ہوں گے۔ دوسرا تضادعمران خان کے اس دعوے میں نظر آتا ہے کہ ہماری حکومت کہیں نہیں جارہی اور ہم موجودہ کے علاوہ اگلا اقتدار بھی پورا کریں گے۔

پھر انہوں نے کہا کہ اگر مجھے اقتدار سے نکالا گیا تو میں زیادہ خطرناک ثابت ہوں گا اور سڑکوں پر نکل آؤں گا۔
ناقدین سوال کرتے ہیں کہ اگر انکی حکومت نہیں جارہی تو پھر حکومت جانے پر زیادہ خطرناک ہونے کی دھمکی کی دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اگر انکی حکومت باقی رہنی ہے تو پھر خان صاحب ‘اگر مجھے نکالا’ والی دھمکی کیوں دے رہے ہیں؟

سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ دھمکی اپوزیشن کی آڑ میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو تو نہیں دی جا رہی جن کے ساتھ ان کے تعلقات نئے آئی ایس آئی چیف کی تقرری کے معاملے پر کافی خراب ہو چکے ہیں؟ سوال یہ بھی یے کہ پھر وزیراعظم کا یہ جملہ کہ ابھی تو میں آفس میں بیٹھ کر تماشے دیکھتا رہتا ہوں، کس کے لیے ہے۔ اپوزیشن سے تو وہ بہت عرصے سے سختی کررہے ہیں، پھر وہ کون ہے جسے خان صاحب برداشت کر رہے ہیں اور اب تک اسکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی؟

Back to top button