عمران خان نے کس کے کہنے پر نواز شریف کو باہر بھیجا؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نواز شریف کو علاج کے بہانے فرار ہونے کے طعنے دینے والے عمران خان کا یہ الزام تب بھک سے اڑ گیا جب ان کے قریبی ساتھی اسد عمر نے انکشاف کیا کہ میاں صاحب کو باہر بھیجنے کا فیصلہ سو فیصد عمران خان کا اپنا تھا۔ اسد عمر نے کہا کہ جب نواز شریف خو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تو وہ کمرے میں موجود پی ٹی آئی کے 6 سے 8 سینئر رہنماؤں میں سے ایک تھے۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سابق وزیر اعظم کو لندن جانے کی اجازت دینے کے بارے میں اختلاف رائے تھا لیکن جب عمران نے فیصلہ کردیا تو سب خاموش ہو گئے۔

یوں سابق وزیراعظم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے فیصلے بارے متضاد دعووں اور ابہام پر مبنی قیاس آرائیوں کا طویل سلسلہ حکومت کے اہم وزیر نے اس انکشاف سے ختم کر دیا۔ انہوں نے یہ دعوی جیو ٹی وی کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں کیا۔ انکا کہنا تھا کہ نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے فیصلے بارے وفاقی کابینہ کے ارکان کی رائے منقسم تھی لیکن حتمی فیصلہ خود وزیر اعظم کا ہی تھا۔ اس حوالے سے کچھ ملی جلی اور متنازعہ خبریں پہلے بھی سامنے آئیں تھیں لیکن ان کی صداقت قدرے متنازعہ تھی تاہم اسد عمر نے یہ انکشاف ایک عینی شاہد کے طور پر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ تب وزیراعظم کے بعض رفقا کے ہمراہ اس کمرے میں موجود تھے جہاں کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم نے یہ اعلان کیا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے عمران خان مسلسل پوائنٹ سکورنگ کے لئے یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ نواز شریف علاج کے بہانے ملک سے فرار ہوئے لہذا اب انہیں برطانوی حکام کے ذریعے واپس لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

تاہم اسد عمر نے کہا کہ اب وزیر اعظم کو یقین ہے کہ وہ میڈیکل رپورٹس جنکی بنیاد پر نواز شریف کو علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جھوٹی تھیں۔ پروگرام کے میزبان شہزاد اقبال نے نشاندہی کی کہ عمران خان عدلیہ پر نواز شریف کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت دینے کا الزام عائد کرتے ہیں، اس کے بعد انہوں نے اسد عمر سے پوچھا کہ نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک روانہ ہونے کی اجازت دینے کا فیصلہ کس کا تھا؟ جواب میں تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے کہا کہ یہ فیصلہ سوفیصد عمران خان کا اپنا تھا۔

بعد ازاں اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ انہوں نے یہ تبصرہ اس سوال کے تناظر میں کیا جو پوچھا جا رہا تھا یعنی کیا نواز شریف کو ملک چھوڑنے کی اجازت حکومت نے دی تھی یا کسی اور نے۔ انہوں نے کہا کہ ‘اس سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ حکومت اپنے فیصلے خود کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہے اور نواز شریف کو بھیجنے کا فیصلہ صرف اور صرف وزیراعظم نے کیا ہے۔

کرونا سے مزید 8 افراد جاں‌ بحق، اسلام آباد میں 62 سکول بند

خیال رہے کہ نواز شریف کو نومبر 2019 میں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ تب وہ وہ کرپشن کے الزامات پر لاہور کی ایک جیل میں قید کاٹ رہے تھے۔ ماضی میں وزیراعظم عمران خان اور ان کے معاونین نے کئی مرتبہ یہ کہتے ہوئے اپنے فیصلے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ حکومت نے ‘حقیقی میڈیکل رپورٹس’ کی بنیاد پر انہیں علاج کے لیے جانے کی اجازت دی تھی کیونکہ اس پر عدلیہ کا دباو تھا۔

روانگی سے قبل جب نواز شریف لاہور کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے، تو وزیر اعظم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے خفیہ طور پر طبی ماہرین کو ان کی صحت بارے چیک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور پوری تسلی کے بعد انہیں علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت دی۔

اسد عمر نے یہ بھی بتایا کہ وہ ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے نواز شریف کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کے فیصلے کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل سلطان اور دیگر طبی ماہرین نے بھی نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس دیکھی اور انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا مشورہ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ طبی ماہرین کا خیال تھا کہ ’ممکنہ طور پر‘ نواز شریف کو کچھ نہیں ہوگا لیکن میڈیکل رپورٹس بتاتی تھیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اسد عمر نے دعویٰ کیا کہ نواز کی میڈیکل ہسٹری کے پیش نظر اور ان کی نئی بیماری کے ساتھ حکومت سیاسی انتقام کی وجہ سے نواز شریف کو علاج سے روکنے کا کوئی الزام قبول کرنے کو تیار نہیں تھی۔

اسد عمر کے دو ٹوک لفظوں میں اس انکشاف کے بعد سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے مختلف پہلوئوں پر بحث شروع ہو گئی ہے جس میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ کیا واقعی نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کسی ڈیل کا نتیجہ تھی جس میں عمران خان کی رضامندی بھی شامل تھی؟ اگر ایسا ہے تو پھر ڈیل میں شامل لوگوں کے نام سامنے لائے جائیں اور عمران خان آئندہ یہ الزام لگانا بھی چھوڑ دیں کہ میاں نواز شریف علاج کے بہانے ملک سے فرار ہوئے۔

Back to top button