عمرانڈو ISI چیف  فیض حمید کون کونسی گھناؤنی وارداتیں کرتا رہا ؟

بطور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بدنامیاں سمیٹنے اور نفرت کی علامت بننے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا دور پاکستانی سیاست میں کھلی مداخلت کرنے، ججز پر دباؤ ڈالنے اور صحافیوں کو اغوا کروانے اور انہیں گولیاں مروانے جیسے افسوس ناک واقعات کی وجہ سے متنازعہ ترین ادوار میں شمار کیا جائے گا۔ جیسا کرو گے، ویسا بھرو کے قانون قدرت کے تحت اب فیض حمید کے کورٹ مارشل کا فیصلہ ہو چکا ہے اور انہیں گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ فیض حمید سے پہلے دو سابق ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا اور ظہیر الاسلام کے ادوار کو بھی متنازعہ ترین خیال کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے ذاتی ایجنڈے کے تحت فوج کے ادارے کو بری طرح سیاست میں ملوث کر دیا۔ یاد ریے کہ فیض حمید کے دور میں فوج کے سیاسی کردار پر تنقید کرنے والے ابصار عالم کو گولیاں ماری گئیں، مطیع اللہ جان کو اغوا کیا گیا اور عامر میر کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح فیض حمید کے استاد سابق آئی ایس آئی چیف احمد شجاع پاشا کے دور میں سینئیر صحافی سلیم شہزاد کو بے رحمی سے قتل کیا گیا لیکن ان کے قاتل کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہو سکی۔ ایک اور آئی ایس آئی چیف ظہیر الاسلام کے دور میں سینئیر صحافی حامد میر کو کراچی میں 6 گولیاں ماری گئیں۔ اس حملے کا الزام عامر میر نے لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام پر عائد کیا تھا لیکن اس واقعے کی تحقیقات کرنے والا سپریم کورٹ کا تین رکنی کمیشن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔

جنرل فیض حمید کے کالے کرتوت جو اُن کے زوال کا سبب بنے؟

یاد رہے کہ عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کا خواب احمد شجاع پاشا نے دیکھا تھا جسے آگے بڑھانے کا مشن ظہیرالاسلام کے ذمہ لگا اور پھر جنرل قمر باجوہ کے ہاتھوں فیض حمید کے دور میں اسکی تعبیر ہوئی۔ لیکن افسوس کہ عمران خان کا اقتدار پاکستانی عوام کے لیے ایک بھیانک خواب ثابت ہوا۔ وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان نے فیض حمید کو اگلا آرمی چیف بنانے کا خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر نہ ہو سکی اور جنرل عاصم منیر نے نیا فوجی سربراہ بن کر ان کا یہ خواب چکنا چور کر دیا۔ اس سے پہلے بطور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹا کر کور کمانڈر پشاور بنانے کا بنیادی مقصد انہیں آرمی چیف کے عہدے کا اہل بنانا تھا کیونکہ فوج کا سربراہ بننے کے لئے کوئہ کور کمانڈ کرنا لازمی ہوتا ہے جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں کی تھی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ لائی جاتی اور انہیں فارغ نہ کیا جاتا تو آج جنرل فیض حمید پاکستانی فوج کے سربراہ ہوتے اور خان صاحب بدستور وزارت عظمی پر فائز ہوتے۔ یہی وجہ تھی کہ جب عاصم منیر کو آرمی چیف لگانے کی خبر باہر نکلی تو عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کا ساتھ دیتے ہوئے کھل کر ان کی تقرری کی مخالفت کی تھی۔ فیض حمید کے کورٹ مارشل کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے باوجود سیاسی سرگرمیوں میں ملوث رہے اور عمران خان کا ایجنڈا بڑھانے کی خاطر ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسران کے ساتھ مل کر آرمی چیف کے خلاف سازش میں مصروف رہے۔

بطور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا دور اس لئے سیاہ ترین سمجھا جاتا یے کہ سمجھا جاتا ہے کہ اس دوران طاقتور ترین خفیہ ایجنسی بالکل بھی خفیہ نہ رہی اور اپما اصل کام چھوڑ کر ہر معاملے میں کھل کر سامنے آگئی، چاہے وہ سیاست میں مداخلت ہو، عدالتوں سے من مرضی کے فیصلے لینا ہو یا اسٹیبلشمنٹ مخالف صحافیوں کو سبق سکھانا ہو۔ چنانچہ الزام لگایا جاتا ہے کہ عمران دور میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف نیب کی کارروائیوں میں ایجنسی بھی پورا حصہ ڈالتی رہی۔ اسکے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی میں بھی فیض حمید کا مرکزی کردار تھا۔ یاد رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جون 2018 میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ فیض نے مریم نواز اور نواز شریف کے خلاف فیصلے دینے کے عوض انھیں وقت سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنوانے کی پیشکش کی تھی۔ جسٹس شوکت صدیقی نے یہ الزام راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لگایا تھا جس کا حتمی نتیجہ ان کی بطور جج برطرفی کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ اپنی برطرفی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے جسٹس شوکت صدیقی نے الزام لگایا تھا کہ فیض حمید کی بات نہ ماننے پر ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی اور پھر جستس ثاقب نثار نے انہیں برطرف کردیا۔

یاد رہے کہ بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے فیض حمید کو اپریل 2019 میں میجر جنرل کے عہدے سے ترقی دے کر لیفٹنٹ جنرل بنایا گیا تھا۔ وہ اس سے پہلے آئی ایس آئی میں انٹرنل سکیورٹی کے شعبے کے سربراہ تھے۔ میجر جنرل فیض حمید کا نام تب ابھر کر سامنے آیا جب نواز شریف دور میں تحریک لبیک ختمِ نبوت کے حلف نامے میں تبدیلیوں پر احتجاج کر رہی تھی۔ نومبر 2017 میں شروع ہونے والا یہ احتجاج کئی دن جاری رہا اور آخر میں وزیر قانون زاہد حامد کو مستعفی ہونا پڑا۔ احتجاج ختم کروانے کیلئے تحریکِ لبیک اور وفاقی حکومت کے مابین فوج کی معاونت سے ایک معاہدہ طے پایا تھا جس پر آئی ایس آئی کے میجر جنرل فیض حمید کے دستخط موجود تھے۔ فیض کی اس حرکت پر سخت عوامی تنقید کی گئی تھی  اور یہ الزام لگایا گیا تھا کہ موصوف نے یہ دھرنا خود کروایا تھا تاکہ حکومت کو کمزور کیا جا سکے۔

فیض آباد دھرنے کے حوالے سے فوج کے کردار پر سپریم کورٹ نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل فیض حمید کیسے دھرنے والوں سے معاہدہ کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے پر از خود نوٹس لیا۔ جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دھرنے پر فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو حکم دیا تھق کہ وہ ایسے فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف وزری کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ عدالت نے آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو کے علاوہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کریں۔ تاہم فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے اپریل 2019 میں میجر جنرل فیض حمید کو لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی۔ اس پروموشن کی ٹائمنگ بہت معنی خیز تھی اور اسے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ کے لیے ایک واضح پیغام سے تعبیر کیا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ڈی جی آئی ایس آئی بننے کے بعد فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ لکھنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں نااہلی کا ریفرنس دائر کردیا گیا۔ تب عدالتی حلقوں میں یہ تاثر عام تھا کہ طاقتور حلقے فیض آباد دھرنا کیس کے عدالتی فیصلے سے خوش نہیں تھے۔ تاہم فیض حمید کو تب سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب سپریم جوڈیشل کونسل نے قاضی فائز عیسی کے خلاف نا اہلی ریفرنس مسترد کر دیا۔ اس ریفرنس کا مقصد فائز عیسی کو اگلا چیف جسٹس بننے سے روکنا تھا لیکن فیض اس مشن میں کامیاب نہ ہو سکا اور پھر خود ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سکینڈل میں سپریم کورٹ کے شکنجے اگیا جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا ہے اور کورٹ مارشل کے عمل کا اغاز ہو گیا ہے۔

Back to top button