اسٹیبلشمنٹ سے جنگ میں عمران کی شکست یقینی کیوں ہے؟
معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ عمران خان کو قریب سے جاننے والوں کے مطابق اپنی مقبولیت کے نشے سے سرشار خان صاحب اب اپنے فوج مخالف بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کے حلقے کہتے ہیں کہ فوج کے ذاتی اور ادارہ جاتی سٹیک اتنے بڑھ چکے ہیں کہ اب خان کے ساتھ مزید نرم سلوک کی گنجائش باقی نہیں بچی۔ چنانچہ اب اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان تصادم کی فضا گہری ہوتی چلی جا رہی ہے جس کے شواہد تیزی سے سامنے آرہے ہیں۔ لیکن بالآخر اس جنگ میں آخری جیت اسٹیبلشمنٹ کی ہی ہوگی۔
ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز کے لیے اپنے تازہ اداریے میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ عمران خان کا شکریہ، کیونکہ اُن کے چیف آف سٹاف، شہباز گل کا بغاوت کیس ابھی تک شہ سرخیوں میں ہے۔ اس دوران پریشان کن سچائیوں اور جھوٹوں کی پٹاری بھی کھل رہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ عمران کو خوف ہے کہ شہباز گل کہیں پی ٹی آئی کی فوج مخالف مہم میں اُن کے اپنے کردار کو بے نقاب نہ کر دیں۔ فوج کے افسران اور جوان اس مہم کی وجہ سے مشتعل ہیں۔ حالیہ سوشل میڈیا کریک ڈاؤن کی وجہ بھی یہی ہے۔ درحقیقت تحریک انصاف کے حلقوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ اگر شہباز گل کے سر پر کورٹ مارشل کی تلوار لٹکنے لگتی ہے تو وہ کہیں خوف کے مارے عمران کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہ بن جائیں، بالکل ویسے ہی جیسے 1978 میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قتل کیس میں تب کی وفاقی سکیورٹی فورس کے سربراہ، مسعود محمود وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اسی لیے پہلے پانچ روز خاموشی اختیار کرنے کے بعد عمران خان نے اچانک شہباز گل کی رہائی کے لیے طوفانی پراپیگنڈا مہم شروع کر دی۔ اُنھوں نے الزام لگایا کہ اُن کے چیف آف سٹاف کو وحشیانہ تشدد اور ”جنسی زیادتی“ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف اُن کی اپنی پنجاب حکومت کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ قیدی کو کوئی گزند نہیں پہنچی۔ نیز پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن، اسلام آباد کے چوٹی کے ڈاکٹروں پر مشتمل پینل نے تصدیق کی ہے کہ اُن پر تشدد کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اور یہ کہ وہ صرف ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر لڑکھڑائے ہیں۔ ابھی تک خود شہباز گل نے بھی اپنے ساتھ جنسی زیادتی کا کوئی الزام عائد نہیں کیا۔
اس سے پہلے عمران خان نے پنجاب حکومت کو ”حکم“ دیا تھا کہ شہباز گل کو اڈیالہ جیل، پنجاب سے اسلام آباد پولیس کے حوالے نہ کرنے دیا جائے۔ لیکن یہ حکم عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہوتا جس کی پاداش میں وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پی، آئی جی پی جیل خانہ جات، ڈی آئی جی اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل پر توہین عدالت لگ جاتی۔ چنانچہ جب وفاقی حکومت نے گل کو اڈیالہ جیل سے لانے کے لیے رینجرز بھیجی تو عمران خان نرم پڑ گئے۔ جب خان کے شہباز گل کی رہائی کے لئے تمام حربے ناکام ہوگئے تو وہ ایک بکتر بند کار میں سوار ہو کر پمز ہسپتال کی طرف لپکے۔ تحریک انصاف کے حامی چیختے چلاتے اُن کے پیچھے تھے۔ اُنھوں نے ہسپتال پر ہلا بولنے کی کوشش کی لیکن ڈیوٹی پر موجود پولیس سکیورٹی نے ایک بار پھر اُنھیں ناکام بنا دیا۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ کہ تحریک انصاف نے پی ڈی ایم کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے بھی یہ مہم شروع کر رکھی ہے کہ انھوں نے بھی تو ایسے ہی سخت بیانات دیے تھے لیکن انھیں سزا نہیں دی گئی۔ وہ پوچھتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے رہنماؤں نواز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، خواجہ آصف، مریم نواز وغیرہ پر ایسے ہی جرم کا پرچہ کیوں نہیں جب اُنھوں نے ماضی میں فوجی اسٹبلشمنٹ پر ایسی ہی تنقید کی تھی؟ لیکن نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ان تمام رہنماؤں کا جرم شہباز گل کے جرم سے مختلف تھا کیونکہ دونوں الزامات میں کوئی مماثلت نہیں۔ پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے یقیناً اسٹبلشمنٹ کی جانبداری اور سیاست میں غیر آئینی سیاسی مداخلت کو ہدف تنقید بنایا تھا۔ لیکن اُنھوں نے کبھی فوجی صفوں میں رینکس کا ذکر کر کے بغاوت کی چنگاری بھڑکانے کی کوشش نہیں کی تھی جیسے عمران خان، شہباز گل اور تحریک انصاف کے میڈیا کارکنوں نے کی ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے کررہے ہیں۔
اقتدار کی ہوس میں اسلام کا لبادہ اوڑھنے والے عمران خان
سیٹھی کہتے ہیں کہ پولیس افسران پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ اپنی ہائی کمان کے شیطانی احکامات کو نہ مانیں اور اچھائی یعنی تحریک انصاف کا ساتھ دیں۔ درحقیقت عمران خان کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف شکایت یہ نہیں ہے کہ اس نے سولین اختیار کے دائرے میں پاؤں کیوں رکھا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس نے اُن کی حمایت کیوں نہیں کی ہے۔ عمران نے بار ہا گرجتے ہوئے کہا ہے کہ ”غیر جانبدار“ تو جانور ہوتے ہیں۔ یوٹرن کو سیاست میں رواج دینے والے خان کا اصرار ہے کہ فوجی قیادت اپنا نیا موقف تبدیل کرکے میرا ساتھ دے، کیونکہ اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔
اب عمران نے پی ڈی ایم کی سویلین حکومت کو شہباز گل کے خلاف کیس سے بری الذمہ قرار دیتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ پر الزام لگا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ اقتدار میں تھے تو اس وقت بھی صحافیوں اور سوشل میڈیا کارکنوں کے ”غائب“ہو جانے کے پیچھے ہر جگہ موجود، خود کو قانون سے ماورا سمجھنے والی فوجی ایجنسیوں کا ہاتھ تھا۔ بقول نجم سیٹھی، یہ اس فوجی اسٹیبلشمنٹ پر بھیانک فرد جرم ہے جس نے خان صاحب کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر اقتدار میں پہنچایا اور چار سال تک سہارا دیے رکھا۔ بقول چوہدری پرویز الٰہی، فوج تو عمران خان کے گندے ڈائیپر بھی تبدیل کرتی رہی ہے۔
اب الیکشن کمیشن میں اپنے خلاف دائر کردہ نااہلی کیس کی سماعت شروع ہونے کے بعد عمران خان نے چیف الیکشن کمیشن، سکندر سلطان راجہ کی غیر جانبداری اور دیانتداری پر بھی ذاتی حملے کرنا شروع کردیے ہیں۔ اب وہ کہہ رہے کہ اُن کی حکومت نے موجودہ چیف الیکشن کمیشن کی نامزدگی اسٹیبلشمنٹ کے مشورے پر کی تھی۔ چنانچہ یہ بات قابل فہم ہے کہ اُنھیں توہین کے الزامات پر طلب کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں ان کے ”شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار“ فواد چودھری جیسے سابق وزیروں اور مشیروں سے بھی باز پرس ہوگی۔ نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ماضی میں دست بستہ معذرت سے شرفا اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوجاتے تھے لیکن اب عمران نے مختلف سرکاری ایجنسیوں اور محکموں کی طرف سے تحقیقات اور انکوائری کے لیے طلبی کو نظر انداز کرنے اور پیش ہونے سے انکار کی روش ہی اپنا لی ہے۔ اُنھیں غیر قانونی اقدامات اور قانون سے انحراف جیسے اقدامات کا جواب دینے کے لیے طلب کیا جارہا ہے۔ یہ بھی دلیل دی جاتی ہے کہ عمران خان کے خلاف نااہلی کا کیس الیکشن کمیشن میں زیر التوا ہے جو ایک ماہ میں اپنے منطقی انجام تک پہنچنا ہے۔ اگر عمران خان کو سزا ہوجاتی ہے تو وہ ممکنہ طور پر پوری توانائی میدان میں جھونک دیں گے۔ وہ سر پر لٹکنے والی اس تلوار سے آگاہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اُن کی بے قراری بڑھتی جارہی ہے۔
عمران خان کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مقبولیت کے نشے سے سرشار ہیں، اور وہ اپنے فوج مخالف بیانیے سے اب پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اسی طرح اسٹبلشمنٹ کے ادا شناس کہتے ہیں کہ ذاتی اور ادارہ جاتی اسٹیک اتنے بڑھ چکے ہیں کہ اب نرم سلوک کی گنجائش نہیں بچی۔ اس طرح اسٹبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان تصادم کی فضا گہری ہوتی جارہی ہے۔ جب عمران خان کو اقتدار سے نکالا گیا تو تب اپنی نکمی کارکردگی کی وجہ سے اُن کی مقبولیت کا گراف پست ترین تھا۔ اگر پی ڈی ایم حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام پر دستخط کرکے پاکستانیوں کے لیے مشکلات بڑھائے بغیر انتخابات کی طرف چلی جاتی تو مسلم لیگ ن بہت آرام سے حکومت بناسکتی تھی۔ لیکن مسلسل مشکل اور غیر مقبول فیصلے کرتے ہوئے اس کی مقبولیت کوبتدریج زک پہنچی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی مزاحمت نے اس کی مردہ رگوں میں ایک بار پھر زندگی کا لہو دوڑا دیا ہے۔ لیکن جب وقت گزرنے کے ساتھ معیشت میں بہتری آتی جائے گی اور عمران کے حامیوں کے جذبات پر مایوسی اور ناکامی کا غلبہ طاری ہونے لگے گا تو یہ توازن آسانی سے تبدیل ہو جائے گا۔ چنانچہ مزید عمل اور ردعمل کے لیے اس منظر نامے پر نگاہ رکھیں۔
