عمران جمائمہ سے شادی کے فوراً بعد سیاست میں کیوں اترے؟
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ عمران خان نے باقاعدہ منصوبے کے تحت کروڑ پتی یہودی سر گولڈ سمتھ کی بیٹی جمائما کے ساتھ شادی کے بعد پاکستانی سیاست میں اترنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اب اقتدار سے محرومی کے بعد وہ بیرونی سازش کا جھوٹا بیانیہ لے کر میدان میں اترے ہوئے ہیں، اس لئے بہتر ہوگا کہ تاریخی حقائق کی بنیاد پر عمران اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا جائے تاکہ عوام کو سچ تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے میزبان سلیم صافی کا کہنا تھا کہ میڈیا کے بھرپور استعمال کی مہارت حاصل کرنے کی وجہ سے عمران اپنا امپورٹڈ حکومت اور بیرونی سازش کا بیانیہ سادہ لوح عوام کو بیچنے کامیاب رہے ہیں حالانکہ یہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے اور اس نے فوج کا اپنا وقار بھی دائو پر لگا دیا ہے۔
سلیم صافی کا کہنا تھا کہ عمران خان میدان کرکٹ کے وہ کامیاب ترین کپتان ہیں جنکی سربراہی میں پاکستان نے 1992ء کا ورلڈ کپ جیتا لیکن موصوف نے کمال مہارت سے پوری ٹیم کی کاوش کو صرف اپنے نام کروا لیا اور اسی جیت کی بنیاد پر شوکت خانم ہسپتال کے لیے چندہ اکٹھا کرنے سڑکوں پر نکل آئے۔ لیکن جب موصوف نے ہسپتال بنا لیا تو انہوں نے اسی پلیٹ فارم کو سیاست میں آنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں جانتا ہوں کہ میں کوئی سیاست دان نہیں بن سکتا۔
سلیم صافی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جمائما گولڈ اسمتھ سے شادی کے کچھ عرصے بعد اچانک انہوں نے سیاست میں آنے کا پراسرار فیصلہ کیا۔ پھر پارٹی اور اس کا منشور بنانے میں انکی مدد آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل، محمدعلی درانی اور ڈاکٹر فاروق خان جیسے لوگوں نے کی۔ عمران نے کرپشن کے خلاف اور احتساب کے حق میں آواز اٹھائی تو حمید گل اور محمد علی درانی کے تحریک احتساب کے منشور کو اپنا منشور اور ان کے نعروں کو اپنا نعرہ بنالیا۔ تاہم جب وہ برطانیہ گئے اور گولڈ اسمتھ سے ملاقات کے بعد واپس آئے تو انہوں نے جنرل حمید گل کو خود سے دور کر دیا جس کے بعد محمد علی درانی اور ڈاکٹر فاروق خان خود ہی خان صاحب سے الگ ہو گئے۔ سلیم صافی نے کہا کہ خورشید شاہ اور مولانا فضل الرحمن کا دعویٰ رہا ہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسینجر کی طرف سے پاکستانی حکام اور بے نظیر بھٹو کو عمران خان کی سرپرستی کرنے کا کہا گیا تھا۔
صافی کے بقول، عمران خان کا اپنا دعویٰ ہے کہ وہ مشرف کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے کے مخالف تھے۔ لیکن ایسا کہتے ہوئے وہ تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں چونکہ حقیقت یہ ہے کہ مشرف نے امریکہ کا ساتھ دینے کا اعلان 2001 میں کیا تھا جبکہ عمران خان 2002 کے عام انتخابات تک مشرف کے ساتھ کھڑے تھے۔ صافی بتاتے ہیں کہ عمران خان نے جمائما سے علیحدگی کے بعد بھی ان کے بھائی زیک گولڈ اسمتھ کو لندن کی میئرشپ کے الیکشن میں باقاعدہ مہم چلا کر سپورٹ کیا۔ عمران نے کہا کہ زیک میرا نوجوان بھائی ہے اور میں مہم اس لئے چلارہا ہوں کہ میں اس کے خیالات سے واقف ہوں۔ اسکے علاوہ اکبر ایس بابر ایک انٹرویو میں حلفیہ کہہ چکے ہیں کہ عمران نے ایک مرتبہ مجھے خود کہا تھا کہ آج میں نے دو رکعت نفل پڑھی ہے کہ جارج بش الیکشن جیت جائے۔
سلیم صافی نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ 2014ء میں عمران نے نواز شریف حکومت کے خلاف جو دھرنے دیئے تھے اس کا منصوبہ بھی ایک ایجنسی کے ہاتھوں لندن میں ہی بنا تھا۔ اس سلسلے میں لندن میں چوہدری شجاعت حسین، پرویز الٰہی اور عمران نے طاہر القادری سے ملاقات کرکے نواز شریف حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ صافی نے کہا یہ بات بھی راز نہیں کہ امریکا کا اصل مقابلہ چائنا سے ہے اور عمران خان کی حکومت میں سی پیک کو متنازع بنادیا گیا تھا۔ اسکے بعد عمران حکومت نے پاک چین سی پیک معاہدوں کی تفصیلات بھی آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کردیں جس پر چائنا نے سخت تحفظات کا اظہار بھی کیا کیونکہ وہ یہ تفصیلات آئی ایم ایف سے شیئر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو عمران حکومت کے دوران چائنا کے ساتھ زیادتی اور امریکا کی بھر پور خدمت کی گئی۔ سلیم صافی یاد دلاتے ہیں کہ عمران خان نے جب اپنے دور حکومت میں دورہ امریکا کیا تو واپسی پر انہوں نے انتہائی فخر سے بتایا کہ میں ایک اور ورلڈ کپ جیت کر آرہا ہوں۔ عمران امریکا کے اس قدر قریب تھے کہ وہ ایران اور امریکا کی صلح بھی کروانا چاہتے تھے۔ دوسری جانب زلفی بخاری نے تب کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کے ساتھ اپنے تعلقات بنائے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد پوری دنیا میں اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے مشہور ہیں۔ عمران دورمیں زلفی بخاری پر اسرائیل کے خفیہ دورہ کرنے کا الزام بھی لگتا رہا ہے۔
عمران خان فوج میں رخنہ ڈالنے کی سازش کر رہے ہیں
سلیم صافی کا کہنا تھا کہ امریکا کی پاکستان میں دلچسپی اس وقت ختم ہو گئی تھی جب افغانستان سے امریکی فوج نے انخلا مکمل کیا کیونکہ افغانستان کے معاملے میں پاکستان میں امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ سلیم صافی کا کہنا تھا کہ عمران خان امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے ٹیلی فون کال نہ کرنے کی ہزیمت کو یہ کہہ کر چھپاتے ہیں کہ امریکا نے ان سے اڈے مانگے تھے لیکن انہوں نے جواب میں ایبسلوٹلی ناٹ کہہ کر انکار کر دیا تھا۔ لیکن دوسری جانب عمران کے ہی مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا تھا کہ امریکہ سے ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی اور فوج کی جانب سے بھی واضح کیا جا چکا ہے کہ نہ تو امریکا نے اڈے مانگے اور نہ پاکستان نے انکار کیا۔
