عمران خان پاکستان کے لیے سکیورٹی رسک کیسے بن گیا؟

معروف لکھاری تجزیہ کار عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ عمران خان کی طرف سے چلائے جانے والے تیروں نے زمانے بھر میں کوئی شکار باقی نہیں چھوڑا۔ امریکہ سے لے کر اسلام آباد پولیس تک اور جو بائیڈن سے لے کر رانا ثناء اللہ تک ، انکے ترکش کے تیروں سے نہ تو کوئی قومی ادارہ بچا ہے اور نہ ہی کوئی شخصیت۔ عمران خان مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں تا کہ فوج اپنی پالیسی تبدیل کرے۔ اُن کے ارشادات کا نچوڑ یہ ہے کہ فوج نیوٹرل نہ رہے کیوں کہ نیوٹرل تو حیوان ہوتے ہیں۔ وہ الیکشن کمیشن، عدالتوں، میڈیا اور دیگر اداروں سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ نیوٹرل نہ رہیں اور آئین، قانون، ضابطوں، عہد و پیماں کی زنجیریں توڑ پھینکیں۔ بقول عرفان صدیقی، خان صاحب چاہتے ہیں کہ تمام ادارے غیر جانبداری ترک کر کے اُن سے وفاداری کا عہدِوفا باندھیں اور اُن کی آرزؤں کی تکمیل پر کمربستہ ہو جائیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح آن واحد میں سارے ادارے کسی آئین شکن ڈکٹیٹر کے پی سی او کی دہلیز پر سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ لیکن انہیں کون سمجھائے کہ جمہوریت چاہے کتنی ہی کمزور اور ناتواں ہو، کسی فردِ واحد کی جنبش لب کی کنیز نہیں ہوتی۔ اسی طرح ادارے کتنے ہی کسی کے عشق میں دیوانے کیوں نہ ہوں، انہیں بھی بالآخر اپنی ساکھ اور ملک کی سلامتی سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔
صحافت سے میدان سیاست میں آ جانے والے سینیٹر عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ عمران خان نے اپنی تازہ ترین دھمکی میں کہا ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ نیوٹرلز اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ کیا انہیں ملک کی کوئی فکر نہیں؟ آپ جتنا کہیں کہ آپ نیوٹرل ہیں، لیکن تاریخ آپ کو موردِ الزام ٹھہرائے گی۔اس سے قبل اپنے ایک خطاب میں عمران خان نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوج نے درست فیصلے نہ کئے تو تباہ ہو جائے گی، ہمارے ایٹمی اثاثے چھن جائیں گے، اور پاکستان کے تین ٹکڑے ہو جائیں گے۔ عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ خان صاحب نے شاید سنا ہو کہ’’حکمرانوں کے سینے رازوں کے دفینے ہوتے ہیں۔‘‘برسوں ریاست کے بالا ترین انتظامی و سیاسی منصب پر فائز رہنے والے سربراہ حکومت کے پاس روزانہ مختلف ایجنسیوں کی طرف سےانتہائی حساس معلومات پر مبنی رپورٹس آتی ہیں۔ بڑے عہدوں پر فائز عہدیداروں سے بھی اُن کی ملاقاتیں رہتی ہیں۔ غیر ملکی سفیروں اور حکمرانوں سے بھی ان کا رابطہ رہتا ہے۔ نہایت ہی حساس سفارتی خط و کتابت بھی اُن کی میز سے ہو کر گزرتی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان جیسے جمہوری پارلیمانی نظام کے حامل ملک میں، وزیر اعظم عملاً سب سے زیادہ با اختیار ہو نہ ہو، باخبر ضرور ہوتا ہے۔ لیکن خبروں کا یہ خزینہ روایتی طور پر دفینہ ہی رہتا ہے۔ اگر یہ راز ذاتی، جماعتی یا سیاسی مفاد کے لئے جنس کوچہ و بازار بنا دیے جائیں تو شاید اس کا وقتی طور پر کچھ فائدہ ہو جائے لیکن ملک و قوم کا بڑا زیاں ہو جاتا ہے۔ اس کا نقصان خود اُس شخص کو بھی پہنچتا ہے جو اپنے منصب کی بدولت حاصل ہونے والی معلومات کو اپنے حلف کی نفی کرتے ہوئے جلسوں جلوسوں کا موضوع بناتا ہے۔ قومی رازوں کو چوکوں اور چوراہوں میں ڈسکس کرنے والا شخص اپنا اعتبار کھو بیٹھتا ہے۔ اس سے بڑا نقصان کیا ہوگا کہ کوئی سیاست دان غیر ذمہ دار، بے اعتبار اور اوچھا قرار پا کر اپنی ساکھ گنوا بیٹھے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں یہ تاثر دن بہ دن قوی ہوتا جا رہا ہے کہ وہ ریاست کے سب سے بڑے انتظامی منصب کی نزاکتوں سے بیگانہ ہیں۔ انہیں اندازہ ہی نہیں کہ وزارت عظمیٰ کا منصب کس طرح کے رکھ رکھاؤ کا تقاضا کرتا ہے۔ وہ ملکی و قومی اور ذاتی و جماعتی مفاد میں توازن رکھنے کا سلیقہ بھی نہیں جانتے۔ وہ ہر اُس بات کو اپنا ہتھیار خیال کرتے ہیں جو مخصوص سیاسی موسموں میں وزیر اعظم ہوتے ہوئے اُن کے علم میں آئی اور آج اُن کے اسلحہ خانے کا اثاثہ بن سکتی ہے۔ کاش اُن کے آس پاس فہم و فراست کی حامل دو چار سنجیدہ شخصیات ہوں جو انہیں اس روش کے منفی اثرات و نتائج سے آگاہ کریں۔ شاید ہوں بھی لیکن بتایا جاتا ہے کہ عمران کو اس طرح کے بزدلانہ مشورے دینے والوں پر بنی گالا کی بارگاہِ عالی کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ دربارِ خاص میں صرف وہی ’’نورتن‘‘رسائی رکھتے ہیں جو خان صاحب کے دیوتائی مجسمے کو نت نئے رنگ و روغن سے آراستہ کرتے، انہیں آئین، قانون، قاعدوں اور ضابطوں سے بالا تر ثابت کرتے اور بتاتے ہیں کہ یہ بھید فلاں ادارے، یہ راز فلاں شخص اور یہ خفیہ خط فلاں عالمی طاقت کے پرخچے اُڑا سکتا ہے۔ حلقہ خاص کے ان’’نو رتنوں‘‘ کا یہ ہنر خان صاحب کو بیحد عزیز ہے کہ ان کی زبانیں زہر میں بھجی تلواروں کی طرح چلتی ہیں اور شیوہ الزام و دشنام میں کوئی ان کا ثانی نہیں۔ اسی فن میں مہارت ان ’’نو رتنوں‘‘کےلئے ترقی درجات اور قرب شاہی کا وسیلہ بنتی ہے۔سو وہ ہر آن پیا کو بھانے کی خاطر اپنی صلاحتیں نکھارنے میں مگن رہتے ہیں۔
آئین شکنی کر کے عمران خان پاکستانی ٹرمپ بن گے
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ لیکن عمران خان کو سوچنا چاہئے کہ تین بار وزیر اعظم منتخب ہونے اور ساڑھے نو برس تک اس منصب پر فائز رہنے والے نواز شریف کے سینے میں کتنے راز ہوں گے۔ جو کچھ میاں صاحب، اُن کی بیٹی اور خاندان پر گزری اور ہنوز گزر رہی ہے، خان صاحب بنی گالا کے کسی گوشۂ چمن میں بیٹھ کر غور کریں تو اُن کی سوچ کو بھی جھرجھری آجائے۔ عمران خان تو سنہری رَتھ میں بیٹھ کر اقتدار میں آئے اور آئینی طریقۂ کار سے رخصت ہو کر سرکاری پروٹوکول کے ساتھ بنی گالا چلے گئے۔ کیا انہیں خبر ہے کہ نواز شریف کو کس طرح نکالا گیا؟ اٹک قلعے اور لانڈھی جیل، زنجیر بستہ حالت میں جہاز کی سیٹ سے باندھنے تک، کیا میاں صاحب کے پاس کوئی کہانی نہیں؟کیا عقوبتوں اور صعوبتوں کے گہرے زخم کھانے اور اپنے پیاروں کی میتوں کو قبر میں اُتارنے سے محروم رکھے جانے والے شخص کے پاس کوئی داستان نہیں؟ انہوں نے آٹھ آرمی چیفس کے ساتھ کام کیا، کیا اُن کے سینے میں کوئی راز نہیں؟ خان صاحب سیاست کو مسلمہ روایات و اقدار کے دائرے میں رکھیں۔غُصہ اور اشتعال برحق، بے کلی اور اضطراب بجا لیکن ہیجان و خفقان کی کیفیت میں بارودی سرنگوں کے منطقے میں داخل نہ ہوں۔ ذمہ دار سیاسی رہنما ایسے نہیں کیا کرتے۔ ان کا ماضی و حال ہی نہیں، ایک مستقبل بھی ہوتا ہے۔
