بھارتی فوجیوں کا سہولتوں اور مراعات کی کمی پر احتجاج

بھارتی فوجی اہلکاروں نے سہولتوں کی کمی اور مراعات نہ ملنے پر ریاست بہار کے مختلف شہروں میں احتجاج شروع کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پٹنہ میں احتجاج کرنے والے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا دیا جائے گا۔ ان کے بقول مودی حکومت اور بہار کی انتظامیہ سے بارہا درخواستیں کرنے کے باوجود کوئی شنوائی نہ ہوئی، جس کے باعث سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے نیشنل سکیورٹی ایکسپرٹ سید محمد علی نے  بتایا کہ بھارتی افواج میں مورال کے حوالے سے سنگین مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق فوجیوں کو یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ انہیں دفاع اور قومی سلامتی کے بجائے سیاسی اور قلیل مدتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے ان کی جان و مال مسلسل خطرے میں ڈالی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف ناکام جارحیت، کشمیریوں پر ظلم و ستم اور اقلیتوں سے ناروا سلوک نے بھی فوج میں شامل مختلف کمیونیٹیز کے جوانوں کا مورال بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان آپریشنز میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی قربانیوں کو فوجی اور سیاسی قیادت تسلیم نہیں کرتی، جس سے بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا ہے۔

سید محمد علی نے مزید کہا کہ دنیا کی کسی بھی فوج کو عوام اور حکومت کی حمایت درکار ہوتی ہے، لیکن بھارت میں فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ الیکشن سے پہلے فالس فلیگ آپریشنز تک رچائے جاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل نے بھارتی فوجیوں میں شدید بددلی اور بے اطمینانی کو جنم دیا ہے۔

Back to top button