کیا پاکستانی جنریشن زی نیپال جیسا انقلاب لانے کے قابل ہیں؟

نیپال میں 1997 سے 2012 کے دوران پیدا ہونے والی جنریشن زی کی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں حکومت کی چھٹی کے بعد پاکستان میں عمران خان کے حمایتی یہ دعوے کر رہے ہیں کہ یہاں بھی انقلاب آنے والا ہے جس کے بعد تخت گرائے جائیں گے اور تاج اچھالے جائیں گے۔ تاہم زمینی حقائق یوتھیوں کی ان امیدوں کے برعکس ہیں۔
یاد رہے کہ جنریشن زی نے پہلے بنگلہ دیش کے سیاسی افق پر ہلچل مچائی اور اب اس نے نیپال میں حکومت کا دھڑن تختہ کر دیا ہے۔ نیپال میں سوشل میڈیا پر لگنے والی حکومتےلی پابندی کی وجہ سے جو احتجاجی طوفان اٹھا وہ نہ صرف وزیراعظم کو بہا کر لے گیا بلکہ اس نے کئی حکومتی اراکین کو جان بچا کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستان میں بھی آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو سمارٹ فون اور انٹرنیٹ سے بھی مسلح ہے، لہذا اب عمران خان کے کئی حمایتی یہ دعوے کرتے نظر اتے ہیں کہ یہاں کی جنریشن زی بھی جلد انقلاب لے آئے گی۔
اس سے پہلے پچھلے برس جب بنگلہ دیش میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کا سرکاری جبر بڑھا تو وہاں طالب علموں نے بغاوت کر دی۔ وہاں سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ نے بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا کے ذریعے خو کو متحد کیا اور اس کے بعد سڑکوں پر نکل آئے۔ اسی طرح نیپال میں نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے طبقاتی تضادات کو تیز کیا۔ انہہں نے ایک طرف عوامی غربت اور دوسری جانب حکمرانوں کی عیاشی کو آشکار کیا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بنگلہ دیش اور نیپال میں انقلاب کے نتیجے میں ساری فیصلہ سازی فوج کے ہاتھ میں چلی گئی جو کہ جمہوریت کی نفی ہے۔
تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے پاکستان میں بھی جنریشن زی کے ہاتھوں ممکنہ انقلاب کے حوالے سے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نیپال اور بنگلہ دیش کے برعکس پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے، جہاں قومی اور طبقاتی جبر دونوں موجود ہیں لیکن جبر کی شدت زیادہ ہے۔ پاکستان کے برعکس نیپال اور بنگلہ دیش میں فوج اتنی مضبوط نہیں جتنی یہاں ہے۔ پاکستان کے برعکس نیپال میں مذہب کا اثرورسوخ بہت کم ہے جبکہ بنگلہ دیش میں بھی سیکولر روایتیں رہی ہیں۔ پاکستان کے برعکس بنگلہ دیش میں گزشتہ کچھ دہائیوں میں صنعتی ترقی ہوئی جس کی وجہ سے ایک مضبوط مزدور طبقہ پیدا ہوا جس نے طبقاتی تضادات کو تیز کیا۔ اس طبقے میں ایک بڑی تعداد جنریشن زی کی بھی ہے۔
سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ اس کے برعکس پاکستان میں گزشتہ چار دہائیوں میں اچھی خاصی صنعتیں بند ہوئی ہیں جبکہ مذہب کا اثرورسوخ بھی بڑھا ہے۔ پاکستان میں جنریشن زی کا آخری غلبہ عمران خان کی قیادت میں دیکھنے میں آیا تھا لیکن 9 مئی 2023 کو ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد یوتھیوں کے خلاف جو کریک ڈاؤن شروع ہوا اس کے نتیجے میں جنریشن زی کے سپاہی یا تو انڈر گراؤنڈ ہو گئے ہیں یا گوشۂ گمنامی میں چلے گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک اور بڑا فرق یہ ہے کہ پاکستان میں جنریشن زی کی ایک بڑی تعداد مذہبی ہے اور وہ مولویوں کی صحبت پسند کرتی ہے۔ یہ طلبہ عمران خان کو ہیرو تسلیم نہیں کرتے اور ان کے ہیروز داڑھی والے ہیں۔ اسی وجہ سے معروف یوٹیوبر ساحل عدیم کے چینل کے 6 لاکھ 71 ہزار سبسکرائبرز ہیں جبکہ مولانا طارق جمیل کے یوٹیوب چینل کے 80 لاکھ 82 ہزار فالوورز ہیں۔ مولانا طارق مسعود کے یوٹیوب اکاؤنٹ پر 50 لاکھ فالوورز ہیں جبکہ حال ہی میں گرفتار ہونے والے عالم دین انجینئر محمد علی مرزا کے 32 لاکھ فالوورز ہیں۔ یعنی بنگلہ دیش اور نیپال کے برعکس پاکستان کی جنریشن زی کا ایک بڑا حصہ مذہبی رجحان رکھتا ہے اور انہیں جو لوگ متاثر کرتے ہیں ان کا سیاست سے کوئی سروکار نہیں۔ جیسا کہ مفتی طارق مسعود اور طارق جمیل دوسری دنیا کی باتیں کرتے ہیں، اور ساحل عدیم عالمی خلافت کے داعی ہیں۔ ان میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے طاقتور حلقوں کو چیلنج کریں۔
بلوچستان میں ’’خفیہ عدالتوں‘‘ کے قیام کا اصل مقصد کیا ہے؟
اسکے علاوہ ایک اور اہم ترین بات یہ ہے کہ پاکستانی جنریشن زی کا ایک اور بڑا حصہ ملک کے 36 ہزار سے زیادہ دینی مدارس میں رہتا ہے، جہاں 25 لاکھ سے زائد طالب علم پڑھتے ہیں۔ ہر سال ان مدارس سے تقریباً چھ لاکھ طالب علم فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ ان مدارس کے ملاوں کی ڈوریں بھی جی ایچ کیو سے ہلتی ہیں۔ اسکے علاوہ پاکستان میں تبدیلی کا ایک اور بڑا ذریعہ واشنگٹن ہے لیکن وہاں کا موسم بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کے ساتھیوں کے لیے سازگار ہے جبکہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اس وقت اتحادی حکومت کا حصہ ہیں۔
مبصرین کے مطابق پاکستانی جنریشن زی کے سیاسی طور پر خصی ہونے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ نیپال اور بنگلہ دیش کے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین موجود ہیں جبکہ ہمارے ملک میں سٹوڈنٹس یونین پر ایک طویل عرصے سے پابندی ہے۔ لہذا مستقبل قریب میں ایسا کوئی امکان نہیں کہ جنریشن زی پاکستان میں تخت گراتے اور تاج اچھالتے ہوئے انقلاب لے آئے۔
