امریکی ناکہ بندی کےباوجودایران سے منسلک 4 بحری جہاز رکاوٹیں عبور کرگئے

امریکی ناکہ بندی کے باوجود 4 جہاز گزرنے میں کامیاب ہوگئے جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ ایران سے آرہے تھے۔

بی بی سی ویریفائی کے مطابق جہازوں کی ٹریکنگ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے آغاز کے باوجود ایران سے منسلک 4 جہاز آبنائے ہرمز عبور کرچکے ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹریفک ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے دو جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں کا دورہ بھی کیا تھا اور اس کے بعد آبنائے ہرمز عبور کر گئے۔

ان میں سے ایک مال بردار جہاز کریستیانا نے ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز عبور کی۔ ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جہاز ایران کی بندرگاہ بندر امام خمینی سے آیا تھا۔

ان رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود بعض ایسے تجارتی جہاز بھی گزر رہے ہیں جن کا ایران سے براہِ راست تعلق نہیں ہے۔

یاد رہے کہ امریکا نے 13 اپریل 2026 کو ایران کی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی شروع کی تھی جس کا مقصد ایرانی تیل کی برآمدات کو محدود کرنا اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔

Back to top button