بھارت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب،حقائق سامنے آ گئے

انسانی حقوق کا نام لے کر پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر منفی بیانیہ پھیلانے، آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے مخصوص مؤقف کو تقویت دینے کی مبینہ حکمتِ عملی نے ایک بار پھر بھارت کے مکروہ کردار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، بھارتی ہائی کمیشن لندن، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے وابستہ عناصر اور برطانیہ میں قائم ہونے والی ایک نئی تنظیم کے درمیان روابط اس پورے معاملے کا مرکزی پہلو ہیں۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر کے مسئلے پر سفارتی محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ بیانیے کی جنگ بھی اہمیت اختیار کر چکی ہے، جہاں انسانی حقوق کی اصطلاح کو بین الاقوامی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اپریل 2026 میں بھارتی ہائی کمیشن لندن کی جانب سے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطے اور جون میں بھارتی ہائی کمیشن کے عہدیدار پرمود کھیم چندانی کی ٹائمز ناؤ سے وابستہ زکا جیکب کے ساتھ ملاقات کو اس سلسلے کی اہم کڑیاں قرار دیا گیا ہے۔ ان ملاقاتوں میں آزاد جموں و کشمیر کے حالات اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بیانیے کی تشہیر کے لیے نئی تنظیم کے ذریعے سرگرمیاں شروع کرنے کا معاملہ زیرِ غور آیا۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کشمیر سے متعلق سیاسی مؤقف کو محض مقامی احتجاج تک محدود رکھنے کے بجائے بین الاقوامی سطح پر منظم انداز میں پیش کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی تھیں۔
جون 2026 میں اس مبینہ منصوبے کے عملی پہلو مزید نمایاں ہوئے، جب اظہر احمد، یاسر شفاعت اور ڈاکٹر اشتیاق خالق سے وابستہ عناصر کے ساتھ روابط اور بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے انہیں 17 واٹس ایپ کالز کیے جانے کی تفصیلات سامنے آئیں۔ ان رابطوں کو آزاد کشمیر میں بدامنی پھیلانے اور پاکستان مخالف بیانیے کو تقویت دینے کی منصوبہ بندی سے منسلک کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اگر سیاسی سرگرمیوں، بیرونی رابطوں اور میڈیا تشہیر کے درمیان مربوط تعلق ثابت ہو جائے تو یہ محض اختلافِ رائے یا انسانی حقوق کی مہم نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کے داخلی معاملات پر اثرانداز ہونے کی ایک منظم کوشش کے طور پر سامنے آئے گی۔
30 جولائی 2026 کو برطانیہ میں جموں و کشمیر ہیومن رائٹس آبزرویٹری کے نام سے نئی تنظیم کی رجسٹریشن اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو ہے۔ اس تنظیم کے ذریعے آزاد کشمیر کی صورتحال سے متعلق رپورٹس اور بیانات سامنے لائے گئے، جنہیں پاکستان کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے والی مہم کا حصہ قرار دیا گیا۔ پرمود کھیم چندانی کا نام بھی تنظیم کی رجسٹریشن سے وابستہ افراد میں شامل بتایا گیا ہے۔ اس تعلق کی اہمیت محض تنظیم کے قیام تک محدود نہیں بلکہ اس سوال سے جڑی ہے کہ انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والے اداروں کی تشکیل، ان کی مالی معاونت اور ان کے بیانیے کی سمت متعین کرنے میں بیرونی سرکاری روابط کس حد تک اثرانداز ہوتے ہیں۔
مبصرین کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو کسی بھی تنظیم کا انسانی حقوق کے نام سے قائم ہونا اسے خودبخود غیر جانب دار یا معتبر نہیں بنا دیتا۔ کسی تنظیم کی ساکھ اس کی تحقیق، شواہد، طریقۂ کار اور مختلف فریقوں کے مؤقف کو جگہ دینے سے طے ہوتی ہے۔ اگر کسی خطے کے حالات کو مخصوص سیاسی مفادات کے تحت منتخب انداز میں پیش کیا جائے، زمینی حقائق کو نظرانداز کیا جائے یا غیر مصدقہ معلومات کو عالمی سطح پر پھیلایا جائے تو انسانی حقوق کا بنیادی مقصد پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں حقوق کے تحفظ کی کوشش اور سیاسی پروپیگنڈے کے درمیان فرق واضح کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کشمیر ایک اہم سفارتی اور ابلاغی محاذ ہے۔ اس لیے عالمی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کی کوششیں دونوں ممالک کے تعلقات اور کشمیر کے بارے میں بین الاقوامی تصور کو متاثر کر سکتی ہیں۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے معاملات پر محض بیانات جاری کرنے کے بجائے متعلقہ دستاویزات، رابطوں کی تفصیلات اور قابلِ تصدیق شواہد کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرے۔ اسی طرح آزاد کشمیر کے حالات سے متعلق کسی بھی شکایت یا انسانی حقوق کے مسئلے کی شفاف جانچ بھی ضروری ہے، کیونکہ حقیقی مسائل کو حل کرنا ہی کسی بھی منفی مہم کا مؤثر جواب ہو سکتا ہے۔
یہ پورا معاملہ اس بنیادی سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ کیا انسانی حقوق کے نام پر قائم ہونے والے ادارے واقعی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں یا ان کے پلیٹ فارم کو سیاسی اور سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟ اگر سفارتی روابط، مخصوص سیاسی عناصر اور میڈیا تشہیر کے درمیان مربوط حکمتِ عملی شواہد سے ثابت ہوتی ہے تو اس کی اہمیت محض ایک تنظیم یا چند افراد تک محدود نہیں رہے گی بلکہ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی رپورٹنگ کے معیار اور شفافیت پر بھی اثرانداز ہوگی۔ تاہم کسی نتیجے کو حتمی قرار دینے کے لیے مبینہ رابطوں، تنظیمی ریکارڈ اور متعلقہ فریقوں کے مؤقف کی مکمل جانچ ضروری ہے۔
