مہنگا علاج، بڑھتی غربت؛ ایک کروڑ 11 لاکھ پاکستانی خطِ غربت سے نیچے جا گرے

پاکستان میں کسی بھی بیماری کے علاج کی بڑھتی ہوئی لاگت اب صرف صحت کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ لاکھوں خاندانوں کے لیے غربت، بھوک اور معاشی بدحالی کا سبب بن چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور عالمی بینک کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق، 2024ء میں علاج پر اپنی جیب سے اخراجات برداشت کرنے کے باعث ایک کروڑ 11 لاکھ افراد یومیہ 2.15 ڈالر کی خطِ غربت سے نیچے چلے گئے، جبکہ ایک کروڑ 48 لاکھ سے زائد افراد کو طبی اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اعدادوشمار اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں بیماری صرف جسمانی تکلیف نہیں بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے مالی تباہی کا خطرہ بھی بن چکی ہے۔
مبصرین کے مطابق، کسی بھی معاشرے میں صحت کی سہولتوں تک رسائی بنیادی ضرورت ہونی چاہیے، لیکن پاکستان میں علاج معالجے کے اخراجات کئی خاندانوں کو اپنی بنیادی ضروریات قربان کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ادویات، طبی ٹیسٹ، اسپتالوں کی فیس اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے لوگوں کو خوراک، بچوں کی تعلیم اور گھریلو ضروریات پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بعض خاندان قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یوں ایک بیماری کا بوجھ پورے گھرانے کی معاشی حالت کو متاثر کرتا ہے اور غربت سے نکلنے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ضروری صحت کی سہولتوں کی کوریج کا اشاریہ 2015ء میں 40 تھا، جو 2023ء میں بڑھ کر 56 ہو گیا۔ اسی عرصے میں صحت کی سہولتوں کی کوریج میں شامل افراد کی تعداد 8 کروڑ 70 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ گئی، یعنی تقریباً 5 کروڑ 10 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا۔ تاہم تجزیہ کاروں کے خیال میں، کوریج کے اعدادوشمار میں بہتری کو اس وقت تک مکمل کامیابی نہیں سمجھا جا سکتا جب تک عام شہری کے لیے علاج قابلِ برداشت نہ ہو۔ سہولتوں کی موجودگی اور ان سے حقیقی طور پر فائدہ اٹھانے کی استطاعت دو مختلف معاملات ہیں۔
رپورٹ کے یہ اعدادوشمار صحت کے شعبے میں سرکاری پالیسیوں، مالی معاونت اور عوامی تحفظ کے نظام کی مؤثریت پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ اگر علاج کے اخراجات براہِ راست مریض اور اس کے خاندان کو برداشت کرنا پڑیں تو بیماری کے وقت مالی تحفظ فراہم کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ خصوصاً کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے یہ صورتحال زیادہ سنگین ہے، کیونکہ ان کی محدود آمدنی کا بڑا حصہ پہلے ہی خوراک، رہائش، بجلی اور تعلیم جیسے لازمی اخراجات پر صرف ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، 2030ء تک صحت کی سہولتوں کی کوریج کا اشاریہ 80 تک پہنچانے کا ہدف اسی صورت میں عام شہریوں کے لیے حقیقی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جب بنیادی علاج، ضروری ادویات، تشخیصی ٹیسٹ اور اسپتالوں کی سہولتیں مالی طور پر قابلِ رسائی بنائی جائیں۔ اس کے لیے سرکاری صحت کے مراکز کی استعداد بڑھانے، علاج کے اخراجات میں شفافیت، مستحق خاندانوں کے لیے مؤثر مالی معاونت اور صحت کے پروگراموں کی نگرانی کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب بیماری کسی خاندان کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دے تو مسئلہ صرف علاج کی قیمت کا نہیں رہتا، بلکہ پورے معاشی اور سماجی تحفظ کے نظام کا بن جاتا ہے۔ پاکستان میں صحت کی سہولتوں کی کوریج میں اضافے کے باوجود اگر لاکھوں افراد علاج کے اخراجات کے باعث غربت کا شکار ہو رہے ہیں تو محض اعدادوشمار میں بہتری کافی نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ریاست ایسی سہولتیں فراہم کر سکے جن کے حصول کے لیے شہریوں کو اپنی بنیادی ضروریات قربان نہ کرنا پڑیں۔
