پی ٹی آئی کی جین زی نےبھی عمران خان کو مایوس کیسے کیا؟

عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا کا وزیر اعلیٰ اس امید پر بنایا تھا کہ ایک نوجوان قیادت نئی نسل کو متحرک کرکے ایسا احتجاجی طوفان اٹھائے گی جو ان کی رہائی کی راہ ہموار کر سکے۔ لیکن یہ تجربہ بھی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔ ذرائع کے مطابق، سہیل آفریدی کے انتخاب کے پیچھے انتظامی صلاحیت سے زیادہ نوجوانوں کو متحرک کرنے اور عمران خان کی رہائی کے لیے فیصلہ کن لانگ مارچ نکالنے کی امید کارفرما تھی، مگر عملی سیاست میں نعرے، جوش اور انقلابی دعوے مطلوبہ نتائج نہ دے سکے۔

روزنامہ امت میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، علی امین گنڈاپور متعدد کوششوں کے باوجود ایسا لانگ مارچ کرنے میں ناکام رہے جس سے ریاست پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق عمران خان گنڈاپور کی کارکردگی سے مایوس تھے، جبکہ پارٹی کے بعض مخالف دھڑے ان پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کر رہے تھے۔ گنڈاپور کو ہٹانے کے بعد بابر سلیم سواتی سمیت دیگر سینئر رہنماؤں کے بجائے مراد سعید کی سفارش پر سہیل آفریدی کا انتخاب کیا گیا۔

مبصرین کے مطابق، اس فیصلے کے پیچھے بنگلہ دیش، بھارت اور نیپال میں نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیوں سے متاثر ہونے کا تصور بھی شامل تھا۔ عمران خان اور ان کے قریبی حلقے کی توقع تھی کہ نسبتاً نوجوان وزیر اعلیٰ جین زی کو متحرک کرنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔ تاہم سہیل آفریدی کی عمر اور نوجوانوں سے قربت کو سیاسی کامیابی کی ضمانت سمجھنا ایک بنیادی غلط اندازہ ثابت ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ سہیل آفریدی کو صوبائی انتظامی امور کا خاطرخواہ تجربہ حاصل نہیں تھا، جس سے ان کی نامزدگی کے معیار اور ترجیحات پر سوالات اٹھتے رہے۔

سہیل آفریدی نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد صوبائی اسمبلی میں عمران خان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے انقلابی شعر بھی پڑھا، جسے پارٹی قیادت کے لیے قربانی دینے کے عزم کی علامت سمجھا گیا۔ لیکن انہیں ایک ماہ کے اندر مؤثر لانگ مارچ نکالنے کا ہدف دیا گیا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کے طرزِ عمل سے عمران خان کی مایوسی بڑھنے لگی۔  عمران خان نے نورین خان کے ذریعے سہیل آفریدی کو ہٹانے کا پیغام دیا تھا، تاہم لانگ مارچ کے اعلان کے باعث انہیں ایک آخری موقع دیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں، اس پورے معاملے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کسی صوبے کی وزارت اعلیٰ جیسے اہم منصب پر تقرری انتظامی اہلیت، تجربے اور حکومتی کارکردگی کے بجائے کسی سیاسی رہنما کی رہائی کے لیے احتجاجی قوت پیدا کرنے کی بنیاد پر ہونی چاہیے؟ مبصرین کے بقول نوجوان قیادت کو آگے لانا بذاتِ خود مسئلہ نہیں، لیکن عمر کو صلاحیت اور جوش کو حکمتِ عملی کا متبادل سمجھنا سیاسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کہانی کا اہم پہلو پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست بھی ہے۔ گنڈاپور کے بعد سہیل آفریدی سے غیر معمولی توقعات وابستہ کی گئیں، مگر اگر پارٹی قیادت بار بار شخصیات تبدیل کرکے ایک ہی نتیجے کی امید رکھتی ہے تو اسے اپنی حکمتِ عملی پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی۔ عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی سیاست کو مرکزی ترجیح بنانا اور صوبائی حکومت کی انتظامی ذمہ داریوں کو ثانوی حیثیت دینا، بالآخر خود پارٹی کے سیاسی دعووں اور حکومتی کارکردگی کے درمیان فاصلے کو نمایاں کرتا ہے۔

Back to top button