پاکستانی ’جین زی‘ سٹاک مارکیٹ میں پیسے کیوں لگانے لگی؟

پاکستان میں جین زی یعنی نوجوان نسل تیزی سے سٹاک مارکیٹ کا رخ کر رہی ہے۔ مہنگائی، محدود آمدنی، مستقبل کے معاشی عدم تحفظ اور سوشل میڈیا پر سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان نے نوجوانوں کو روایتی بچت سے آگے بڑھ کر اپنے پیسے میں اضافے کے طریقے تلاش کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ کبھی سٹاک مارکیٹ کو بڑے سرمایہ کاروں اور دولت مند طبقے کا میدان سمجھا جاتا تھا، لیکن اب آسان آن لائن اکاؤنٹس، کم رقم سے سرمایہ کاری کی سہولت اور مالیاتی معلومات کی دستیابی نے نوجوانوں کے لیے اس کے دروازے کھول دیے ہیں۔ تاہم اس بڑھتی دلچسپی کے پیچھے مالی خودمختاری کی خواہش کے ساتھ فوری منافع کی امیدیں اور سرمایہ کھونے کے خطرات بھی موجود ہیں۔

نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان کے مطابق، اگست 2025 سے ستمبر 2026 تک 2 لاکھ 54 ہزار سے زائد نئے سرمایہ کاری اکاؤنٹس کھولے گئے، جن میں 18 سے 30 سال کے نوجوانوں کا حصہ 46 فیصد تھا۔ ستمبر 2026 میں کھلنے والے 25 ہزار 281 نئے اکاؤنٹس میں نوجوانوں کی شرح 54 فیصد رہی۔ تاہم اکاؤنٹس کی تعداد میں اضافہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ سرمایہ کار منافع بھی کما رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق، مہنگائی اور آمدنی و اخراجات کے درمیان بڑھتے فرق نے نوجوانوں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا ہے۔ حیدرآباد کی 23 سالہ زینب فاطمہ نے کرپٹو اور فاریکس کے بعد دوبارہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری شروع کی، جبکہ پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ نور نے صرف 5 ہزار روپے سے آغاز کیا۔ کراچی کے طالب علم طلحہٰ انس کو ابتدا میں نقصان ہوا، جس کے بعد انہوں نے مختصر مدتی خریدوفروخت کے بجائے طویل مدتی سرمایہ کاری پر توجہ دی۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ نوجوان مالی خودمختاری کے لیے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں، لیکن اس عمل میں سیکھنے اور نقصان برداشت کرنے کا مرحلہ بھی شامل ہے۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی گزشتہ برسوں کی نمایاں کارکردگی نے بھی نوجوانوں کی دلچسپی بڑھائی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق، مارکیٹ نے 2023 میں 85 فیصد اور 2025 میں 55 فیصد سے زیادہ منافع دیا۔ تاہم ماضی کی کارکردگی مستقبل کے منافع کی ضمانت نہیں۔ سیاسی غیر یقینی، معاشی حالات، شرحِ سود اور کمپنیوں کی کارکردگی حصص کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستانی نوجوانوں کو سرمایہ کاری کی طرف مائل کرنے کیلئے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے اکاؤنٹ کھولنے کے طریقے آسان بنانے، سہولت اکاؤنٹس متعارف کرانے اور تعلیمی اداروں میں مالیاتی آگاہی بڑھانے کے اقدامات کیے ہیں۔ ادارے کا ہدف سرمایہ کاروں کی تعداد 25 لاکھ تک پہنچانا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق، صرف نئے اکاؤنٹس کھولنا کافی نہیں؛ نوجوانوں کو سرمایہ کاری کے بنیادی اصول، خطرات اور اپنے مالی حقوق سے آگاہ کرنا بھی ضروری ہے۔ مبصرین کے مطابق سوشل میڈیا نے بھی سٹاک مارکیٹ تک رسائی آسان بنائی ہے، لیکن فوری منافع اور راتوں رات امیر ہونے کی کہانیاں غیر حقیقی توقعات بھی پیدا کر رہی ہیں۔ غیر مصدقہ مشوروں یا مشہور شخصیات کی تجاویز پر تحقیق کے بغیر سرمایہ لگانا نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح اسٹاک مارکیٹ کو کرپٹو یا فاریکس کے مقابلے میں مکمل محفوظ سمجھنا بھی درست نہیں۔

ماہرین کے مطابق، چھوٹی رقم سے سرمایہ کاری سیکھنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ نوجوان قرض لے کر یا روزمرہ ضروریات کے لیے مختص رقم خطرے میں نہ ڈالیں۔ تعلیمی اور مالیاتی اداروں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو کمپنیوں کی مالی حالت جانچنے، سرمایہ کاری میں تنوع اور ممکنہ نقصانات کو سمجھنے کی تربیت دیں۔ مجموعی طور پر، پاکستانی جین زی کی سٹاک مارکیٹ میں بڑھتی دلچسپی مالی خودمختاری کی خواہش کا اظہار ہے، لیکن اس رجحان کی کامیابی نئے اکاؤنٹس کی تعداد سے نہیں بلکہ باخبر فیصلوں سے طے ہوگی۔ سٹاک مارکیٹ مستقبل کی مالی حالت بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے، مگر اسے یقینی آمدنی یا فوری دولت کا راستہ سمجھنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

Back to top button