کیا حکومت اورPTIکے مابین مذاکرات کی بحالی ممکن ہے؟

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے 2 ادوار کی ناکامی کے باوجود بات چیت کی بحالی کی امید ایک بار پھر پیدا ہو گئی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا دونوں فریق محض مذاکرات کی آمادگی کے بیانات سے آگے بڑھ کر سیاسی تعطل ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی کریں گے؟ حکومت مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا اعلان کر رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی رسمی ملاقاتوں کے بجائے ٹھوس پیش رفت چاہتی ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا میں حکومتی انتظام، دہشت گردی کے خلاف تعاون، مذاکراتی نمائندوں اور ملاقات کے طریقۂ کار پر اختلافات بدستور بڑی رکاوٹ ہیں۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق، حکومت اپوزیشن کے ساتھ بامقصد مذاکرات کے لیے تیار ہے اور ملاقات کے مقام پر کوئی پابندی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو پہلے اپنے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا، کیونکہ محمود خان اچکزئی کو مذاکراتی اختیار دینے اور انہیں اپوزیشن لیڈر تسلیم کرنے کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔ حکومتی مؤقف میں اپوزیشن کی اندرونی تقسیم کو مذاکراتی عمل میں رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کی بحالی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ بات چیت محض فوٹو سیشن یا رسمی پیشکشوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، نیک نیتی کے ساتھ عملی اقدامات کیے جائیں تو سیاسی مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے امکان کو رد نہیں کر رہی، تاہم اسے حکومتی پیش رفت پر اعتماد کے لیے ٹھوس اقدامات درکار ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے بھی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی، لیکن واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں موجودہ انتظام کو واپس لینے کی شرط قبول نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کا تعاون ضروری ہے اور اس معاملے پر بات چیت کی گنجائش موجود ہے۔ یوں مذاکرات کی بحالی کا معاملہ سیاسی اختلافات سے آگے بڑھ کر وفاق اور صوبے کے درمیان سکیورٹی تعاون سے بھی جڑ گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں، مذاکرات کے سابقہ 2 ادوار کی ناکامی کی بڑی وجہ باہمی بداعتمادی اور بنیادی اختلافات پر اتفاقِ رائے کا فقدان ہے۔ ابتدا میں پیش رفت اور ممکنہ معاہدے کی امید پیدا ہوئی، لیکن دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی اور خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون سمیت اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔ نتیجتاً کوئی ایسا مستقل طریقۂ کار سامنے نہ آ سکا جو مذاکرات کو نتیجہ خیز بناتا۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کی بحالی کا امکان موجود ہے، لیکن صرف بیانات سے سیاسی ڈیڈلاک ختم نہیں ہوگا۔ دونوں فریقوں کو مذاکراتی نمائندوں، مقام، ایجنڈے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون جیسے معاملات پر قابلِ قبول حل تلاش کرنا ہوگا۔ اگر بات چیت کو سیاسی دباؤ بڑھانے یا ایک دوسرے سے رعایتیں منوانے کا ذریعہ بنایا گیا تو سابقہ ناکامی دہرائی جا سکتی ہے؛ لیکن اگر دونوں جانب سے عملی لچک اور اعتماد سازی کا مظاہرہ ہوا تو مذاکرات سیاسی کشیدگی کم کرنے کا راستہ بن سکتے ہیں۔

2 Comments