احتجاجی و مزاحمتی سیاست نےPTIکا دھڑن تختہ کیسے کیا؟

پاکستان تحریک انصاف کی سیاست ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں کبھی اس کی سب سے بڑی طاقت سمجھی جانے والی احتجاجی اور مزاحمتی حکمتِ عملی اب اس کے لیے سیاسی مشکلات، داخلی اختلافات اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال کا سبب بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد جماعت کے اندر سیاسی مزاحمت سے نکل کر مذاکرات، مفاہمت اور پارلیمانی سیاست کی طرف واپسی کی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ مبصرین کے مطابق، بڑے ووٹ بینک اور عوامی حمایت کے باوجود پی ٹی آئی اپنی سیاسی قوت کو مؤثر حکمتِ عملی میں تبدیل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ مسلسل احتجاج کو سیاست کا مرکزی راستہ بنائے رکھنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں، کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے احتجاج عوامی دباؤ پیدا کرنے اور اپنے مطالبات منوانے کا مؤثر ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن جب احتجاج مستقل سیاسی حکمتِ عملی بن جائے اور اس کے نتیجے میں مذاکرات، تنظیمی استحکام اور سیاسی پیش رفت کے راستے محدود ہونے لگیں تو یہی قوت کمزوری میں بدل سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کے اندر اب یہ احساس بڑھتا دکھائی دے رہا ہے کہ مسلسل محاذ آرائی نے جماعت کو ایسے حالات میں لا کھڑا کیا ہے جہاں قیادت کی ترجیحات، کارکنوں کی توقعات اور سیاسی مستقبل کے تقاضوں کے درمیان خلیج پیدا ہو رہی ہے۔ پارٹی کے بعض حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر کب تک احتجاجی سرگرمیوں کے باعث مقدمات، گرفتاریوں اور سیاسی مشکلات کا سامنا کیا جاتا رہے گا، جبکہ قیادت اور اسیر کارکنوں کی رہائی کے لیے مؤثر سیاسی راستہ بھی تلاش کرنا ضروری ہے۔

اس بحث میں پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسف زئی کا مؤقف نمایاں ہے، جنہوں نے لانگ مارچ سے پہلے بھی احتجاجی اقدام سے گریز اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ سلمان غنی کے مطابق، اس رائے پر انہیں اپنے ہی حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل اور توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ وہ ایک ٹی وی پروگرام میں جذباتی دکھائی دیے۔ یہ واقعہ جماعت کے اندر اختلافِ رائے کے لیے موجود گنجائش پر سوال اٹھاتا ہے۔ اگر کسی سیاسی جماعت میں مذاکرات کی تجویز دینے والے رہنماؤں کو مخالفت یا تضحیک کا سامنا کرنا پڑے تو پالیسی پر سنجیدہ بحث اور غلطیوں سے سبق سیکھنے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق، پی ٹی آئی کے لیے بنیادی مسئلہ صرف احتجاجی سیاست نہیں بلکہ اس حکمتِ عملی کے بارے میں جماعت کے اندر اتفاقِ رائے کا فقدان بھی ہے۔ ایک طرف کارکنوں اور قیادت کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت مزاحمت کی توقعات موجود ہیں، دوسری طرف کچھ رہنما سیاسی راستے کھلے رکھنے، مذاکرات کی گنجائش پیدا کرنے اور جماعت کو مسلسل تصادم سے نکالنے کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔ اس تضاد نے جماعت کے سامنے ایک مشکل سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا سیاسی وفاداری کا معیار مسلسل احتجاج میں شرکت ہونا چاہیے یا جماعت کے مستقبل کے لیے مختلف حکمتِ عملیوں پر بحث کی بھی گنجائش ہونی چاہیے؟

سینئر صحافی سلمان غنی کے مطابق پی ٹی آئی کے موجودہ حالات کی ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ اس میں اپنی سیاسی حکمتِ عملی کا بھی کردار ہے۔ ذرائع کے مطابق لانگ مارچ سے قبل جماعت کی بعض قیادت مفاہمت اور مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے پر تیار تھی، لیکن باہمی ضد اور انا کے باعث یہ راستہ مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔ یہ بیان جماعت کے اندر فیصلہ سازی کے مسائل اور قیادت کے مختلف حلقوں کے درمیان اعتماد کی کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تاہم کسی ایک ذریعے کی رائے کو پوری جماعت کا متفقہ مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں، عمران خان کی قید نے بھی جماعت کی فیصلہ سازی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جب مرکزی قیادت کا فیصلہ سازی میں براہِ راست کردار محدود ہو اور کارکنوں کی توقعات کسی بڑے احتجاج یا فوری سیاسی تبدیلی سے وابستہ ہوں تو دیگر رہنماؤں کے لیے متبادل حکمتِ عملی اختیار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں جماعت کے اندر اختلافات کو دبانے کے بجائے ان پر سنجیدہ مکالمہ ضروری ہوتا ہے، کیونکہ سیاسی جماعتیں محض جذباتی وابستگی سے نہیں بلکہ مؤثر تنظیم، واضح ترجیحات اور حالات کے مطابق حکمتِ عملی تبدیل کرنے کی صلاحیت سے بھی آگے بڑھتی ہیں۔

پی ٹی آئی کے سامنے اب اصل چیلنج اپنے بڑے ووٹ بینک کو برقرار رکھنے کے ساتھ اسے ایک واضح سیاسی پروگرام اور مؤثر عملی حکمتِ عملی میں تبدیل کرنا ہے۔ اگر جماعت احتجاج کو واحد راستہ سمجھتی رہی تو اسے مذاکرات، پارلیمانی عمل، عوامی مسائل اور تنظیمی بحالی جیسے دوسرے محاذوں پر اپنی صلاحیت ثابت کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اس کے برعکس، سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کے لیے بھی واضح شرائط، اعتماد سازی اور جماعت کے اندر اتفاقِ رائے ضروری ہوگا۔ محض احتجاج ختم کرنے یا مذاکرات کی بات کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا، جب تک قیادت یہ طے نہ کرے کہ اس کے بنیادی مطالبات کیا ہیں اور انہیں حاصل کرنے کے لیے قابلِ عمل راستہ کون سا ہے۔ مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال اس بنیادی سیاسی سبق کی یاد دہانی کراتی ہے کہ عوامی حمایت اور بڑا ووٹ بینک کسی جماعت کی مستقل کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ احتجاجی سیاست کسی مرحلے پر طاقت کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اسے مستقل حکمتِ عملی بنا دینے سے سیاسی امکانات محدود بھی ہو سکتے ہیں۔ جماعت کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ داخلی اختلافات کو کیسے سنبھالتی ہے، قیادت اور کارکنوں کی توقعات میں توازن کیسے پیدا کرتی ہے اور احتجاج کے ساتھ مذاکرات، پارلیمانی سیاست اور تنظیمی مضبوطی کے لیے کتنی سنجیدگی سے کام کرتی ہے۔ اگر ان سوالات کے جواب تلاش نہ کیے گئے تو پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت اور اس کی عملی سیاسی قوت کے درمیان فاصلہ مزید بڑھنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

Back to top button