ٹریگر دبانے کے باوجود ارجنٹائن کی نائب صدر کیسے بچ گئیں؟

مشہور کہاوت جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے کے عین مطابق ارجنٹائن کی نائب صدر کرسٹینا فرنینڈس خود پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئیں حالانکہ حملہ آور نے ان کے سر کا نشانہ تاک کر 4 انچ کے فاصلے سے پستول کا ٹریگر دبا دیا تھا۔ لیکن خدا کی قدرت کہ پسٹل میں پانچ گولیاں ہونے کے باوجود ایک بھی گولی نہ چل پائی۔

ارجنٹائن کی نائب صدر پر قاتلانہ حملہ شدید سیاسی تنازعات کے دوران تب ہوا جب فرنینڈس بیونس آئرس میں اپنے گھر پہنچ کر کار سے باہر نکلیں، رب ان کے ہزاروں حامی گھر کے باہر جمع تھے، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک آدمی اچانک ان کے پاس پہنچ کر سر کا نشانہ لیتا ہے اور پستول کا ٹریگر دباتا ہے، لیکن گولی نہیں چل پاتی۔

ارجینٹینا کے صدر البرٹو فرنینڈس نے بتایا کہ پستول میں 5 گولیاں موجود تھیں۔انہوں نے ٹی وی خطاب میں 1983 میں فوجی حکومت کے خاتمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارجینٹینا میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کے بعد سے یہ سب سے سنگین واقعہ ہے، ارجینٹینا کے صدر البرٹو نے قوم کہا کہ کرسٹینا فرنینڈس زندہ ہیں، کسی وجہ سے پستول سے فائر نہیں ہوا تاہم وجہ کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

سیلاب کے دوران دہشت گرد حملوں کا خطرہ کیوں بڑھ گیا؟

قاتلانہ حملہ کرنے والے شخص کی شناخت 35 سالہ شہری کے طور پر کی گئی ہے جسکا تعلق برازیل سے ہے، اسے پولیس نے گرفتار کر کے پستول قبضے میں لے لیا ہے۔

یاد رہے کہ حملے میں محفوظ رہنے والی کرسٹینا فرنینڈس 2007 سے 2015 تک ملک کی صدر تھیں، انہیں 2000 کے آغاز میں ایک کنٹریکٹ دینے پر کرپشن ٹرائل کا سامنا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر انہیں 12 سال کی قید اور ممکنہ طور پر عوامی عہدے سے نااہلی کی سزا ہوسکتی ہے۔

تاہم ان الزامات کو نائب صدر نے مسترد کیا ہے، خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اگلے سال دوبارہ سینیٹ اور صدارت کے لیے انتخاب لڑیں گی۔ یاد رہے کہ پاکستان کی طرح ارجینٹنا بھی بڑھتے ہوئے قرضوں اور مہنگائی کی وجہ سے بدترین معاشی بحران میں پھنسا ہوا ہے، اور ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔ لیکن ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آ پائی کے کہ ارجنٹینا کی نائب صدر کو قتل کرنے کا منصوبہ کیوں بنایا گیا؟

Related Articles

Back to top button