حوثی کون ہیں؟حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کی اصل وجہ کیا؟

حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعووں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ یمن کے شمالی علاقوں سے ابھرنے والی یہ تحریک اب محض ایک مقامی سیاسی یا مسلح گروہ نہیں رہی بلکہ اس کی سرگرمیاں سعودی عرب کی قومی سلامتی، ایران اور سعودی عرب کی علاقائی رقابت، بحیرہ احمر میں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل سے بھی جڑ چکی ہیں۔ حوثیوں کے پس منظر، ان کے سیاسی مقاصد اور سعودی عرب سے دشمنی کی وجوہات کو سمجھے بغیر خطے کی موجودہ صورت حال کا مکمل جائزہ لینا مشکل ہے۔
حوثی تحریک کی ابتدا 1990 کی دہائی میں یمن کے شمالی صوبے صعدہ سے ہوئی، جہاں زیدی شیعہ مذہبی اور ثقافتی روایات کے احیا کے لیے سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ زیدیت شیعہ اسلام کی ایک شاخ ہے جس کی یمن میں کئی صدیوں پرانی تاریخ ہے۔ اس تحریک کو حوثی خاندان سے نسبت کی وجہ سے یہ نام ملا، جبکہ اس کا باضابطہ نام انصار اللہ ہے۔ حسین بدرالدین الحوثی نے تحریک کو نمایاں سیاسی شناخت دی اور شمالی یمن کی زیدی آبادی کے احساسِ محرومی، حکومتی پالیسیوں اور امریکی اثر و رسوخ کے خلاف آواز اٹھائی۔
تجزیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو حوثی تحریک کے عروج کو صرف مذہبی اختلافات کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے یمن کے سیاسی نظام میں نمائندگی، علاقائی محرومی، اقتدار کی تقسیم اور ریاستی اداروں کی کمزوری جیسے عوامل بھی موجود تھے۔ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد تحریک کی امریکی پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہوا، جبکہ 2004 میں یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوگیا۔ اسی سال حسین الحوثی مارے گئے، جس کے بعد ان کے بھائی عبدالملک الحوثی نے قیادت سنبھالی۔ حکومت کے ساتھ کئی برس جاری رہنے والی لڑائی نے تحریک کو ایک منظم مسلح قوت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
2011 میں عرب دنیا میں حکومت مخالف احتجاجی تحریکوں کے دوران یمن کے طویل عرصے تک صدر رہنے والے علی عبداللہ صالح کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ ان کے بعد عبدالربہ منصور ہادی کی قیادت میں سیاسی انتقالِ اقتدار کا عمل شروع ہوا، لیکن ملک میں سیاسی اختلافات، معاشی مشکلات اور بدامنی برقرار رہی۔ حوثیوں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو دارالحکومت چھوڑنا پڑا۔
مبصرین کے خیال میں صنعا پر حوثیوں کے قبضے نے یمن کے اندرونی تنازع کو علاقائی طاقتوں کی کشمکش میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مارچ 2015 میں سعودی عرب نے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔ اس مداخلت کا اعلان کردہ مقصد یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی بحالی اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنا تھا۔ تاہم، برسوں کی فضائی کارروائیوں اور زمینی لڑائی کے باوجود حوثی شمال مغربی یمن میں اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ اس جنگ نے یمن میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان، نقل مکانی، غذائی قلت اور صحت کی سہولتوں کی کمی سمیت سنگین انسانی مسائل پیدا کیے۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دشمنی کی بنیادی وجوہات میں یمن کے اقتدار کی جنگ، سرحدی سلامتی اور ایران و سعودی عرب کی علاقائی رقابت شامل ہیں۔ سعودی قیادت کے لیے حوثیوں کا یمن کے شمالی حصے میں مضبوط ہونا اس لیے تشویش کا باعث بنا کہ اس سے اس کی جنوبی سرحد کے قریب ایک مخالف مسلح قوت مستحکم ہوگئی۔ دوسری جانب حوثی قیادت سعودی فوجی مداخلت کو اپنی تحریک اور یمن کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان تنازع صرف نظریاتی اختلاف تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں سرحدوں، اقتدار اور علاقائی اثر و رسوخ کے مفادات بھی شامل ہوگئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کو اسی طویل تنازع کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ حوثیوں نے ماضی میں سعودی تیل تنصیبات، ہوائی اڈوں اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے مختلف نوعیت کے ہتھیار استعمال کیے۔ ان حملوں نے سعودی عرب کے دفاعی نظام، اہم تنصیبات کے تحفظ اور توانائی کی ترسیل کی سلامتی سے متعلق خدشات کو بڑھایا۔ تاہم، کسی مخصوص حملے کی ذمہ داری، اس کے نقصان اور دفاعی نظام کی کارکردگی کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنے کے لیے متعلقہ واقعے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
ایران کے ساتھ حوثیوں کے تعلقات اس تنازع کا ایک اور اہم پہلو ہیں۔ ایران کو حوثیوں کا اہم علاقائی اتحادی سمجھا جاتا ہے اور تہران انہیں خطے میں اپنے مخالفین کے خلاف قائم وسیع تر سیاسی و عسکری اتحاد کا حصہ تصور کرتا ہے۔ امریکا اور بعض دیگر ممالک ایران پر حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں اضافے کو بھی بیرونی معاونت سے جوڑا جاتا ہے، تاہم ان ہتھیاروں کی تیاری، فراہمی اور استعمال سے متعلق تمام تفصیلات یکساں طور پر واضح نہیں ہیں۔
مبصرین کے خیال میں حوثیوں اور ایران کے تعلقات کو محض مذہبی وابستگی کے تناظر میں سمجھنا بھی ناکافی ہوگا۔ حوثی زیدی مذہبی روایت سے تعلق رکھتے ہیں، جو ایران میں رائج اثنا عشری شیعہ مذہب سے مختلف ہے۔ حوثی قیادت بھی خود کو ایران کا تابع گروہ تسلیم نہیں کرتی اور اپنے مقامی سیاسی و قومی مقاصد پر زور دیتی ہے۔ اس کے باوجود ایران اور حوثیوں کے درمیان مشترکہ علاقائی مفادات اور تعاون نے سعودی عرب سمیت ایران کے مخالف ممالک کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
حوثیوں کی اہمیت یمن اور سعودی عرب کی سرحدوں تک محدود نہیں۔ نومبر 2023 میں غزہ کی جنگ کے دوران حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل کی سمت میزائل و ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں فلسطینیوں کی حمایت میں کی جا رہی ہیں۔ حملوں کے باعث کئی بین الاقوامی جہاز ران کمپنیوں نے اپنے جہازوں کے راستے تبدیل کیے، جس سے سفر کا دورانیہ اور اخراجات بڑھنے کے ساتھ عالمی تجارت پر بھی دباؤ پڑا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یمن کا جغرافیائی محل وقوع حوثیوں کو غیر معمولی تزویراتی اہمیت دیتا ہے۔ آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے اور یورپ و ایشیا کے درمیان بحری تجارت کے اہم راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس راستے میں طویل عدم استحکام سے جہاز رانی، بیمہ، ایندھن اور سامان کی ترسیل کے اخراجات متاثر ہوسکتے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی برقرار رہے تو بحیرہ احمر کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے، خصوصاً ان ممالک کے لیے جو اپنی توانائی کی برآمدات کے متبادل راستوں پر انحصار کرتے ہیں۔
ستمبر 2026 میں جزیرہ میون، جسے پریم بھی کہا جاتا ہے، اور ساحلی شہر المخا کے حوالے سے حوثیوں کی پیش قدمی یا قبضے کی اطلاعات نے بحری سلامتی کے خدشات کو مزید نمایاں کیا۔ تاہم، ایسے دعووں کی حتمی حیثیت جاننے کے لیے آزاد اور قابلِ اعتماد تصدیق ضروری ہے۔ اگر ان علاقوں میں کسی فریق کا کنٹرول تبدیل ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف یمن کی داخلی جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ باب المندب کے قریب بحری آمدورفت کے تحفظ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق حوثیوں کی عسکری صلاحیت کا ایک اہم پہلو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال ہے۔ یمن کے پہاڑی علاقے، دشوار گزار جغرافیہ اور منتشر ٹھکانے ان کے خلاف فوجی کارروائی کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کا بیک وقت استعمال بھی فضائی دفاع کے لیے چیلنج پیدا کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی برسوں کی فوجی کارروائیوں کے باوجود حوثی تحریک کو مکمل طور پر غیر مؤثر نہیں بنایا جا سکا۔
اکتوبر 2026 میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور دیگر سعودی تنصیبات کے حوالے سے سامنے آنے والے حملوں کے دعووں نے سعودی دفاعی نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ حوثیوں نے بعض حملوں میں اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے، جبکہ سعودی قیادت میں قائم اتحادی فوج نے ریاض کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو روکنے کا اعلان کیا۔ ان واقعات کے درست نتائج جاننے کے لیے حملوں، انٹرسیپشن اور ممکنہ نقصانات کی تصدیق شدہ تفصیلات کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کو صرف سعودی عرب اور حوثیوں کی باہمی دشمنی تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں، آبنائے ہرمز میں کشیدگی، یمن میں جاری تنازع اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات نے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بحرانوں کو جنم دیا ہے۔ ایسی صورت حال میں کسی ایک محاذ پر ہونے والی فوجی کارروائی دوسرے محاذوں پر ردعمل کا سبب بن سکتی ہے، جس سے تنازع کے پھیلنے اور سفارتی حل کے امکانات کمزور ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
مجموعی طور پر حوثی تحریک کو سمجھنے کے لیے اس کی مقامی تاریخ، یمن کے اقتدار کی کشمکش، ایران کے ساتھ تعلقات، سعودی عرب کی سلامتی کے خدشات اور عالمی بحری تجارت میں اس کے اثر و رسوخ کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ سعودی عرب پر حملوں کی وجوہات میں برسوں پرانا یمنی تنازع اور علاقائی طاقتوں کی رقابت بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں حوثیوں کی سرگرمیوں نے اس معاملے کو عالمی معاشی سلامتی سے بھی جوڑ دیا ہے۔ اس بحران کا پائیدار حل صرف فوجی کارروائیوں سے ممکن ہونے کے بجائے یمن میں سیاسی تصفیے، سرحدی سلامتی کے انتظامات اور علاقائی طاقتوں کے درمیان مؤثر سفارت کاری سے وابستہ ہے۔
