سعودیہ پر حوثی حملے پاکستان اور ترکیہ کیلئے بڑا امتحان کیوں؟

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور دیگر اہم شہروں پر حوثیوں کے میزائل حملوں نے خطے کی سلامتی، سعودی خودمختاری اور علاقائی طاقتوں کے کردار کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان حملوں کے بعد عالمِ اسلام میں تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ پاکستان اور ترکیہ کے لیے بھی یہ صورت حال سفارتی اور دفاعی اعتبار سے ایک بڑا امتحان بن سکتی ہے۔ دونوں ممالک سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن اصل چیلنج یہ ہے کہ سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ خطے کو ایک وسیع جنگ کی طرف بڑھنے سے کیسے روکا جائے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے میزائل حملوں نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ یمن کا تنازع اب محض ایک مقامی یا محدود علاقائی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور مسلم دنیا تک پھیل سکتے ہیں۔ حرمین شریفین کی سرزمین اور سعودی عرب کے اہم شہروں کی سلامتی عالمِ اسلام کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حملوں کے خلاف مختلف ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، جبکہ ترکیہ نے بھی حملوں کو غیر قانونی اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم حمایت کے اظہار اور براہِ راست فوجی کارروائی کے درمیان ایک واضح فرق موجود ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے لیے اصل مشکل یہ ہوگی کہ وہ سعودی عرب کے دفاع میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تعلقات، یمن کی پیچیدہ صورت حال اور علاقائی طاقتوں کے مفادات کو بھی سامنے رکھیں۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ معاملہ خاص طور پر حساس ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات اور دفاعی تعاون کی اہمیت ہے، تو دوسری طرف ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ پاکستان کے اپنے علاقائی مفادات اور سرحدی سلامتی کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اسلام آباد کے لیے اس لیے ضروری ہوگا کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کی حمایت کرے، لیکن ایسے اقدامات سے گریز کی کوشش بھی کرے جو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم یا وسیع علاقائی جنگ کا سبب بنیں۔

پاکستان کے سامنے ایک اہم راستہ سفارت کاری ہے۔ اگر اسلام آباد سعودی عرب، ایران، ترکیہ اور دیگر متعلقہ ممالک کے درمیان رابطوں کو مؤثر بنانے میں کردار ادا کرتا ہے تو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے محض بیانات کافی نہیں ہوں گے؛ ضروری ہوگا کہ حملوں کی روک تھام، تنازع کے بنیادی اسباب اور فریقین کے تحفظات پر قابلِ عمل بات چیت کی جائے۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں ترکیہ کے لیے بھی صورت حال آسان نہیں۔ وہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اور علاقائی سلامتی کے معاملات میں اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے، لیکن یمن کے تنازع میں کسی براہِ راست فوجی مداخلت کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا۔ سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے اقدامات اور کسی فریق کے خلاف براہِ راست جنگ میں شریک ہونے کے فیصلے الگ نوعیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کے لیے بہتر حکمت عملی یہی ہوگی کہ وہ اپنے دفاعی تعاون، سیاسی حمایت اور سفارتی اثرورسوخ کو اس انداز میں بروئے کار لائیں کہ سعودی عرب کو تحفظ ملے اور جنگ کا دائرہ مزید وسیع نہ ہو۔

اس بحران میں ایران کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ایران کشیدگی کم کرنے، متعلقہ فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کرنے اور حملوں کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے تو صورت حال کو سنبھالنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم کسی بھی ثالثی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ متعلقہ فریق مذاکرات کے لیے کس حد تک تیار ہیں اور ان کے درمیان طے پانے والی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کیسے یقینی بنایا جاتا ہے۔ ایران سمیت علاقائی طاقتوں کو محض بیانات سے آگے بڑھ کر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو حملوں کے خطرے کو کم کر سکیں۔

مبصرین کے مطابق حوثیوں کی عسکری صلاحیت، میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں تک رسائی اور یمن کے اندر جاری سیاسی تنازع اس مسئلے کے اہم پہلو ہیں۔ صرف دفاعی اقدامات کے ذریعے فوری حملوں کو روکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، لیکن طویل مدتی استحکام کے لیے تنازع کے بنیادی اسباب کو حل کرنا بھی ضروری ہے۔ ہتھیاروں کی غیر قانونی فراہمی روکنے، یمن کے اندر سیاسی مفاہمت کو فروغ دینے اور جامع مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر مربوط کوششیں درکار ہوں گی۔

سعودی عرب کی سلامتی کے لیے دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے، لیکن اس کے ساتھ سفارتی راستے بھی کھلے رہنے چاہییں۔ مصر سمیت دیگر ممالک کی جانب سے سعودی خودمختاری کے تحفظ کی حمایت اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے کئی ممالک اس بحران کو اہمیت دے رہے ہیں۔ تاہم کسی مشترکہ دفاعی عزم کو مؤثر بنانے کے لیے واضح حکمت عملی، باہمی رابطہ اور ایسے اقدامات ضروری ہوں گے جو دفاع کو مضبوط کریں، مگر غیر ضروری تصادم کو ہوا نہ دیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے لیے موجودہ صورت حال کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے خطے کو ایک نئی جنگ سے بچانے کی کوشش بھی کریں۔ اگر دفاعی تعاون کے ساتھ سفارتی رابطوں، یمن میں سیاسی مفاہمت اور علاقائی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھایا جاتا ہے تو بحران پر قابو پانے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ تنازع براہِ راست علاقائی طاقتوں کے تصادم میں تبدیل ہو گیا تو اس کے اثرات سعودی عرب، ایران، پاکستان، ترکیہ اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں عالمِ اسلام کے لیے ضروری ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ پر واضح مؤقف اختیار کیا جائے، مگر ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ اختلافات اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ کسی وسیع جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ اس وقت مؤثر دفاع، سنجیدہ سفارت کاری اور جامع مذاکرات ہی وہ راستے ہیں جن کے ذریعے سعودی عرب کی سلامتی اور خطے کے پائیدار امن کو بیک وقت آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

Back to top button