نور مقدم قتل کیس کی تفتیش میں بڑی کمزوریاں سامنے آ گئیں

نور مقدم قتل کیس کے حوالے سے تفتیش میں بڑی کمزوریاں سامنے آ گئی ہیں، کیس میں کوئی عینی شاہد شامل نہیں ہے جبکہ کیمروں کی ریکارڈنگ اور چوکی دار کے بیان تک کو تفتیش کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

تفتیشی افسر کے مطابق واقعے کا کوئی عینی شاہد گواہ سامنے نہیں آیا، گرفتاری کے وقت مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی پینٹ پر خون بھی نہیں تھا اور چاقو پر ظاہر جعفر کے فنگر پرنٹس نہیں تھے، ظاہر جعفرکو صرف گھر میں ہونے کی وجہ سے شامل تفتیش کیا گیا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ ملزم ظاہر جعفر نور کے قتل کا اعتراف کرچکا اور ڈی این اے، فنگر پرنٹس سے بھی قتل میں ملوث ہونا ثابت ہو چکا۔

عمران جمہوریت کی کشتی ڈبونے والے راستے پر چل نکلے

تاہم قتل کے دن نور کو گھسیٹ کر گھر کے اندر لے جانے کی سی سی ٹی وی ویڈیوز بھی سامنے آئیں، واردات کے دن گھر پہنچنے والی تھیراپی ورکس کی ٹیم پر بھی ملزم ظاہر جعفر نے حملہ کیا۔

Back to top button