ٹرمپ کے دعوے مسترد، معاہدے بارے حتمی فیصلہ نہیں کیا: ایران

ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور ٹرمپ کے بیانات حقیقت اور مبالغہ آرائی کا مجموعہ ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق باخبر ذرائع نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ایران میں توثیق کے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے، تاہم اس پر باضابطہ منظوری ابھی باقی ہے۔ذرائع کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو امریکی ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد ایران کی اپنی شرائط کے مطابق دوبارہ کھولا جائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ ایران بغیر کسی فیس یا شرائط کے آبنائے ہرمز کھولنے کا پابند ہوگا۔ایرانی ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کھولنے کے منصوبے میں بحری جہازوں کی نگرانی، تلاشی، سکیورٹی اقدامات اور مختلف خدمات کی فراہمی جیسے امور شامل ہو سکتے ہیں۔
فارس نیوز کے مطابق ایرانی حکام نے ان خبروں کو بھی بے بنیاد قرار دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ مجوزہ معاہدے میں ایران کے جوہری مواد کو تباہ کرنے یا مکمل طور پر ختم کرنے کی شق شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں ایران کے منجمد اثاثوں میں سے فوری طور پر 12 ارب ڈالر جاری کرنے کی تجویز شامل ہے، جبکہ لبنان میں حزب اللہ کے مؤقف کے مطابق مکمل جنگ بندی کا ذکر بھی معاہدے کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔ایرانی ذرائع نے کہا کہ تہران کسی بھی معاہدے کو اپنی قومی خودمختاری، دفاعی مفادات اور خطے میں توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی شکل دے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے بیانات میں تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی مزید پیچیدہ مذاکرات متوقع ہیں۔
