ایران امریکہ جنگ: ڈیل نہیں مستقل حل!

تحریر: حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
ایران امریکہ جنگ بندی، ایران مستقل حل کا متلاشی جبکہ صدر ٹرمپ ڈیل کی تلاش میں۔ ڈیل اور حل کا بنیادی فرق اتنا ، ڈیل دو فریقوں کے درمیان بنیادی مراعات کاتبادلہ جبکہ حل نے تنازع کو جڑ سے اُکھاڑنا ہے۔

ایران کا مسئلہ یورینیم کی افزودگی پر پابندیوں یا جوہری معائنوں کے موثر نظام تک محدود نہیں ، وہ 47 سال سے جاری طویل اسٹرٹیجک اور نظریاتی تصادم کو ختم کرنا مستقل حل سمجھتا ہے ۔ ایران کو کسی عارضی معاہدے کی بجائے اپنے سیکورٹی خدشات ، خودمختاری ، جغرافیائی اور علاقائی حیثیت کو تسلیم کروانا ہے ۔ ایران کے نزدیک جوہری مسئلہ تو ایران کی نظریاتی شناخت کو ختم کرنے کی کوششوں کے ردِعمل میں سامنے آیا ۔ ویسے بھی ایران کے سپریم لیڈر کا فتویٰ 1999 میں آیا کہ ایٹمی ہتھیار بنانا ، استعمال کرنا، بے گناہ سویلین کا قتل عام ہو ، صریحاً غیراسلامی ہے ۔ فتویٰ باقاعدہ ایرانی قوانین کا حصہ ہے ۔ 20 مارچ 2003 میں جھوٹا بیانیہ بنایا کہ عراق وسیع تباہی کے ہتھیار بنا رہا ہے ، امریکہ نے جب عراق پر قبضہ کیا تو ایران کو خدشہ تھا کہ امریکہ اس پر حملہ کرے گا۔

بعد ازاں جب امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک کی 2005 میں کتاب منظرعام پر آئی جس میں پینٹاگون کا ایک میمو بطور حوالہ موجود کہ سانحہ 9\11 کے چند ہفتوں بعد ہی طے ہو گیا تھا کہ اگلے پانچ سال میں 7 ممالک عراق ، شام ، لیبیا ، لبنان ، صومالیہ ، سوڈان اور ایران کو غیرموثر ،DYSFUNCTIONAL ریاستیں بنا دیا جائیگا ۔ سارے ممالک بھینٹ چڑھ گئے ، اب ایران بچا تھا۔

28 فروری 2026 کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر یلغار کی تو چند دنوں بعد ہی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا بڑے کروفر سے بیان نشر ہوا کہ میں پچھلے 40 سال سے اس دن کے انتظار میں تھا ۔ چنانچہ 28 فروری کا حملہ عملاً ایران میں اسلامی حکومت کا صفایا تھا ، وینزویلا ، شام ، عراق وغیرہ طرز پر اپنی مرضی کا حکمران مسلط کرنا تھا ۔ 11 فروری 2026 ، سچویشن روم وائٹ ہاؤس میں جب ایران کیخلاف جنگ کی منصوبہ بندی اور حملے کے خدوخال نکھارے جا رہے تھے تو قطع نظر کہ آرمڈ سروسز کمیٹی چیئرمین جنرل کین ، CIA ڈائریکٹر ریٹ کلف سمیت سارے جرنیلوں نے ایران پر حملے کی مخالفت کی اور بتایا کہ حملے سے خاطرخواہ نتائج نہیں ملنے اور دلدل میں پھنس جائیں گے مگر سچویشن روم میں موجود جنگی مجرم نیتن یاہو نے مال بیچا کہ چند گھنٹوں کے آپریشن میں ایران امریکہ کے قدموں میں ہوگا۔

اس سے اندازہ لگائیں کہ کس قابلیت اور سمجھ کے لوگ ایران پر حملے کی حکمت عملی میں موجود تھے ۔ ویسے بھی مارکو روبیو اورا سٹیو وٹکاف کی نالائقی کا پوری دنیا میں طوطی بولتا ہے ، مگر صدر ٹرمپ کو خوشامدیوں کا ٹولہ چاہیے ۔ بقول ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ، ’’ایران بھی اس حملے کا 26 سال سے منتظر تھا اور پوری تیاری میں تھا ‘‘، وقت نے ثابت کیا کہ ایران کی تیاری جیت گئی۔ ایسے وقت جب ایران کی ساری قیادت گھائل ہو چکی تھی مگر استقامت ، عزم ، حکمت نے ، جو مومن کی میراث ، چند گھنٹوں میں آبنائے ہرمز بند کرکے امریکہ سمیت ساری دنیا کو چونکا دیا ۔ ٹرمپ / نیتن یاہو منصوبہ بندی چند گھنٹوں میں مٹی چاٹ رہی تھی ، ایران میں 28 فروری سے پہلے سے زیادہ مضبوط اور مستحکم حکومت وجود میں آ گئی ۔ تب سے صدر ٹرمپ ہر دھمکی ، ہر سفارتی مفاہمتی چینل استعمال کر چکے ہیں ، مگر ایران کو کسی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ ایران 27 فروری کی نسبت آج زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے ۔

47 سال (1979 ) سے ایران کو تکلیف اور اذیت سے دو چار کر رکھا تھا ۔ ایران سے جو مطالبات آج کئے جا رہے ہیں ، 11 فروری 1979 کو جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو ان میں سے کسی مسئلےکا کوئی وجود نہیں تھا ۔ البتہ اسلامی حکومت قائم ہوتے ہی یاسر عرفات ( اگست 1979 ) کو تہران بلا کر اسرائیلی سفارتخانہ PLO مشن قائم کر دیا ، ساتھ ہی ہر رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا ۔ یورینیم کی افزودگی کا مسئلہ 2005 میں پیدا ہوا جب ایران نے سویلین استعمال کیلئے افزودگی شروع کی ۔ حزب اللہ ، حماس اور حوثی کا وجود بالترتیب 1983 ، 1987 اور 2002 میں آیا ۔ اسرائیل نے 1983 میں جنوبی لبنان پر حملہ کیا اور بیروت پر قبضہ کیا تو حزب اللہ وجود میں آئی ، 1986 میں پہلی انتفادہ تحریک چلی ہی اسلئے کہ اسلامی ممالک کی حکومتوں نے فلسطین کو اکیلا چھوڑا اور ایسے وقت PLO نے بھی دو ریاستی حل میں عافیت ڈھونڈنے کی کوشش کی تو فلسطینی عوام نے تحریک اپنے ہاتھ میں لے لی ۔ جب امریکہ نے لبنان کی بائیں بازو کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کی تو پہلے زیدی شیعہ احیائی تحریک الشاب المومن شروع ہوئی جو 2004 میں عسکری ہوگئی ۔یمنی حکومت نے جب ظلم اور زیادتی کی انتہا کر دی تو 2015 میں حوثی تخلیق ہوئے جو آج آبنائے مندیب کو کنٹرول کر رہے ہیں ۔ ایران نے نہ حزب اللہ ، نہ حماس اور نہ حوثیوں کو تخلیق کیا ۔ جبکہ حماس خالصتاً سنی مسلمان بلکہ اخوان المسلین کا آف شوٹ تھے ۔ ایران نے تو امام خمینی کا 1979 کا فتویٰ کہ فلسطین کو آزاد کروانا اور مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دینا ، اسلامی فریضہ جانا ۔ حزب اللہ ، حماس اور حوثی تو الٹا ایران کے دست و بازو بنے جو اللہ کی طرف سے تحفہ ملا ۔

جوہری معاہدہ JCPOA تو ایران نے 2016 میں امریکی صدر اوباما اور 5 بڑے ممالک کیساتھ سائن کر دیا تھا ، جس میں ایران افزودگی 3فیصدتک محدود کرنے پر رضا مند ہو گیا تھا ۔ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے کہنے پر 2018 میں یہ معاہدہ توڑ دیا ، آج آبنائے ہرمز کھلوانا سب سے بڑا مسئلہ جبکہ پوری دنیا ایک بہت بڑے معاشی بحران سے دو چار ہے ۔ 27 فروری کو آبنائے ہرمز تو کھلی تھی ۔ اب ایران کو نہ تو جنگ بندی میں دلچسپی ہے اور نہ کسی ڈیل میں ، انکو صرف اور صرف مسئلے کو حل کرنا ہے۔

28 فروری سے پہلے پابندیوں اور مختلف تادیبی کارروائیوں کی وجہ سے ایران کو 800 ارب ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے ۔ 28 فروری سے اب تک جنگی تباہی سے ایران کا 50 ارب کا مزید نقصان ہو چکا ۔ ایران اگر فی بیرل تیل پر 2 ڈالر لگان لگائے تو بمشکل 12 ارب ڈالر سال کے کمائے گا ۔

اس وقت ایران کے چار مطالبات، جنگی نقصان پورا کیاجائے ، معاشی پابندیاں مکمل طور ہٹائی جائیں ، منجمد اثاثے فوراً واگزار ہوں ، امریکی فوجیں خطے سے بتدریج نکل جائیں اور خطے کو زیرتسلط رکھنے کی بجائے خطے کے ممالک کی سلامتی ، آزادی اور خودمختاری کا احترام کیا جائے ۔ وقتی طور پر جنگ بندی کو مستقل بنانے کیلئے پابندیاں ، اثاثوں کی بحالی ، ناکہ بندی کا خاتمہ ، اور غزہ ، لبنان سے اسرائیلی فوج کا انخلاایران کا فوری مطالبہ ہے۔

چند گھنٹے پہلے امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو آگاہ کیا ہے کہ ’’امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرے گا، اگر ایران نے امریکی فوجیوں کو نشانہ نہ بنایا‘‘۔ ٹرمپ انتظامیہ سفارتی حل کو ترجیح دے رہی ہے اور جنگ کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے خواہاں نہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں چند گھنٹے کے اندر معاہدے کی نوید سنائی ہے ۔ اگرچہ جنگ عملاً بند ہے ، ایران فاتح ضرور ہے مگر ایران مستقل حل اور امن کا خواہاں ہے ، ڈیل کا نہیں۔

 

Back to top button