اسلام آباد میں نیا سیاسی انقلاب؟وفاقی دارالحکومت کا اگلا وزیراعلیٰ کون ہوگا؟

شہر اقتدار اسلام آباد، جو کبھی صرف سرکاری دفاتر اور بیوروکریسی کا شہر سمجھا جاتا تھا، اب ایک بڑے سیاسی اور انتظامی انقلاب کے دہانے پر کھڑا نظر آتا ہے۔ وفاقی حکومت نے دارالحکومت کے نظامِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلیوں کا ایسا منصوبہ تیار کر لیا ہے جو نہ صرف اسلام آباد کی انتظامی ساخت بدل سکتا ہے بلکہ پاکستان میں مقامی جمہوریت کی ایک نئی مثال بھی قائم کر سکتا ہے۔
روزنامہ جنگ سے وابستہ سینئر صحافی انصار عباسی کا دعویٰ ہے کہ وفاقی حکومت کے نئے منصوبے کے مطابق اسلام آباد میں پہلی بار ایک منتخب علاقائی حکومت قائم کی جائے گی، 27 رکنی اسمبلی وجود میں آئے گی، جبکہ اس اسمبلی کا سربراہ وزیراعلیٰ یا میئر کے طور پر کام کرے گا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اسلام آباد کا اگلا وزیر اعلیٰ کون ہو گا؟ مبصرین کے مطابق اگر یہ اصلاحات نافذ ہو جاتی ہیں تو اسلام آباد میں دہائیوں سے جاری ادارہ جاتی انتشار، اختیارات کی کشمکش اور شہری مسائل کے حل کے لیے ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔
انصار عباسی کے بقول وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی انتظامی اور سیاسی ساخت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک جامع اصلاحاتی منصوبہ تیار کر لیا ہے، جسے پاکستان کے دارالحکومت کی تاریخ کی سب سے بڑی گورننس اصلاحات قرار دیا جا رہا ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن کے زیرِ اہتمام تیار ہونے والی 138 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کی جا چکی ہے۔ رپورٹ میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ اسلام آباد اب صرف ایک انتظامی مرکز نہیں بلکہ 24 لاکھ سے زائد آبادی والا ایک بڑا شہری مرکز بن چکا ہے، تاہم اس کی گورننس اور ادارہ جاتی ترقی آبادی اور ضروریات کے مطابق نہیں ہو سکی۔
اصلاحاتی منصوبے کا بنیادی نکتہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری گورنمنٹ (ICTG) کا قیام ہے، جسے انتظامی اور مالی خودمختاری حاصل ہوگی۔ مجوزہ نظام کے تحت 27 رکنی اسمبلی تشکیل دی جائے گی، جس میں 21 ارکان براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوں گے، جبکہ خواتین کے لیے پانچ اور اقلیتوں کے لیے ایک مخصوص نشست رکھی جائے گی۔یہ اسمبلی اپنے سربراہ کا انتخاب کرے گی، جسے وفاقی حکومت کی منظوری سے وزیراعلیٰ یا میئر کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام سے پہلی مرتبہ اسلام آباد کے شہری اپنے مقامی معاملات کے بارے میں فیصلہ سازی میں براہِ راست کردار ادا کر سکیں گے۔
منصوبے کے مطابق امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے اختیارات وفاق کے پاس رہیں گے، تاہم باقی بیشتر انتظامی امور منتخب حکومت کو منتقل کر دیے جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں سی ڈی اے اور مختلف وفاقی وزارتوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم سے پیدا ہونے والے مسائل میں کمی متوقع ہے۔رپورٹ میں "اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری گورنمنٹ ایکٹ” کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس کے ذریعے موجودہ بلدیاتی، ترقیاتی اور انتظامی قوانین کو یکجا کر کے ایک مربوط قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔ اس کا مقصد فیصلہ سازی کو آسان، شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔
اصلاحات کا ایک اہم پہلو "اسلام آباد سمارٹ سٹی ماڈل” ہے، جس کے تحت دارالحکومت کو جدید، ماحول دوست اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ شہر میں تبدیل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس ماڈل میں ڈیجیٹل گورننس، زمینوں کا ریکارڈ، ٹیکس نظام، لائسنسنگ، شہری شکایات اور سرکاری خدمات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لانے کی تجویز شامل ہے۔رپورٹ میں صحت، تعلیم، سماجی بہبود، سیاحت و ثقافت، ماحولیات اور ڈیجیٹل گورننس کے لیے چھ خصوصی اداروں کے قیام کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اسلام آباد کو ایک جدید، شفاف اور جوابدہ نظامِ حکمرانی میسر آ سکتا ہے۔ ساتھ ہی شہری نمائندگی میں اضافہ، مقامی ترقی کی رفتار میں بہتری اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار سیاسی اتفاقِ رائے، قانونی ترامیم اور اختیارات کی حقیقی منتقلی پر ہوگا۔ اگر حکومت اس سمت میں پیش رفت کرتی ہے تو اسلام آباد پاکستان کا پہلا ایسا وفاقی دارالحکومت بن سکتا ہے جہاں وفاقی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور بااختیار منتخب مقامی حکومت بھی موجود ہو۔
