پاراچنار پر ایرانی بیان غیر ضروری ہے : دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے پارا چنار میں ہونےوالے قبائلی تصادم سےمتعلق ایران کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہ اکہ پاراچنار پر ایرانی بیان غیر ضروری ہے۔
کچھ عناصر پاکستان کو ڈیفالٹ کرانا چاہتے تھے: اسحٰق ڈار
پارا چنار واقعے پر ایرانی حکام کے بیان سےمتعلق ترجمان دفتر خارجہ نےردعمل دیتے ہوئے کہاکہ کسی بھی انسان کا قتل ناقابل برداشت ہے، پاکستان اپنےشہریوں کےتحفظ کو یقینی بنانےکا ذمہ دار ہے،پاراچنار پر ایرانی بیان غیر ضروری ہے، اس بیان میں پارا چنار کی مکمل صورت حال کا احاطہ موجود نہیں ہے،وزارت داخلہ اس متعلق کام کررہی ہے، شیڈیول 4 میں افراد کو شامل کرنا ایک قانونی عمل ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نےکہا کہ بڑی تعداد میں پاکستانی شہری مشرق وسطیٰ ممالک میں کام کررہے ہیں،زیادہ تر پاکستانی قانون کااحترام کرنےوالے ہیں، میزبان حکومتیں اپنےمعاشروں کی ترقی میں پاکستانیوں کےکردار کو سراہتی ہیں، پاکستان نےہمیشہ اپنے شہریوں کوکہا وہ جن ممالک میں ہیں ان کےقوانین اور روایات کااحترام کریں،جب کوئی بھی کیس وزارت خارجہ کےپاس آئے گا تو اسے متعلقہ حکومتوں سےشیئر کیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کاکہناتھا جرمنی کےشہر فرینکفرٹ میں ہونے والے واقعےپر جرمن حکومت سےرابطے میں ہیں،جرمن حکومت کوکہاہے کہ ذمہ داران کےخلاف کارروائی کی جائے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا پاکستان یقین رکھتا ہےکہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔وزیراعظم نےناسازی طبعیت کےباعث ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری کےلیے ایک ٹیم کو نامزد کیا،اس ٹیم نےنائب وزیراعظم اسحٰق ڈار کی قیادت میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
