عمران کی ہمشیرہ کو انڈا مارنا کیا مکافات عمل کا نتیجہ ہے؟

پاکستانی سوشل میڈیا پر جہاں یوتھیوں کی جانب سے عمران خان کی بہن علیمہ خان کو انڈہ مارنے کی مذمت کی جا رہی ہے وہیں انکے مخالفین کی جانب سے اسے مکافات عمل کا نتیجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ جہاں سیاسی اور عوامی حلقے اس حرکت کی مذمت کر رہے ہیں وہیں بعض حلقوں کا کہنا ہے عمران اور ان کے ساتھیوں نے اپنے ایک دور اقتدار میں جو کچھ بویا اب وہی کاٹ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ علیمہ خان اپنی دیگر بہنوں کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کر رہی تھیں کہ اس دوران تحریک انصاف کی ناراض خواتین کی جانب سے اُن کی جانب انڈے پھینکے گے جن میں سے ایک ان کے چہرے پر جا لگا۔ راولپنڈی پولیس کے مطابق انڈے مارنے والی دو خواتین کو تحویل میں لے کر اُنھیں اُن کی گاڑی سمیت اڈیالہ چوکی منتقل کر دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ خواتین پشاور سے اسلام آباد پہنچی تھیں اور سرکاری ملازمت سے برطرف کیے جانے پر برہم تھیں۔ ان خواتین نے درجنوں دیگر خواتین کے ساتھ اپنی برطرفی بارے علیمہ خان کے ساتھ گفتگو کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے بات سننے سے انکار کر دیا، چنانچہ آخری حربے کے طور پر متاثرہ خواتین نے انڈے برسانے کا فیصلہ کیا۔
انڈہ کھانے کے بعد علیمہ خان نے میڈیا ٹاک ملتوی کر دی اور کہا کہ ہمیں ایسے حملوں کی کوئی فکر نہیں، ہمیں پتا ہے کہ ایسا ہو گا۔‘ گوہر خان اور اسد قیصر سمیت تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں نے انڈا مارنے کے واقعے کو حکومت کے سر ڈالنے کی کوشش بھی کی۔ تاہم ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ’انڈہ پھینکنے والی خواتین کا تعلق تحریک انصاف سے ہی ہے۔‘ ترجمان کے مطابق انڈے مارنے والی خواتین کا تعلق خیبر پختونخوا ایمپلائز گرینڈ الائنس اور آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن سے ہے اور وہ ملازمت سے برطرفیوں کے خلاف احتجاج کے لیے پشاور سے اسلام آباد آئیں تھیں۔ تاہم جب علیمہ نے انکے مطالبات کے بارے جواب دینے سے انکار کیا تو انڈے پھینکنے کا واقعہ پیش آیا۔
راولپنڈی پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث خواتین کو تحویل میں لے لیا گیا ہے، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی پر انڈہ پھینکنا کوئی جرم نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے علیمہ خان کو انڈہ مارنے کے سخت مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی چِیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ اب بات عمران کی فیملی پر حملے تک پہنچ چکی ہے۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ علیمہ خان کو انڈا مارنے والی خواتین کا تعلق تحریک انصاف سے ہے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کوئی ہے جو بانی کے اہلخانہ پر حملہ کر کے حالات بگاڑنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ’حکومت یا کسی ادارے کو اس طرح کی چھوٹی حرکت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام میں اُنکا کہنا تھا کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے۔ بظاہر انڈا مارنے والی خواتین کا تعلق عمران خان کی اپنی جماعت سے ہے۔ انکا کہنا تھا کہ انڈا مارنے میں صرف دو خواتین نہیں بلکہ درجنوں دیگر لوگ بھی ملوث ہیں جو احتجاج کر رہے تھے اور اس دوران گاڑیوں کی بھی توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔
اس معاملے میں گرفتاری عمل میں لائے جانے سے متعلق سوال پر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر متاثرہ پارٹی کی جانب سے کوئی درخواست آئی تو اس پر کارروائِی کی جائے گی۔
عوام کو ماموں بنانے کے چکر میں مریم نواز خود ماموں کیسے بنیں؟
ادھر وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی اُمور رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ علیمہ خان کو انڈہ مارنا قابل مذمت واقعہ ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام میں اُن کا کہنا تھا کہ ’علیمہ خان بزرگ خاتون ہیں، عمران خقن کی سیاست اپنی جگہ لیکن وہ ایک باوفا بہن ہیں اور میں اُن کی بہت ذیادہ عزت کرتا ہوں۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’حملہ کرنے والے کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ جہاں حکومت میں شامل بیشتر افراد اس واقعے کی مذمت کر رہے ہیں وہیں کچھ لوگ اسے مکافات عمل بھی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دور اقتدار میں نہ صرف نواز شریف پر جوتا پھینکا گیا بلکہ خواجہ محمد آصف کے چہرے پر سیاہی پھینکی گئی۔ اس کے علاوہ احسن اقبال کو تو گولی مار دی گئی تھی، لہذا جو کچھ ہو رہا ہے وہ کرم ہے اور تحریک انصاف نے جو کچھ بویا تھا اب وہی کاٹ رہی ہے۔
تاہم کچھ لوگ ایسے ہیں جو انڈہ مارنے کے واقعے پر اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عمران کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بہن مریم وٹو کا ایکس پر دیا گیا بیان شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’بشریٰ بی بی کی بہن خود کہہ رہی ہے کہ سب ڈرامہ ہے اور علیمہ خان نے خود کو انڈا پڑوایا ہے۔ مریم وٹو نے ایکس پر اس واقعے کے حوالے سے لکھا تھا ’آپ سب بیوقوف بن رہے ہیں۔‘
تاہم سچ جو بھی ہو، مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست تیزی سے زوال پذیر ہے اور اس میں اخلاقی گراوٹ آ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست میں بدتمیزی اور بد زبانی کے کلچر کو دراصل عمران کی جماعت تحریک انصاف نے فروغ دیا ہے۔
مبصرین کے بقول یہ واقعات اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جس کے تحت آپ اپنے سیاسی مخالف کو بنیادی احترام دینا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ سینئر صحافی اعزاز سید نے اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات پر پی ٹی آئی نے خوشیاں منائیں، لیکن وقت پلٹا اور عمران پر بھی جوتا اُچھالا گیا۔ اب ان کی بہن پر انڈا پھینکا گیا۔ اُن کے بقول اس واقعے پر آج نون لیگی کارکن خوشیاں منا رہے ہیں۔ لیکن جو کل غلط تھا، وہ آج بھی غلط ہے۔ لہذا کوئی بھی غلط حرکت کرتے ہوئے مکافات عمل کا نظریہ یاد رکھنا چاہیے۔
