عمرانڈو ججز سپریم کورٹ کو تباہ کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟

عدالت عظمیٰ کے عمراندار ججز ذاتی مخاصمت میں سپریم کورٹ کو تباہ کرنے پر تل گئے۔ اعلیٰ عدلیہ کے چند مخصوص ججز کی جانب سے پے در پے سامنے آنے والے خطوط سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ یہ ججز عدالتی فیصلوں کو آئین و قانون کی بجائے سیاسی و ذاتی مفاد کے ترازو میں تولنے پر بضد ہیں تاکہ سپریم کورٹ میں گروپنگ کو مزید ہوا دی جا سکے۔ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ اے ملک کے رویے سے یہ تاثر کھل کر سامنے آ رہا ہے کہ وہ آئین و قانون کی پاسداری کے بجائے مخصوص سیاسی مقاصد کیلئے سپریم کورٹ کو مزید متنازع بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ عمراندار ججز کا یہ مذموم طرز عمل جہاں عوامی تنقید کی زد میں ہے وہیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی اسے مسترد کر دیا ہے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مطابق ججز کے خطوط عدلیہ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں یہ سلسلہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ کے 4 سینیئر ججز بشمول جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عائشہ اے ملک نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰی آفریدی کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ رولز 1980 کی منسوخی اور سپریم کورٹ رولز 2025 کے نفاذ کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ غیر قانونی ہے۔ چاروں ججز نے نہ صرف یہ کہ سپریم کورٹ رولز کی بذریعہ سرکولیشن منظوری پر اعتراض اٹھایا بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰی آفریدی کی زیرصدارت منقعدہ فل کورٹ اجلاس میں شرکت سے بھی انکار کر دیا۔
تاہم اس حوالے سےسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں رؤف عطاء کا کہنا ہے کہ اِس وقت سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کو مِلا کر کُل 25 ججز ہیں اور 21 ججز نے اِس طریقہ کار کے بارے میں کوئی سوال نہیں اُٹھایا۔ اس لئے سپریم کورٹ کے رولز بارے 4 ججز کی جانب سے اُٹھائے گئے اعتراضات کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ خطوط لکھنے والے ججز وہ ہیں جو 26 ویں آئینی ترمیم سے متاثر ہوئے ہیں، اس لئے وہ ذاتی عناد میں اس طرح کی کارروائیاں ڈال رہے ہیں جس سے حقیقت میں سپریم کورٹ کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔ یہ خطوط کا سلسلہ نہیں ہونا چاہیے۔ جج صاحبان کو اپنے معاملات ٹی۔روم میں بیٹھ کر حل کرنے چاہییں۔ یقیناً وہ جج صاحبان 26 ویں آئینی ترمیم سے متاثرہ فریق ہیں۔ اگر یہ ترمیم نہ لائی جاتی تو آج وہ چیف جسٹس ہوتے لیکن اِس ترمیم کو لانے میں نہ چیف جسٹس کا کوئی کردار ہے نہ بار کونسل کا، یہ پارلیمان کی منظور کردہ ترمیم ہے جو اب آئین کا حصّہ بن چُکی ہے جس آئین کے تحت تمام جج صاحبان نے حلف لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے خطوط کی کوئی آئینی حیثیت نہیں یہ محض سپریم کورٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، ماضی میں جو خطوط لکھے جاتے رہے ہیں وہ بھی غلط تھا اور آج جو لکھے جا رہے ہیں وہ بھی غلط ہیں۔
دوسری جانب ناقدین کے مطابق سپریم کورٹ کے عمراندار ججز کا یہ طرزِ عمل صرف ذاتی ضد اور سیاسی وفاداری کی جھلک نہیں بلکہ پورے ادارے کو تباہی کے دہانے پر دھکیلنے کی ایک کھلی سازش ہے۔ ایسے ججز عدلیہ کو بچانے کے بجائے اسے عوام کی نظروں میں مزید متنازع اور ناقابلِ اعتبار بنا رہے ہیں۔ پاکستان کی سپریم کورٹ کبھی انصاف کی علامت سمجھی جاتی تھی، مگر آج ان چند ججز کی ذاتی ضد اور سیاسی وابستگیوں کے باعث گروپنگ کا شکار ہو چکی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ ججز دانستہ طور پر سپریم کورٹ کو انتشار کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ جب اعلیٰ ترین ججز اپنی ذاتی پسند و ناپسند کو مقدم رکھیں گے تو پھر انصاف کہاں سے ملے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کا طرزِ عمل عدلیہ کو مضبوط نہیں بلکہ کمزور کر رہا ہے۔ یہ وہی روش ہے جس نے پاکستان کے دیگر اداروں کو کھوکھلا کیا، اور اب سپریم کورٹ بھی اسی بیماری کا شکار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
مبصرین کے بقول عام شہری پہلے ہی عدلیہ پر اعتماد کھو چکا ہے۔ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ ترازو قائم کرنے والے فیصلے عوام کی مایوسی کی وجہ بنے۔ اب جب ججز خود ہی اپنی غیر جانبداری پر سوال اٹھا رہے ہیں تو عوام کو کون یقین دلائے گا کہ عدالتیں انصاف دے سکتی ہیں؟ ان ججز کے رویے نے قوم کو یہ باور کرا دیا ہے کہ عدلیہ بھی سیاسی جماعتوں کی طرح اندرونی گروہ بندی اور سازشوں کا شکار ہو چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق سپریم کورٹ آج جس بحران کا شکار ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ وہ ججز ہیں جو انصاف کے بجائے سیاسی کھیل میں فریق بن گئے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ اے ملک کے خطوط نے یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ اگر عدلیہ کو وقت پر درست نہ کیا گیا تو یہ ادارہ عوام کی نظر میں مکمل طور پر غیر معتبر اور بے وقعت ہو جائے گا۔ عدلیہ کے اندر ڈیپ کلیننگ ضروری ہو چکی ہے۔ ایسے ججز جو اپنی وفاداریوں اور ذاتی ایجنڈے کو ادارے پر ترجیح دے رہے ہیں، انہیں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ عدلیہ کی غیر جانبداری بچانا صرف ادارے کے لیے نہیں بلکہ پورے نظامِ ریاست کے لیے ناگزیر ہے۔ ورنہ چند افراد کی ضد اور مفاد پرستی پورے عدالتی ڈھانچے کو زمین بوس کر دے گی۔
اعلیٰ عدلیہ کے چار سینئر ججز کے خطوط نہ صرف عدلیہ میں تقسیم کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ صورتحال عدلیہ کی ساکھ اور غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔ ان خطوط میں جس انداز سے ادارے کے اندرونی اختلافات اور مخصوص سیاسی شخصیات کے حوالے سے بیانات سامنے آئے ہیں، اس سے یہ تاثر ابھرتا دکھائی دیتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں رہی۔یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عوام کی اکثریت پہلے ہی عدالتی فیصلوں کو "طاقتوروں کے حق میں اور کمزور کے خلاف” سمجھتی ہے۔ ایسے میں ججز کے خطوط اور باہمی اختلافات نے عدلیہ کے وقار کو مزید داغدار کر دیا ہے۔ اگر اعلیٰ عدلیہ کے ججز ہی ایک دوسرے کو متنازع اور جانبدار قرار دیں گے تو عوام کس سے انصاف کی امید رکھیں گے؟ سپریم کورٹ کی تقسیم صرف عدلیہ کا نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف کا بحران ہے۔ ججز کے خطوط نے عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری کو عوامی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ اگر یہ روش برقرار رہی تو نہ صرف ادارہ جاتی تباہی یقینی ہے بلکہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا خواب بھی مزید دور ہوتا جائے گا۔