لاہور سے علامہ خادم رضوی کا مزار منتقل کرنے کا کتنا امکان ہے ؟

حکومت پنجاب کی ہدایت پر محکمہ اوقاف نے تحریک لبیک پاکستان کے بانی سربراہ علامہ خادم حسین رضوی مرحوم کے لاہور میں واقعہ مزار کا انتظام تو سنبھال لیا ہے لیکن ان کا جسد خاکی انکے آبائی شہر راجن پور منتقل کرنے کی تجویز رد کر دی گئی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ کافی بحث کے بعد مریم نواز حکومت نے علامہ خادم رضوی کا جسد خاکی کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کی تجویز رد کر دی ہے چونکہ اس سے ان کے عقیدت مندوں کے جذبات مجروح ہونے اور ایک نیا پھڈا پڑنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ لاہور میں تحریک لبیک کے حالیہ احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ اور دنگا فساد پھیلانے کےتناظر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پنجاب حکومت کو تجویز پیش کی تھی کہ لاہور کے علاقے ملتان روڈ پر یتیم خانہ چوک کے قریب مسجد رحمۃ للعالمین کے احاطے میں واقع ٹی ایل پی کے بانی خادم حسین رضوی کا مزار تحریک لبیک کا گڑھ بن چکا ہے جب بھی پارٹی کی جانب سے احتجاج کی کوئی کال دی جاتی ہے تو ٹی ایل پی کے کارکنان آسانی سے مزار پر جمع ہو کر نہ صرف مرکزی شاہراہیں بند کر دیتے ہیں بلکہ صوبائی دارالحکومت میں امن و امان بھی برباد کر دیتے ہیں، لاہور میں مستقل قیام امن کیلئے ضروری ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کے مزار کو لاہور سے اٹک، راجن پور یا کسی دوسرے شہر منتقل کیا جائے۔ اداروں کا موقف تھا کہ  ہر سال چہلم کے دنوں میں مزار کی موجودگی سے نہ صرف ملتان روڈ پر ٹریفک کی روانی میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں بلکہ ٹی ایل پی کارکنان مزار کو مرکز بنا کر پورےشہر میں افراتفری بھی پھیلاتے آ رہے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ نہ صرف مسجد رحمۃ للعالمین کو اوقاف کی تحویل میں دے دیا جائے بلکہ مزار کو بھی ادھر سے کسی دوسری مقام پر منتقل کر دیا جائے تاہم ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اس تجویز کو مسترد کردیا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، خادم حسین رضوی کے مزار کو لاہور سے کہیں اور منتقل کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ تاہم ان کے مزار کو محکمہ اوقاف کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ محکمہ اوقاف اس کی دیکھ بھال اور انتظامات سنبھالے گا۔ذرائع نے واضح کیا کہ مزار کی موجودہ جگہ پر ہی اسے برقرار رکھا جائے گا اور اسے منتقل کرنے کی تجویز پر فی الحال کوئی عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔دوسری جانب ترجمان محکمہ اوقاف کے مطابق خادم حسین رضوی کا مزار اور مسجد اس وقت ضلعی حکومت  کے کنٹرول میں ہے، انہوں نے مزار اور مسجد کو سیل کر رکھا ہے، ابھی تک مزار اور مسجد کے انتظامات محکمے اوقاف  کے حوالے نہیں کیے گئے۔ 19 نومبر کو مولانا خادم حسین رضوی کا چہلم ہوگا یا نہیں اس حوالے سے بھی ہمیں ضلعی حکومت کی جانب سے آگاہ نہیں کیا گیا،جب ہمارے پاس اس مزار کا کنٹرول آئے گا تبھی کچھ آگاہ کر سکیں گے۔

تاہم مبصرین کے مطابق خادم حسین رضوی کا مزار تحریک لبیک کے کارکنان کے لیے ایک روحانی و نظریاتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں ان کے چاہنے والے نہ صرف مذہبی عقیدت کے اظہار کے لیے آتے ہیں بلکہ سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی حکمت عملی کے لیے بھی یہ مقام علامتی اہمیت رکھتا ہے۔اسی وجہ سے صوبائی دارالحکومت میں مزار کی موجودگی سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے۔  تاہم اس ساری صورتحال کے باوجود مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ مزار کو لاہور سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنا مزید اشتعال پیدا کر سکتا تھا، اس لیے حکومت نے ایک محتاط اور سیاسی طور پر دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے مزار کی منتقلی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ عوامی سطح پر بھی اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ مذہبی رہنماؤں کے مزارات کو احتجاج یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، جبکہ دوسرا طبقہ اسے مذہبی آزادی کے اظہار کے طور پر دیکھتا ہے۔ تاہم عام شہریوں کے لیے ان احتجاجات کا نتیجہ ہمیشہ مشکلات، سڑکوں کی بندش اور روزمرہ زندگی کے تعطل کی صورت میں نکلتا ہے۔

خیال رہے کہ بانی ٹی ایل پی علامہ خادم حسین رضوی 19 نومبر 2020 کو لاہور میں ہارٹ اٹیک کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔ وہ کئی دنوں سے علیل تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ لاہور کے منارِ پاکستان پر ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے۔ مولانا خادم رضوی کی وفات کے بعد تحریک لبیک کی قیادت ان کے بیٹے سعد رضوی کو سونپی گئی تھی، تاہم اس کے بعد سے جماعت کے مختلف دھڑے اور حکومتی دباؤ کے باعث تحریک کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا۔

ٹی ایل پی پر پابندی: کیا ریاستی سچ بدل گیا یا وقتی غبار ہے؟

تحریک لبیک پاکستان کا شمار ان مذہبی جماعتوں میں ہوتا ہے جو اپنے احتجاجی انداز اور شدت پسندی کے سبب بارہا خبروں کی زینت بن چکی ہیں۔ رواں برس تحریک لبیک نے ایک بار پھر لاہور سے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کیا۔ حکومت نے اسے غیر قانونی قرار دیا، جس کے نتیجے میں پولیس اور کارکنان کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ کئی مقامات پر جلاؤ گھیراؤ اور سڑکوں کی بندش کے واقعات پیش آئے۔ ان واقعات کے بعد صوبائی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال بگڑ گئی اور پولیس نے درجنوں کارکنان کو گرفتار کر لیا۔ احتجاج کے دوران ٹی ایل پی کارکن لاہور سے نکل کر مریدکے پہنچ گئے، جہاں پولیس نے بڑے پیمانے پر آپریشن کیا۔ اس آپریشن کے بعد حکومت نے سخت فیصلہ کرتے ہوئے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کر دی اور اسے کالعدم جماعت قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے تحت ٹی ایل پی کے دفاتر بند کیے گئے، ان کے مالیاتی اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے اور ان کے رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ حکومتی موقف یہ ہے کہ یہ اقدام امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھا، تاہم جماعت کے کارکنان اس فیصلے کو مذہبی و سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔

Back to top button