کیا مریم اورنگزیب کی وزارت خطرے میں پڑ چکی ہے؟

وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب کی وزارت خطرے میں پڑتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ اتحادی جماعتوں کی جانب سے ان کی کارکردگی پر مسلسل اظہار عدم اطمینان کے بعد اب انہیں حکومتی ترجمانی سے دور کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی اور اسکے کپتان کے خلاف آٹھ سال کے طویل ترین انتظار کے بعد ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آیا تو حکومتی اتحاد کی طرف سے میڈیا ٹاکس کی برسات شروع ہوگئی۔ ساون کی جھڑی میں بھی بارش میں وقفہ آجاتا ہے لیکن حکومتی شخصیات تو جیسے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے باہر لائن بنا کر کھڑی تھیں کہ ایک اپنی پریس کانفرنس ختم کرے تو دوسرا شروع کر دے۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے شروع ہونے والا سلسلہ لمبا ہوتا چلا گیا۔ ان کے بعد وزیر داخلہ رانا ثنااللہ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، خرم دستگیر، ایاز صادق، خواجہ محمد آصف، مصدق ملک، طلال چودھری ،میاں جاوید لطیف، شازیہ مری، خورشید شاہ، فیصل کنڈی، قمر زمان کائرہ، پلوشہ خان اور کامران مرتضیٰ تک نے پریس کانفرنسز کر ڈالیں، لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ عمران خان کے خلاف اتنا بڑا فیصلہ آنے کے باوجود وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب کہیں نظر نہیں آئیں اور نہ ہی انہوں نے کوئی پریس کانفرنس کی۔

سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے مریم اورنگ زیب کے یوں اچانک میڈیا سے غائب ہو جانے کی وجہ پوچھ رہے ہیں۔ اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ مریم اورنگزیب صرف الیکشن کمیشن کے فیصلے والے دن ہی غائب نہیں رہیں بلکہ پچھلے کئی روز سے میڈیا سے آئوٹ ہیں۔ یاد رہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد فیصلوں بارے بریفنگ بھی وزیر اطلاعات کی بجائے رانا ثنا اللہ، خرم دستگیر اور مصدق ملک دے رہے ہیں۔ اور تو اور، پنجاب میں وزیراعلیٰ کے الیکشن کے موقع پر حکومتی اتحاد کے رہنمائوں کی وہ میٹنگ جو شہباز شریف نے لاہور میں بلوائی تھی، اس کے بعد بھی میڈیا بریفنگ کے لیے مریم اورنگ زیب کا انتخاب نہیں کیا گیا تھا۔

پاکستانیوں کی اسرائیلی صدر سے ملاقات پر ہلچل

مریم اورنگزیب کو منظر نامے سے ہٹانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ذرائع کہتے ہیں کہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کو وزیراطلاعات کی کارکردگی پر تحفظات ہیں۔ انہیں شکایت ہے کہ وزیر اطلاعات حکومتی کارکردگی اجاگر کرنے کی بجائے زیادہ تر اپنی پارٹی اور وزیر اعظم کو پروموٹ کرنے پر زیادہ دھیان دیتی ہیں اور حکومتی اتحاد میں شامل دوسری جماعتوں کو میڈیا میں آنے کا بہت کم موقع دیا جاتا ہے۔ شہباز شریف حکومت میں شامل جماعتوں کا موقف تھا کہ اتحادی حکومت کی ترجمانی کا موقع مسلم لیگ نون کے علاوہ دیگر جماعتوں کو بھی دیا جانا چاہیے چنانچہ وقتی طور پر مریم اورنگزیب کو ذرا پیچھے کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف کچھ اطلاعات ایسی بھی ہیں کہ ن لیگ کے اندر سے بھی مریم اورنگ زیب کی مخالفت شروع ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ موجودہ بحرانی صورتحال میں پارٹی اور حکومتی بیانیہ بنانے اور پروموٹ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہیں۔ مریم کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ پرانا گھسا پٹابیانیہ لے کر میدان میں آتی ہیں جس سے فائدے کی بجائے نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ چنانچہ اب مریم کی بجائے مسلم لیگ نون کے دوسرے رہنماؤں اور اتحادی جماعتوں کے قائدین کو حکومت کی ترجمانی کا زیادہ موقع دیا جارہا۔ ایسے میں کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مریم اورنگزیب کی وزارت خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔

Back to top button