کیامریم نوازکاجاپان کادورہ صرف سرکاری خرچ پرعیاشی ہے؟

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا اپنی کچن کیبنٹ کے ساتھ دورہ جاپان سخت عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کے مطابق جب پنجاب کے عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہوں، ہسپتالوں میں ادویات نایاب ہیں اور تعلیمی بجٹ کٹوتیوں کی زد میں ہے، ایسے میں وزیراعلیٰ مریم نواز کا لگژری سہولیات کے ساتھ جاپان کا پانچ روزہ شاہانہ دورہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ جہاں ایک طرف حکومت اس دورے کو ’’ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری‘‘ کیلئےسنگِ میل قرار دے رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ درجنوں وزیروں، افسروں اور صحافیوں کے ساتھ لگژری ہوٹلوں اور مہنگے تحائف پر عوام کے پیسے لٹانا صوبے کی ’’ترقی‘‘ نہیں بلکہ اشرافیہ کی عیاشی کی علامت ہے۔ مریم نواز کا جاپان کا دورہ اصل میں عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے کی گئی ایک مہنگی سیر و تفریح ہے، جس کا اصل مقصد صوبے کے مسائل نہیں بلکہ سیاسی تشہیر اور اقتدار کی راہ ہموار کرنا ہے۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ دورہ واقعی پنجاب کو جدید ٹیکنالوجی اور بیرونی سرمایہ کاری کی راہ پر ڈالے گا یا پھر یہ سیاسی عیاشی بھی صرف سیاسی خاندان کے اقتدار کے بیانیے کو مزید چمکانے کی ایک کڑی ثابت ہو گی؟

خیال رہے کہ 15اگست 2025 کو شروع ہونے والے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دورے کے دوران وفد نے مختلف جاپانی شہروں کے حکام سے ملاقاتیں کیں جبکہ پنجاب حکومت کے ترجمانوں کے مطابق وفدکے دورہ جاپان کے دوران اربن ڈویلپمنٹ، ویسٹ مینجمنٹ، ہیلتھ کیئر اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر توجہ مرکوز رہی۔ حکومت کے مطابق یہ دورہ جاپان کی خصوصی دعوت پر کیا گیا اور یہ کسی خاتون وزیراعلیٰ کا پہلا سرکاری دورۂ جاپان ہے۔ دورے کے دوران لاہور اور یوکوہاما کے درمیان ’’سٹی ٹو سٹی‘‘ تعاون پر اتفاق ہوا، جس میں تیز رفتار ٹرین، چیئر لفٹس اور ائیر کیبل کار جیسے منصوبے زیر غور آئے۔ وزیراعلیٰ نے جاپان کے سب سے بڑے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا معائنہ کیا اور پنجاب میں اسی طرز کے نظام کے قیام کا اعلان کیا۔

حکومتی بیانیے کے برعکس، مریم نواز کے دوراہ جاپان پر اٹھنے والے اخراجات نے شدید عوامی تنقید کو جنم دیا ہے۔ناقدین کا دعویٰ ہے کہ مریم نواز کے دورہ جاپان کے تخمینی اخراجات 10 کروڑ روپے تھے لیکن ایڈوانس ادائیگی 16 کروڑ تک پہنچ گئی۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورے کے دوران لگژری ہوٹلز، ٹرانسپورٹ اور تحائف کے لیے تقریباً 16 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں، جو ابتدائی تخمینے سے کہیں زیادہ ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں پنجاب حکومت کی جانب سے خرچ کی جانے والی یہ رقم ’’فضول خرچی‘‘ کے زمرے میں آتی ہے، خصوصاً جب صوبے کے عوام مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں پریشان حال ہوں۔ سوشل میڈیا پر مریم نواز کے اس سفر کو ’’سیر و تفریح‘‘ اور ’’اشتہاری تماشا‘‘ قرار دیا جا رہا۔ بعض صارفین کے مطابق یہ قومی خزانے پر بوجھ اور عوامی وسائل کی کھلی لوٹ مار ہے، کیونکہ درجنوں وزراء اور صحافیوں کو بھی حکومتی خرچ پر اس لگژری دورے کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ تنقیدی آوازوں کو دبایا جا سکے۔ تاہم ناقدین کے مطابق ’مریم نواز کا دورہ جاپان خودنمائی اور اشتہاری تماشہ ہے، جس کے لیے قومی خزانے پر بھاری بوجھ ڈالا گیا ہے۔ درجنوں صحافیوں کو حکومتی خزانے پر ساتھ لے جانا عوام کے پیسے کی کھلی لوٹ مار کو بےنقاب کرتا ہے۔‘

مسلم لیگ (ن) کے حامی اس دورے کو ’’تاریخی‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق مریم نواز کا دورہ نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان کے لیے ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولنے کا ذریعہ ثابت ہو گا جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا دورہ جاپان مریم نواز کی قومی و بین الاقوامی سیاسی پہچان کو بھی تقویت دے گا۔ کچھ مبصرین کے مطابق ایسے دورے مریم نواز کی مستقبل میں وزارتِ عظمیٰ کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہیں۔ مبصرین کے مطابق مریم نواز پہلی وزیر اعلیٰ نہیں جنہوں نے کسی غیر ملک کا دورہ کیا ہو تاہم اگر دیگر صوبوں کے وزراء اعلیٰ کے بیرونی دوروں کا جائزہ لیا جائے تو یہ نسبتاً محدود اور کم اخراجات والے دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سعودی عرب اور دبئی کے دورے کیے جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ نے بھی ترکی، ایران اور سعودی عرب کے دورے کیے مگر پاک ائیر فورس کے جہاز میں جاپان جیسا لگژری دورہ کر کے مریم نواز نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کے جاپان کے دورے کو بیک وقت ’’ترقی کا سنگ میل‘‘ اور ’’عوامی وسائل پر عیاشی‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر اس کے نتائج حقیقی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی صورت میں نکلتے ہیں تو یہ دورہ پنجاب کے لیے مثبت ثابت ہو گا لیکن اگر یہ دورہ محض فوٹو سیشن اور سیاسی تشہیر تک محدود رہا تو یہ عوام کے اعتماد کو مزید مجروح کرے گا۔

Back to top button