نوازشریف لندن علاج کیلئےجارہے ہیں یا کسی اورکام سے؟

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے حالیہ دورہ لندن نے پاکستانی سیاست میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی لیگی قیادت عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ نواز شریف کا دورہ لندن خالصتاً علاج کے لیے ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر نواز شریف کا یہ دورہ محض طبی سفر ہی ہے تو پھر اس کے ساتھ سیاسی قیاس آرائیاں کیوں جنم لے رہی ہیں؟ کیا یہ محض اتفاق ہے یا پھر لندن جانے کو شریف خاندان نے سیاسی ضرورت اور ذاتی سہولت کا مستقل حل بنا لیا ہے؟

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف 15 ستمبر کو قطر ایئرویز کی پرواز کے ذریعےلاہور سے لندن روانہ ہو گئے ہیں، خاندانی ذرائع کے مطابق، نواز شریف کا یہ دورہ قریباً 2 ہفتے طویل ہوگا، جس کا بنیادی مقصد معمول کا طبی معائنہ ہے۔ اس دوران وہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے۔ ذرائع کے بقول عموماً نوازشریف جب لندن آتے ہیں تو وہ پارٹی کارکنوں اور پارٹی عہدیداروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں ،اس دفعہ بھی اگر پارٹی عہدایدار ملنے آئیں گے تو نواز شریف ان سے ملاقاتیں کریں گئے، تاہم ان کی کو کوئی بھی خصوصی سیاسی ملاقات شیڈول نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق، لندن میں وہ اپنے پرانے طبی مسائل، بشمول دل کی بیماری، خون کی کمی اور عمر سے متعلق دیگر مسائل کے لیے چیک اپ کروائیں گے۔ ذرائع کے مطابق وہ ہارلے اسٹریٹ کلینک جائیں گے جہاں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ جہاں ایک طرف نواز شریف کے لندن علاج کیلئے روانگی کے حوالے سے لیگی قیادت وضاحتیں دیتی دکھائی دے رہی ہے وہیں عوامی حلقوں میں نواز شریف کی علاج کیلئے لندن روانگی پر تنقیدکا سلسلہ جاری ہے۔

مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف کے مستقل بیرونِ ملک علاج کے فیصلے نے پاکستان کے پورے نظامِ صحت پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہےکیونکہ تین مرتبہ وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے والے رہنما اگر اپنے علاج کے لئے اپنے ملک کے ہسپتالوں پر اعتماد نہیں کر سکتے تو پھر عام شہری کے لیے اس نظام کی کیا افادیت رہ جاتی ہے؟ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جسے لیگی وضاحتیں چھپا نہیں سکتیں۔ ناقدین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ شریف خاندان کے لندن کے یہ "طبی دورے” دراصل پسِ پردہ سیاسی ملاقاتوں اور حکمتِ عملی کے تبادلے کے لیے بہترین موقع فراہم کرتے ہیں جبکہ عوام کو بار بار یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ ان دوروں میں کوئی سیاسی ایجنڈا زیرِ غور نہیں آتا لیکن ماضی کے تجربات اس کے برعکس اشارہ دیتے ہیں۔ شریف خاندان کے قول و فعل میں یہی تضاد عوامی شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ ناقدین کے بقول نواز شریف کا ہر لندن کا دورہ صرف ان کی صحت نہیں بلکہ پاکستان کے سیاسی کلچر اور ناکام صحت کے نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر حکمران طبقہ ہی اپنی ریاستی سہولتوں پر بھروسہ نہ کرے تو پھر عوام سے یہ توقع رکھنا کہ وہ انہی اداروں پر انحصار کریں، سراسر ناانصافی ہے۔ نواز شریف کا دورہ لندن اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اپنے عوام کے لیے صحت کا وہ معیار کبھی قائم ہی نہیں کیا جسے وہ خود استعمال کر سکیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول ملکی سیاست میں میاں نواز شریف کی صحت ہمیشہ سے ہی موضوعِ بحث رہی ہے۔ ان پر لگنے والے سیاسی الزامات کے ساتھ ساتھ ان کی بیماریوں کو بھی اکثر مخالفین نشانہ بناتے رہے ہیں۔ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ نواز شریف کئی برسوں سے دل کی بیماری، ذیابیطس، بلند فشارِ خون، گردوں کے مسائل اور خون کے پلیٹ لیٹس کی کمی جیسے پیچیدہ امراض میں مبتلا رہے ہیں۔ ان کی اوپن ہارٹ سرجری بھی ہو چکی ہے اور مختلف اوقات میں ان کے پلیٹ لیٹس خطرناک حد تک کم ہونے کی خبریں بھی منظر عام پر آ چکی ہیں۔

تاہم اس دوران یہ سوال ہمیشہ اٹھایا جاتا رہا ہے کہ نواز شریف علاج کے لیے لندن ہی کیوں جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں بڑے ہسپتال اور ماہر ڈاکٹر موجود ہیں۔ لیگی حلقوں کے مطابق یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں مختلف بیماریوں کے علاج کے حوالے سے بڑے بڑے ہسپتال موجود ہیں تاہم پاکستان میں کارڈیالوجی اور دیگر شعبوں میں نمایاں پیش رفت کے باوجود کچھ ایسے علاج اور سہولتیں اب بھی محدود ہیں جو یورپ اور برطانیہ جیسے ممالک میں زیادہ بہتر دستیاب ہیں۔ نواز شریف کے کیس میں مسئلہ صرف طبی نہیں بلکہ سیاسی اور ذاتی بھی ہے۔ ان کے اہلِ خانہ لندن میں مقیم ہیں، وہاں انہیں رازداری اور سکون کے ساتھ علاج میسر آتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ماہرین کی ٹیمیں ان کے کیس پر زیادہ سہولت کے ساتھ کام کر سکتی ہیں۔ اس لئے وہ پاکستان کی بجائے لندن میں اپنی ٹریٹمنٹ کو ترجیح دیتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق یہ کہنا غلط ہوگا کہ پاکستان میں نواز شریف کو لاحق بیماریوں کا علاج بالکل ممکن ہی نہیں۔ ملک میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (NICVD)، آغا خان اسپتال، شفا انٹرنیشنل اور کئی دوسرے ادارے موجود ہیں جو عالمی معیار کے علاج فراہم کرتے ہیں۔ ہزاروں پاکستانی ہر سال انہی اداروں میں کامیاب دل کی سرجریاں اور پیچیدہ علاج کرواتے ہیں۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ نواز شریف کے امراض پیچیدہ ضرور ہیں لیکن ناقابلِ علاج نہیں۔ اصل فرق سہولتوں، دیکھ بھال اور جدید ٹیکنالوجی کی دستیابی کا ہے۔ لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص کو پاکستان کے ہسپتالوں پر اعتماد کیوں نہیں ہے اگر ایک سابق وزیراعظم بھی اپنے ملک کے نظامِ صحت پر بھروسہ نہیں کرتا تو پھر عام شہریوں کے لیے یہ نظام کتنا ناکام ہے؟ ناقدین کے مطابق شریف فیملی کا یہ رویہ اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے حکمران اور اشرافیہ وہی سہولتیں اپنے ملک میں فراہم کرنے کے بجائے بیرونِ ملک علاج کو ترجیح دیتے ہیں،نادین کے بقول نواز شریف کی بیماریوں اور لندن میں علاج کرانے کی کہانی محض ایک طبی معاملہ نہیں بلکہ سیاسی اور معاشرتی حقیقت کی عکاس ہے۔ ایک طرف وہ واقعی سنگین بیماریوں کا شکار ہیں اور ان کے علاج کے لیے بہترین سہولتیں درکار ہیں، دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ انھوں نے طویل دور اقتدار میں کبھی ایسا نظامِ صحت تشکیل نہیں دیا جس پر وہ خود بھی اعتماد کر سکیں۔

واضح رہے کہ نواز شریف اس سے قبل رواں سال جون 2025 میں لندن گئے تھے، جہاں انہوں نے عیدالاضحیٰ منائی اور طبی چیک اپ کروایا تھا اور 18 جون کو واپس پاکستان آئے تھے۔

 

Back to top button