بارشوں اور سیلاب سے تباہی اللہ کا عذاب ہے یا گنڈاپور کا؟

خیبر پختون خواہ کے مختلف علاقوں میں حالیہ بارشوں سے سیلابی تباہی کے نتیجے میں 500 سے زائد لوگوں کی اموات کے بعد عوام کی ایک بڑی تعداد اسے اللہ کا عذاب قرار دے رہی ہے ۔ لیکن کئی لوگوں کے خیال یہ عذاب علی امین گنڈاپور کی نااہل حکومت کی صورت میں نازل ہوا ہے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں پچھلے 13 برس سے تحریک انصاف کی حکومت ہے لیکن صوبے میں بارش اور سیلابی پانی سے آنے والی تباہی اس کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں 645 اموات ہوئی ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کی صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، پختونخوا کے 12 اضلاع سے اب تک 500 سے زائد اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔ پاکستان میں شدید بارشوں، لینڈسلائیڈنگ اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور اموات کے واقعات حالیہ برسوں میں تواتر سے سامنے آ رہے ہیں۔ تباہی کا شکار ہونے والے خیبر پختون خواہ کے عوام کی جانب سے ان واقعات کو ”خدا کی طرف سے نازل عذاب‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، دوسری جانب گنڈاپور حکومت کے ناقدین اس تباہی کو تحریک انصاف کی 13 برس سے برسر اقتدار حکومت کی ناکامی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی جانب سے خیبر پختون خواہ میں ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے تمام تر مدد کے باوجود گنڈاپور کی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے اس کی بڑی گاڑیاں ضبط نہ کی ہوتیں تو اس تباہی سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکتا تھا۔ یاد رہے کہ 26 نومبر کے اسلام آباد دھرنے کے دوران گنڈاپور بڑی تعداد میں سرکاری گاڑیاں لے کر وفاقی دارالحکومت پر حملہ آور ہوئے تھے جنہیں ضبط کر لیا گیا تھا۔ وفاقی حکومت نے گنڈاپور حکومت کا یہ الزام سختی سے مسترد کر دیا ہے اسے اپنی نااہلی چھپانے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا ہے۔
ادھر سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب پاکستان میں بارشیں زیادہ اور بے ربط ہوں گی جس کی وجہ سے کلاؤڈ برسٹ کے واقعات میں شدّت اور گلیشیئرز پگھلنے کے واقعات میں تیزی آئے گی۔ عام الفاظ میں کلاؤڈ برسٹ بہت کم وقت میں یعنی ایک گھنٹے میں ایک سو ملی میٹر بارش ہونے کو کہا جاتا ہے۔ سائنسی ماہرین کے مطابق بادل پھٹنے کی بنیادی وجوہات میں درختوں کی کٹائی سر فہرست ہے جس کے نتیجے میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے، اسکے علاوہ دریاؤں، ندی نالوں کے راستے میں منصوبہ بندی کے بغیر تعمیرات شامل ہیں۔
بونیر کے رہائشی اور موسمیاتی تبدیلی پر نظر رکھنے والے 24 سالہ وقار کے مطابق پچھلے 7 سالوں میں انتظامیہ نے بونیر ڈسٹرکٹ میں کئی مقامات پر سڑک بنانے کے لیے درخت کاٹے ہیں۔ ’’اس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں حکومتی اعلانات کے باوجود گنڈاپور سرکار کی جانب سے سیاحتی مقامات نہیں بنائے گئے ہیں۔ سوات میں بھی پچھلی 13 برس کے دوران ایسا ہی ہوا ہے۔ لیکن منیر اور سوات میں مسلسل حکومتی شہہ پر درختوں کی کٹائی نے موسم کو یک دم بدل کر رکھ دیا ہے جو حالیہ تیز بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کا نتیجہ بھی بنی۔
ماہر موسمیات وقار نے مزید بتایا کہ پہلی مرتبہ ہمارے علاقے میں پہاڑ کا اتنا بڑا حصہ گھروں پر گِرا ہے۔ آج چار دن ہوچکے ہیں لوگوں کو ملبے کے نیچے دبے ہوئے لیکن اب تک بڑی گاڑیوں کے ذریعے ملبہ نہیں ہٹایا جا سکا کیونکہ اور امدادی کارکن کے ذریعے ہاتھ سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔‘‘ وقار نے بتایا کہ اس وقت صرف بونیر ڈسٹرکٹ کی چاغرزئی تحصیل میں 40 افراد جاں بحق جب کہ چار لاشوں کی تلاش اب تک جاری ہے۔ بونیر کے شمال میں سوات آتا ہے جہاں اس سے پہلے بھی کئی بار سیلاب آ چکا ہے۔ ایک طرف اس کی ایک وجہ موسمیاتی تبدیلی بتائی جاتی ہے، مگر ساتھ ہی ماہرین کہتے ہیں کہ یہاں ’’انسانوں کے ہاتھوں ماحول کی تباہی زیادہ کی گئی ہے۔‘‘
سوات یونیورسٹی کے پروفیسر محمد قاسم کے مطابق حالیہ بارشوں کو قدرتی آفت کے بجائے اگر انسانی آفت کہیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔ محمد قاسم کے مطابق، ’’یہاں انسانی افعال کا قدرتی ری ایکشن دیکھنے کو مل رہا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھاکہ ایک طرف بے ربط اور ضرورت سے کہیں زیادہ بارشیں ہو رہی ہیں وہیں کئی مقامات پر پانی کے بہاؤ کا راستہ بند ہے۔ ’’یہ مسئلہ صرف پختونخوا کا نہیں بلکہ اس وقت پورے پاکستان کا ہے۔ حکومت یہ کہہ کر دستبردار ہوجاتی ہے کہ انہوں نے پہلے سے اطلاع کر دی تھی۔ لیکن اتنے بڑے ضلع میں کہاں اور کتنی بارش ہوگی اور اس کے نتیجے میں کیا ہوگا یہ تو ظاہر ہے وہاں کے رہائشیوں کو نہیں پتا۔‘‘ قاسم نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جہاں سوات میں کہا جاسکتا ہے اور دیکھا بھی گیا ہے کہ دریا کے ساتھ بہت زیادہ تعمیرات کی گئی ہیں، وہیں بونیر میں تو ایسا کوئی دریا نہیں ہے۔ پھر وہاں کیوں اتنی تباہی دیکھنے کو ملی؟ ’’کیونکہ آپ زرعی زمین پر تجاوزات ہنگامی صورتحال کی تشخیص کے بغیر نہیں کرسکتے۔ لیکن کی جارہی ہے۔ پہلے بونیر میں بمشکل بارش ہوا کرتی تھی اب پچھلے تیس سالوں کا ریکارڈ توڑ چکی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی جانب سے کاربن کا اخراج صرف ایک فیصد ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے سامنے غیر محفوظ ہے۔ اس کی مثال پچھلے تین سالوں کے دوران ضرورت سے زیادہ بارشوں کی صورت میں دیکھی گئی ہے۔
محمد قاسم نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو موسمیاتی فرنٹ پر درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حل یہ ہے کہ ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں غیر ضروری تعمیرات کی جارہی ہیں، دریاؤں کے نزدیک سے تجاوزات ہٹانے کی مہم شروع کی جائے، کس علاقے میں کتنے درخت کہاں لگانے چاہییں اس کی نشاندہی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب نظام بنایا جائے تاکہ آپ کا پیغام گاؤں دیہات میں رہنے والوں تک پہنچ سکے۔ اس وقت صرف دس سے پندرہ فیصد لوگوں کو پتا چلا ہوگا کہ ان کا علاقہ خطرناک علاقوں کی فہرست میں ہے، لیکن اس سے نمٹنے کے لیے کیا کرنا چاہیے یہ انہیں نہیں پتا نہ بتایا جاتا ہے۔’’یہ مسئلہ پختونخوا کے علاوہ پورے ملک کا ہے۔ ڈی ایچ اے میں سیلاب میں کئی گھروں کا ڈوب جانا اور ایک باپ بیٹی کا گاڑی میں بہہ جانے کا واقعہ ہم سب کے سامنے ہے۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک مہینے سے زیادہ گزر جانے کے باوجود اسلام آباد، یعنی وفاقی دارالحکومت میں، بارش کے پانی میں ڈوبنے والے کرنل کی بیٹی کی لاش آج تک نہیں مل پائی۔
