لانگ مارچ سے پہلے ہی PTI شدید اختلافات میں گھرنے لگی؟

عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو مجوزہ لانگ مارچ کے آغاز سے پہلے ہی تحریک انصاف کی مرکزی قیادت شدید ترین آپسی اختلافات کا شکار ہو گئی ہے۔ پارٹی کی مرکزی و صوبائی قیادت کے مابین الزامات نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور، سینیٹر دوست محمد خان، سابق گورنر شاہ فرمان اور صوبائی صدر جنید اکبر خان کے درمیان اختلافات کی اطلاعات کے ساتھ ساتھ کارکنوں اور مقامی رہنماؤں کے درمیان بھی محاذ آرائی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں،

بعض سینئیر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اپنی ہی جماعت کی قیادت کے خلاف سخت بیانات نے لانگ مارچ کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سینیٹر دوست محمد خان نے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور پر جنوبی وزیرستان کے ترقیاتی فنڈز اور منصوبوں میں مال کھانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علی گنڈاپور صرف ایک نشست کے امیدوار ہیں اور وہ بھی اب خطرے میں ہے۔ جواب میں گنڈاپور نے کہا کہ ان کے دور حکومت میں مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے دوران جنوبی وزیرستان کے لیے تین ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی فنڈز فراہم کیے گئے۔

دوسری جانب سابق گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کی جانب سے صوبائی صدر جنید اکبر خان کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی پر اعتراض کے بعد جنید اکبر خان کی ایک آڈیو سامنے آئی ہے۔ اس میں جنید اکبر نے شاہ فرمان کسے بحث کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مالاکنڈ کو سب سے کم فنڈز ملے ہیں۔ اس کے بعد دونوں میں تکرار ہوتی ہے۔ پارٹی کی اہم شخصیات کے درمیان اختلافات اور ایک دوسرے پر اعتراضات سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث بن گئے ہیں۔

اسی طرح مردان میں پارٹی کارکنوں اور رکن صوبائی اسمبلی افتخار مشوانی کے اختلافات سامنے آئے ہیں، جہاں کارکنوں کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ پشاور میں بھی صورت حال مختلف نظر نہیں آتی۔ ضلع پشاور کے جنرل سیکریٹری خورشید عالم کی جانب سے شہر کے اراکین اسمبلی کے گھروں کے باہر دھرنا دینے کی دھمکی اور اپنی ہی جماعت کی 13 سالہ حکومت کے وعدوں کو جھوٹ قرار دینے کے بیان نے پارٹی میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس دوران ریجنل جنرل سیکریٹری شیر علی ارباب کی جانب سے خورشید عالم کو تنبیہی نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔

دوسری طرف 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا سندھ کا دورہ بھی پارٹی کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔ ذرائع کے مطابق پنجاب اور سندھ کی سرحد پر وزیر اعلیٰ کے ساتھ چند اہم پارٹی رہنما تو موجود تھے، تاہم کارکنوں کی بڑی تعداد نظر نہیں آئی جسے پارٹی حلقوں میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم تحریک انصاف خیبر پختونخواہ کی صوبائی قیادت لانگ مارچ کے حوالے سے پرعزم ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کو ہر صورت میں لانگ مارچ ہو گا۔ پارٹی ذرائع بھی اندرونی اختلافات کی خبروں کو افواہیں اور پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی اسٹریٹ موومنٹ کامیاب رہی ہے اور اب سندھ میں بھی کارکنوں میں جوش و خروش موجود ہے۔ ان کے مطابق 27 ستمبر کو پورا پاکستان اسلام آباد کا رخ کرے گا اور بانی عمران خان کو انصاف دلانے کے بعد ہی واپسی ہوگی۔

یوں ایک طرف لانگ مارچ کی تاریخ تیزی سے قریب آ رہی ہے اور تحریک انصاف قیادت ملک گیر احتجاج کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے، تو دوسری جانب پارٹی کے اندر اختلافات، باہمی الزامات، کارکنوں کی ناراضی اور بعض علاقوں میں عدم دلچسپی کی اطلاعات نے سیاسی حکمت عملی اور لانگ مارچ کی کامیابی کے امکانات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب اصل امتحان تحریک انصاف کی قیادت کے لیے یہی ہے کہ وہ 27 ستمبر سے پہلے اندرونی اختلافات پر قابو پا کر کارکنوں کو ایک واضح اور متحد لائحہ عمل پر اکٹھا کر پاتی ہے یا نہیں۔

Back to top button