نئے صوبوں کے قیام پر شریف خاندان تقسیم ہو گیا

پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر شروع کی جانے والی نئے صوبوں کے قیام کی بحث نے مسلم لیگ نون کے اندر اختلافِ رائے کو نمایاں کر دیا ہے کیونکہ وزیر اعظم شہباز شریف چھوٹے صوبوں کے قیام کے حامی ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پنجاب کی تقسیم کے حق میں نہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ کے قائد نواز شریف خود بھی اس معاملے پر خاموش ہیں اور انہوں نے نے فی الحال پارٹی رہنماؤں کو بھی اس حساس موضوع پر بات کرنے سے منع کر رکھا ہے۔
سینیئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر نون لیگ کے تینوں اہم رہنماؤں کے مؤقف میں اس معاملے پر فرق دکھائی دیتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا یے کہ اسے مکمل سیاسی تضاد قرار دینے سے پہلے یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ نئے صوبوں کے عمومی تصور کی حمایت اور پنجاب کی تقسیم کی مخالفت بیک وقت ممکن ہے، جبکہ نواز شریف کی خاموشی بھی کسی حتمی جماعتی مؤقف کا اعلان نہیں۔ حامد میر نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نئے صوبوں کے قیام کے بڑے حامی ہیں، تاہم مریم نواز پنجاب کو تقسیم کرنے کے حق میں نہیں۔ حامد میر کے مطابق نواز شریف نے اس معاملے پر پارٹی رہنماؤں کو بات کرنے سے روک رکھا ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مسلم لیگی قیادت فی الحال اس انتہائی حساس معاملے کو باقاعدہ سیاسی تنازع بننے سے روکنا چاہتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا سوال پاکستان میں نیا نہیں۔ آبادی میں اضافے، بڑے صوبوں کے وسیع حجم، عوامی احساسِ محرومی، وسائل کی تقسیم اور حکومتی اداروں تک عوام کی رسائی جیسے مسائل کے باعث مختلف علاقوں میں طویل عرصے سے نئے صوبوں کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ اور دیگر خطوں میں بھی الگ انتظامی شناخت کے مطالبات مختلف ادوار میں سیاسی بحث کا حصہ رہے ہیں۔
تاہم پاکستان میں کسی نئے صوبے کا قیام محض انتظامی حکم سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے آئینی ترمیم، پارلیمانی منظوری اور متعلقہ سیاسی قوتوں کے درمیان وسیع اتفاقِ رائے درکار ہوتا ہے۔
اسی لیے نئے صوبوں کے قیام کی بحث ہر مرتبہ انتظامی ضرورت کے ساتھ ساتھ ایک بڑے سیاسی سوال کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ پنجاب کی ممکنہ تقسیم اس بحث کو مزید حساس بنا دیتی ہے۔ پنجاب نہ صرف آبادی کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے بلکہ قومی سیاست میں بھی اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ صوبے کی تقسیم کی صورت میں انتظامی ڈھانچے، سیاسی نمائندگی، وسائل کی تقسیم، بیوروکریسی، صوبائی اسمبلی کی نشستوں اور قومی سطح پر سیاسی طاقت کے توازن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
اسی تناظر میں شہباز شریف کے بارے میں سامنے آنے والا مؤقف سیاسی طور پر اہم ہے۔ اگر وزیراعظم واقعی نئے صوبوں کے قیام کے حامی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اس معاملے کو صرف انتخابی نعرے کے بجائے انتظامی ضرورت اور حکومتی اصلاحات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ نئے صوبوں کی عمومی حمایت اور پنجاب کی موجودہ حدود میں تبدیلی کے سوال پر الگ الگ رائے ہو۔
یہی فرق مریم نواز کے مؤقف کو سمجھنے کے لیے بھی اہم ہے۔ حامد میر کے مطابق مریم نواز پنجاب کی تقسیم نہیں چاہتیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب ہونے کے ناطے صوبے کے موجودہ انتظامی اور سیاسی ڈھانچے کی سربراہ مریم نواز کے لیے پنجاب کی تقسیم ایک معمولی انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی اور حکومتی تبدیلی ہوگی۔
اس لیے بظاہر شہباز شریف اور مریم نواز کے مؤقف میں اختلاف ضرور نظر آتا ہے، لیکن اسے لازماً مکمل تضاد نہیں کہا جاسکتا۔ ایک طرف وزیراعظم نئے صوبوں کے عمومی تصور کے حامی ہوسکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب کسی مخصوص منصوبے، خصوصاً پنجاب کی تقسیم، کی مخالفت کرسکتی ہیں۔ اصل تضاد اس وقت واضح ہوگا جب نئے صوبوں کے قیام کی کوئی مخصوص تجویز، حدود یا آئینی منصوبہ سامنے آئے اور دونوں رہنما اس پر باضابطہ طور پر مختلف مؤقف اختیار کریں۔
نواز شریف کا کردار اس معاملے میں سب سے زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔ حامد میر کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد نے فی الحال پارٹی رہنماؤں کو نئے صوبوں کے معاملے پر گفتگو سے روک دیا ہے۔ اس اقدام کا ایک مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ نواز شریف پارٹی کے اندر مختلف آرا کو کھلے اختلاف میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہتے۔ دوسری جانب یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس معاملے پر سیاسی حالات کا جائزہ لینے کے بعد کسی حتمی جماعتی پالیسی کا فیصلہ کرنا چاہتے ہوں۔ حامد میر کے مطابق مستقبل میں اس معاملے پر کہیں نہ کہیں سمجھوتا ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مسلم لیگ ن کو ایک ایسا سیاسی فارمولہ تلاش کرنا ہوگا جس میں وفاقی حکومت کی ترجیحات، پنجاب حکومت کے تحفظات اور پارٹی قیادت کے سیاسی مفادات کو یکجا کیا جاسکے۔
نئے صوبوں کے حامیوں کی دلیل ہے کہ بڑے صوبوں کے وسیع رقبے اور آبادی کے باعث دور دراز علاقوں تک حکومتی وسائل اور انتظامی توجہ مؤثر انداز میں پہنچانا مشکل ہوجاتا ہے۔ الگ صوبہ بننے سے فیصلہ سازی عوام کے قریب آسکتی ہے اور مقامی مسائل کے حل کے لیے زیادہ توجہ حاصل ہوسکتی ہے۔
اس کے برعکس مخالفین کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تعداد بڑھانے سے لازماً عوامی مسائل حل نہیں ہوتے۔ بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، بااختیار بلدیاتی نظام اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے بھی بڑے صوبوں کے مسائل کم کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم اس تجویز کے حامیوں کے مطابق طویل مدت میں چھوٹے اور زیادہ مؤثر انتظامی یونٹس بہتر حکمرانی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز واقعی سیاسی دباؤ کی شکل میں آگے بڑھتی ہے تو مسلم لیگ ن اس پر مشترکہ پالیسی کیسے بنائے گی۔ کیا شہباز شریف کی حمایت، مریم نواز کے تحفظات اور نواز شریف کی خاموش پالیسی کے درمیان کوئی سمجھوتا ہو سکے گا، یا نئے صوبوں کا معاملہ خود مسلم لیگ ن کے اندر ایک سیاسی کشمکش کا باعث بنے گا؟ فی الحال اس سوال کا جواب سامنے نہیں آیا، تاہم ایک بات واضح ہے کہ اگر نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر عسکری ایجنڈے کا حصہ بنتا ہے تو پاکستانی سیاست، خصوصاً پنجاب کی سیاست، میں اس کے اثرات انتہائی دور رس ہوسکتے ہیں۔
