فیصل نصیر بالآخر ISI سے سبکدوش، نیکٹا کے کمانڈر مقرر

بالآخر آئی ایس آئی کے طاقتور ترین ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر کو نئی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں اور انہیں تین سال کے لیے نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی یعنی نیکٹا کی کمانڈ سونپ دی گئی ہے۔ فیصل نصیر کو ملک میں سب سے زیادہ ڈسکس ہونے والا انٹیلیجنس افیسر قرار دیا جاتا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے نہ صرف ان پر سنگین الزامات عائد کیے تھے بلکہ انہیں ’’ڈرٹی ہیری‘‘ کا خطاب بھی دے دیا تھا۔ دوسری جانب فوجی ترجمان نے ان الزامات کو بے بنیاد اور ناقابل قبول قرار دیا تھا۔
میجر جنرل فیصل نصیر کی نیکٹا کوآرڈینیٹر تعیناتی کا نوٹیفکیشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جاری کیا ہے۔ ان کی تقرری تین سال کے لیے سکینڈ منٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کے مطابق میجر جنرل فیصل نصیر کی تقرری کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی۔ فیصل نصیر کا شمار ان فوجی افسروں میں ہوتا ہے جن کا بیشتر کیریئر انٹیلی جنس کے شعبے میں گزرا۔ دستیاب معلومات کے مطابق وہ 1992 میں پاک فوج میں شامل ہوئے اور پنجاب رجمنٹ سے کمیشن حاصل کیا۔
کیریئر کے ابتدائی حصے میں ہی وہ کور آف ملٹری انٹیلی جنس سے وابستہ ہوگئے، جس کے بعد ان کی زیادہ تر پیشہ ورانہ زندگی انٹیلی جنس اسائنمنٹس اور حساس آپریشنز میں گزری۔ بی بی سی اردو کی 2022 کی پروفائل کے مطابق ان کے کیریئر کے بارے میں عوامی سطح پر تفصیلات بہت کم دستیاب رہی ہیں، تاہم وہ شورش زدہ علاقوں میں تعیناتی اور اہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں شرکت کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے۔ انہیں انٹیلی جنس حلقوں میں ایک سخت گیر مگر پیشہ ور افسر قرار دیا جاتا یے۔ انہیں عسکری حلقوں میں ’’سپر سپائی‘‘ بھی کہا جاتا یے۔۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران وہ کئی اہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا حصہ رہے اور مطلوب دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں کردار ادا کرتے رہے۔ تاہم انٹیلی جنس افسر ہونے کی وجہ سے ان کے بیشتر آپریشنز اور تعیناتیوں کی تفصیلات سرکاری طور پر منظرعام پر نہیں آئیں۔ میجر جنرل بننے کے بعد آئی ایس آئی کے ڈی جی سی فیصل نصیر کو 2022 میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور اسی سال اگست میں انہیں آئی ایس آئی کے انتہائی حساس ڈی جی سی کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ یہ عہدہ اس لیے انتہائی طاقتور سمجھا جاتا ہے کہ ماضی میں بھی آئی ایس آئی کے بعض انتہائی بااثر افسران اسی منصب پر تعینات رہے ہیں۔
یاد رہےکہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی میجر جنرل کی حیثیت میں ڈی جی سی رہ چکے تھے۔ فیصل نصیر کی تعیناتی نے انہیں براہِ راست ملک کے حساس ترین سیاسی، داخلی اور سکیورٹی معاملات سے وابستہ ایک اہم انٹیلی جنس عہدے پر پہنچا دیا۔ فیصل نصیر کا نام قومی سطح پر تب نمایاں ہوا جب سابق وزیراعظم عمران خان نے ان کے خلاف کھلے عام الزامات عائد کرنا شروع کیے۔ نومبر 2022 میں وزیرآباد میں اپنے لانگ مارچ کے دوران عمران پر قاتلانہ حملے کے بعد سابق وزیراعظم نے وزیراعظم شہباز شریف، اس وقت کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور میجر جنرل فیصل نصیر پر حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔
ان الزامات نے ایک حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسر اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما کے درمیان غیر معمولی محاذ آرائی کو جنم دیا۔ عالمی میڈیا نے بھی اس معاملے کو نمایاں کیا اور رپورٹس میں بتایا گیا کہ عمران خان نے فیصل نصیر پر اپنی جان پر حملے کی سازش کا الزام لگایا، تاہم اس الزام کے حق میں اس وقت کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا گیا تھا۔ فیصل نصیر کی عوامی شناخت سب سے زیادہ تب متنازع ہوئی جب عمران نے ان کے لیے ’’ڈرٹی ہیری‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنا شروع کی۔ یہ نام ہالی ووڈ کے معروف کردار Dirty Harry کی طرف اشارہ تھا، جو قانون نافذ کرنے کے غیر روایتی اور سخت طریقوں کے حوالے سے مشہور کردار ہے۔ عمران خان نے اس اصطلاح کے ذریعے فیصل نصیر پر مبینہ طور پر اختیارات سے تجاوز اور غیر قانونی اقدامات کا الزام عائد کیا۔
مئی 2023 میں عمران خان کی جانب سے فیصل نصیر کے خلاف مسلسل الزامات کے بعد فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، نے غیر معمولی سخت ردعمل دیا۔ فوج نے عمران کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک حاضر سروس سینئر فوجی افسر پر بغیر ثبوت الزامات عائد کرنا ناقابل قبول ہے۔
فیصل نصیر کے خلاف عمران خان کے الزامات کا ایک اہم پہلو یہ بھی رہا کہ جب ان سے ان دعوؤں کے شواہد کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں۔ اس کے باوجود عمران خان نے اپنے سیاسی بیانات میں ان الزامات کو متعدد مرتبہ دہرایا۔
اب فیصل نصیر کو نیکٹا کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تقرری خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ فیصل نصیر کے پورے کیریئر کا مرکزی محور انٹیلی جنس، انسدادِ دہشت گردی اور شورش زدہ علاقوں میں سکیورٹی آپریشنز رہا ہے۔ نیکٹا بھی قومی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف قومی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرنے والا ادارہ ہے۔
