سہیل وڑائچ کی اسلام آباد کو انتظامی یونٹ بنانے کی تجویز

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ نئے اور خودمختار انتظامی یونٹ بنانے کے تجربے کا آغاز اسلام آباد سے ہونا چاہیے، کیونکہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ تشکیل دینے میں جہاں سیاسی، قانونی اور لسانی پیچیدگیاں حائل ہیں، انکے مطابق وہیں اسلام آباد پہلے ہی وفاق کے زیرانتظام علاقہ ہے اور اسے زیادہ خودمختار، بااختیار اور موثر انتظامی یونٹ بنانے پر ملک کی کسی سیاسی جماعت، صوبے یا شخص کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ سانحہ پمز میں 14 بچوں کی شہادت نے مختلف سرکاری محکموں کے درمیان رابطے کے فقدان اور انتظامی بے حسی کو بے نقاب کردیا ہے، اس لیے اسلام آباد کو نئے انتظامی نظام کے پہلے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ نے کہا کہ سانحہ پمز نے واضح کردیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے انتظامی ڈھانچے میں مختلف ادارے ایک دوسرے سے مربوط نہیں ہیں۔ اسلام آباد کا مجموعی انتظام و انصرام کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کے پاس ہے، تاہم شہر کے ہسپتال اور سکول اس کے ماتحت نہیں۔ وہاں کے سکول محکمہ تعلیم جبکہ ہسپتال وفاقی محکمہ صحت کے زیرانتظام ہیں، جبکہ ریسکیو، ایمرجنسی، سڑکوں، تعمیر و ترقی، منصوبہ بندی اور بجٹ سمیت دیگر اہم امور سی ڈی اے کے پاس ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق یوں ہسپتال اور سکول ایسے جزیرے بن چکے ہیں جو سی ڈی اے کے انتظامی سمندر سے باہر ہیں۔ وفاق کی ناک کے عین نیچے واقع اسلام آباد میں برسوں قبل خود مختار انتظامی اتھارٹی بنانے کا مقصد یہی تھا کہ وفاقی دارالحکومت کو ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر، موثر اور جدید انداز میں چلایا جائے، لیکن یہ مقصد ابھی تک مکمل طور پر حاصل نہیں ہوسکا۔
انہوں نے تجویز دی کہ سانحہ پمز سے سبق لیتے ہوئے نئے انتظامی یونٹ کے پہلے پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری سے کیا جائے اور اسلام آباد کے ہسپتالوں اور سکولوں کو سی ڈی اے اور محکمہ داخلہ کے انتظامی دائرے میں لایا جائے تاکہ ایک ہی انتظامی نظام کے تحت ان اداروں کو چلایا جاسکے اور ان کی کارکردگی کی جواب دہی بھی ایک ہی نظام سے ممکن ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ دوہرے اور بکھرے ہوئے انتظامی نظام سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس لیے اسلام آباد میں ایک بااختیار اور مربوط انتظامی ماڈل آزمایا جائے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوجاتا ہے تو اسے ملک کے دیگر علاقوں میں نافذ کرنا نسبتاً آسان ہوگا۔
سہیل وڑائچ نے سانحہ پمز کو انتظامی اصلاحات کے لیے ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحے کے بعد پوری قوم دہشت گردی کے خلاف یکسو ہوگئی تھی اور تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کی تھی۔ اس وقت فوج، عوام اور سیاستدان ایک صفحے پر آئے، جس کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں موجود ابہام ختم کرنے میں مدد ملی۔ ان کے مطابق سانحہ پمز بھی انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا فیصلہ درست ہے، لیکن یہ صرف سانحے کے بعد کی سزا ہے۔ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے انتظامی اصلاحات، اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور محکمہ جاتی عدم تعاون کا خاتمہ ضروری ہے۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ صوبوں کی تشکیل یا نئے انتظامی یونٹ بنانے کے معاملے میں سیاسی، قانونی اور لسانی پیچیدگیاں موجود ہیں، لیکن اسلام آباد کی صورت حال مختلف ہے۔ ان کے بقول اسلام آباد سے بہتر جگہ شاید ہی کوئی ہو جہاں نئے انتظامی ماڈل کا تجربہ شروع کیا جاسکے۔ انہوں نے اسی تناظر میں کہا کہ گھوڑا بھی تیار ہے اور میدان بھی حاضر، اب دیر کس بات کی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی تقریباً 80 سالہ تاریخ میں مقامی حکومتوں کے اختیارات کے حوالے سے کیے جانے والے تجربات کا بھی جائزہ لیا اور کہا کہ اس دوران تین بڑے ری سیٹ ماڈل آزمائے گئے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق ایوب خان کے بنیادی جمہوریت کے نظام میں تعلیم اور صحت کے اختیارات مقامی اداروں کو دیے گئے تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بلدیاتی نمائندوں کو بڑے پیمانے پر فنڈز تو فراہم کیے گئے، تاہم صحت اور تعلیم کے شعبے نوکر شاہی اور صوبائی حکومتوں کے پاس ہی رہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایک مرتبہ پھر تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ضلعی حکومتوں کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم صوبائی حکومتوں اور نوکر شاہی نے اس نظام کو پہلے کمزور کیا اور بعدازاں اسے ختم کردیا گیا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر اب چوتھے ری سیٹ پلان کے تحت تعلیم اور صحت کے شعبے دوبارہ بااختیار مقامی حکومتوں اور بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کردیئے جائیں تو یہ دراصل ایسے نظام کی پیروی ہوگی جو امریکہ اور برطانیہ میں کامیابی سے چل رہا ہے۔
صوبوں کی تشکیل کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ قرارداد پاکستان میں صوبوں کی کنفیڈریشن، یعنی مسلم اکثریتی علاقوں کو متحد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم 1946 میں مسلم لیگ نے اس مطالبے کو ایک وفاقی ریاست کے قیام کے مطالبے میں تبدیل کردیا۔
انہوں نے بتایا کہ مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی، اس لیے باہمی تصفیے کے تحت مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان برابری یعنی پیریٹی کا اصول طے کیا گیا۔ بعدازاں 14 اکتوبر 1955 کو مغربی پاکستان کے صوبوں کو ملا کر ون یونٹ قائم کیا گیا جس کا ہیڈکوارٹر لاہور بنایا گیا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق جنرل یحییٰ خان کے دور میں ایک اور ری سیٹ کیا گیا اور یکم جولائی 1970 کو ون یونٹ ختم کرکے پنجاب، سندھ اور سرحد کے صوبے بحال کیے گئے جبکہ بلوچستان کو بھی صوبے کا درجہ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اعتبار سے یہ دوسرا بڑا ری سیٹ تھا، جبکہ مقامی حکومتوں کے اختیارات کے حوالے سے مجوزہ اصلاحات ایک نئے، یعنی چوتھے ری سیٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
سہیل وڑائچ نے تجویز دی کہ ضلعی چیئرمین اور میئر کے انتخابات بالواسطہ کے بجائے براہ راست ہونے چاہئیں اور صوبائی حکومتوں کو منتخب مقامی حکومتیں تحلیل کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق مشرف کے نظام کو ختم کرکے نوآبادیاتی دور کے ڈپٹی کمشنر نظام کو دوبارہ بحال کردیا گیا، حالانکہ خود برطانیہ میں، جہاں یہ نظام تشکیل دیا گیا تھا، اسے ختم ہوئے کئی دہائیاں گزر چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ ری سیٹ کرنا ہی ہے تو تعلیم اور صحت کے شعبے خودمختار مقامی حکومتوں کے حوالے کیے جانے چاہئیں اور اس عمل کا آغاز اسلام آباد سے کرنا درست سمت میں پہلا قدم ہوگا۔ اگر اسلام آباد کا ماڈل کامیاب ہوگیا تو وہ پورے ملک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔
