کیا عمران خان اور فوج دوبارہ ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟

معروف تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کو ’’جیو اور جینے دو‘‘ کی پالیسی اپناتے ہوئے باہمی اختلافات ختم کر کے دوبارہ ایک ساتھ چلنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ملک کو سیاسی کشیدگی، ٹکراؤ اور محاذ آرائی سے نکالنا ہے تو دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے لیے راستہ بنانا ہوگا۔
انہوں نے نواز شریف پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی جماعتی سیاست سے بالاتر ہوکر اس معاملے میں کردار ادا کریں اور عمران خان اور فوجی قیادت کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوشش کریں تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔ روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ عمران اپنے فالورز کو پرو پاکستان اپروچ اپنانے کا کہیں، جبکہ دوسری طرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی عمران خان کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنا چاہیے۔ وہ عمران خان اور فوجی قیادت سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان کو راستہ دیا جائے تاکہ ملک مسلسل جاری سیاسی تنازع سے نکل سکے۔
حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ یہ بظاہر ناممکن کام نواز شریف ممکن بنا سکتے ہیں، کیونکہ ملک کے تمام بڑے سیاسی اور مقتدر حلقے ان کی بات سنیں گے اور سب کو ان کی بات سننی پڑے گی۔ انہوں نے نواز شریف سے اپیل کی کہ وہ اپنی پارٹی سے بالاتر ہوکر پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور ایسا کردار ادا کریں کہ تاریخ میں امر ہوجائیں۔ تجزیہ کار کے مطابق اگر عمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تنازع ختم ہوتا ہے، معافی تلافی کے ساتھ فریقین ایک صفحے پر آجاتے ہیں اور ملک میں جاری سیاسی تناؤ اور ٹکراؤ کا خاتمہ ہوجاتا ہے تو پاکستان ترقی اور استحکام کی جانب تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قوم اور ملک دونوں اس تنازع کی نذر ہوسکتے ہیں۔
حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا کہ ان کی دلی خواہش ہے کہ عمران کے پیچھے موجود عوامی حمایت اور عسکری قیادت ایک دوسرے کے مدِمقابل رہنے کے بجائے اکٹھے ہو کر ملک کو آگے لے جانے کے لیے کام کریں۔ دونوں فریق اگر مل کر آگے بڑھیں تو سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور نئے صوبوں کی تشکیل جیسے معاملات بھی اتفاق رائے سے حل کیے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ملک میں موجود تناؤ اور ٹکراؤ ختم نہ ہوا اور سیاسی و عسکری قوتیں مسلسل ایک دوسرے کے مقابل کھڑی رہیں تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر معافی تلافی کے ساتھ سب ایک صفحے پر آگئے تو ملک ’’آسمان پر‘‘ ہوگا، ورنہ قوم اور ملک دونوں اس کشمکش میں خرچ ہوجائیں گے۔ نیازی کے مطابق اس وقت پاکستان کئی محاذوں پر سیاسی تناؤ کا شکار ہے۔ ایسے میں بڑے سیاسی رہنماؤں کو ذاتی، جماعتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی مفاہمت کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اس سلسلے میں سب سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور انہیں چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر بڑے لوگوں کے درمیان صلح کرائیں اور پاکستان کو بحران سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ حفیظ اللہ نیازی نے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر پیدا ہونے والی نئی سیاسی کشیدگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پہلے ہی کئی حل طلب مسائل موجود ہیں جبکہ اب کئی بڑے لوگوں کی ایک دوسرے سے ’’ٹھن‘‘ گئی ہے۔
ان کے مطابق پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان بھی جارحانہ سیاست کا راستہ اختیار کرچکے ہیں جس سے سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری کی طویل غیر موجودگی پر بھی سوال اٹھایا۔ نیازی نے کہا کہ 27 اگست کو جیسے ہی صدر آصف علی زرداری کا طیارہ فضا میں بلند ہوا، اگلے ہی روز سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کی تشکیل کے خلاف قرارداد منظور ہوگئی اور سندھ کے اندر سیاسی درجہ حرارت اچانک آسمان کو چھونے لگا۔
انہوں نے صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے سخت ردعمل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پارٹی نے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے منسوب موجودہ صوبوں کی تقسیم کے منصوبے کو جس گھن گرج کے ساتھ للکارا، اس کے لیے پیپلز پارٹی کو علیحدہ نمبر ملنے چاہئیں۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، نثار کھوڑو اور دیگر پیپلز پارٹی رہنماؤں نے سندھ اسمبلی میں صوبوں کی تقسیم کے خلاف سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔
حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت سیاسی تصادم، باہمی محاذ آرائی اور مسلسل کشیدگی سے نکالنے کے لیے مفاہمت کی ضرورت ہے۔ اگر عمران خان، فوجی اسٹیبلشمنٹ اور ملک کی بڑی سیاسی قوتیں کسی قابلِ عمل مفاہمتی فارمولے پر متفق ہوجاتی ہیں تو ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوسکتا ہے، لیکن اگر موجودہ ٹکراؤ اسی طرح جاری رہا تو اس کے نتیجے میں نقصان صرف سیاسی جماعتوں یا اداروں کا نہیں بلکہ پورے ملک اور قوم کا ہوگا۔ حفیظ اللہ نیازی نے خبردار کیا کہ اگر فریقین نے وقت رہتے ایک دوسرے کو راستہ نہ دیا تو آنے والی نسلوں کے پاس شاید اس پورے دور کی صرف ایک ایسی داستان رہ جائے جس کا کوئی انجام نہ ہو۔ ان کے الفاظ میں، ’’داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔‘‘
