اسرائیل نےصمود فلوٹیلا کی آخری کشتی بھی روک لی

اسرائیلی فورسز نےسامان سے لدے جہازوں کے قافلے کی آخری کشتی کو بھی غزہ میں داخل ہونے کی کوشش میں روک دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کشتی پر پولینڈ کا پرچم لہرا رہا تھا اور اس پر 6 رضاکار سوار تھے جن کا تعلق جرمنی، ترکی، عمان اور آسٹریلیا سے ہے۔
یہ کشتی غزہ کے ساحل سے صرف 42.5 ناٹیکل میل کی دوری پر تھی کہ اسرائیلی بحریہ نے اسے روک کر اشدود کی بندرگاہ منتقل کر دیا اور تمام رضاکاروں کو بھی حراست میں لے لیا۔
فلوٹیلا کے منتظمین نے بتایا کہ خوراک اور ادویات سے لدے 43 کشتیوں پر مشتمل اس بحری بیڑے کی تمام کشتیاں اور اس میں سوار تمام 500 رضاکاروں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ان رضاکاروں میں دنیا کے نامور وکلا، پارلیمانی نمائندے اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔ عالمی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔
