اسرائیلی وزیراعظم کی ایک بارپھرغزہ پر مکمل قبضے کی دھمکی

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اسرائیل غزہ پر فوجی کنٹرول برقرار رکھے گا، چاہے حماس جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو تسلیم کرے یا نہ کرے۔
آسٹریلوی میڈیا کوانٹرویو میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل غزہ کی جنگ جیتنے کے قریب ہے اور حماس کی مزاحمت کو ختم کرنا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق یہ جنگ آج ہی ختم ہوسکتی ہے اگر حماس ہتھیار ڈال دے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کر دے۔
نیتن یاہو نے آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز پر بھی کڑی تنقید کی اور انہیں "کمزور سیاستدان” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک دہشت گرد گروہوں کے حامی عناصر کو خوش کرنے کی پالیسی اپنا رہے ہیں جو مغربی تہذیب کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
انہوں نے حماس کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ وہ گروہ ہے جس نے عورتوں کو قتل کیا، ان کی بے حرمتی کی اور مردوں کے سر قلم کیے۔ اگر ایسے عناصر آسٹریلوی وزیراعظم کو مبارکباد دیں تو یہ نہایت افسوسناک اور خطرناک ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے آسٹریلیا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اسرائیل اور آسٹریلیا کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوگیا۔ نیتن یاہو نے اس فیصلے کو "اسرائیل سے غداری” قرار دیا تھا۔
