اسرائیل پر تجارت اور اسلحہ سمیت دیگر پابندیاں لگانےکا وقت ہے : وزیر اعظم شہباز شریف

وزیر اعظم شہباز شریف نے بیروت میں بمباری کی مذمت کرتےہوئے کہاہے کہ اسرائیل کو اس کےجرائم پر جوابدہ اور غزہ میں نسل کشی روکنے پر مجبور کرناہوگا۔ اسرائیل پر تجارت اور اسلحہ سمیت دیگر پابندیاں لگانےکا وقت ہے۔

سلامتی کونسل میں اعلیٰ سطح مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کاکہنا تھا کہ کشمیر سےمتعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد ہوناچاہیے، جموں و کشمیر کامسئلہ حل نہ ہونےسے خطے کےامن کو خطرہ درپیش ہے۔

وزیر اعظم پاکستان نے کہاکہ طاقت کے غیر قانونی استعمال کو کسی صورت برداشت نہ کیاجائے،کونسل کو کشمیریوں کےبنیادی حقوق کی سنگین خلاف وزریوں کو روکنے کامطالبہ کرنا چاہیے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نےکہا کہ اس مباحثہ کےانعقاد پر سلوانیہ کو مبارک باد پیش کرتےہیں، مشرق وسطیٰ،یورپ اور کسی بھی جگہ پر جنگوں کاپھیلاؤ، عالمی طاقتوں کےدرمیان کشیدگی اور غربت میں اضافہ ورلڈ آرڈر کی بنیادوں کےلیے خطرناک ہے،ہم نے گزشتہ اتوار کو مستقبل کےپیکٹ کو منظور کیاہے، ہمیں اپنے وعدوں پر عمل کرناچاہئے اگر ایسا نہ کیاگیا تو جنگوں سےمستقبل تاریک ہوگا۔

وزیر اعظم نےکہا کہ ہمیں اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی اور مشرق وسطیٰ میں تنازعہ کےپھیلاؤ سے روکناچاہئے،اسرائیل پر تجارت اور اسلحہ سمیت دیگر پابندیاں لگانےکا وقت ہے،فلسطینی عوام کےخلاف اسرائیلی قیادت کےجرائم پر ان کا احتساب کیاجائے۔انہوں نےکہاکہ بیروت پر بمباری انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نےکہاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یوکرین میں جنگ بندی اور پرامن حل کےلیے غیرجانبدارانہ منصوبہ بنائے،کشیدگی میں اضافے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔

وزیر اعظم نےکہا کہ اقوام متحدہ کےامن مشنوں کو مزید فعال بنایاجائے، اقوام متحدہ کو بڑی طاقتوں کےدرمیان جنگ سے بچاؤ اور بالخصوص ایشیا پیسفک ریجن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کےحل کےلیے اعتماد سازی کےلیے اقدامات کرنے چاہئیں،ممالک کےدرمیان مقابلہ اچھی بات ہے لیکن اسے تنازعہ میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے۔

وزیراعظم کاکہنا تھاکہ افغانستان سے دہشت گردی،خاص طور  پر داعش اور فتنہ الخوارج کاخطرہ دوبارہ سر اٹھارہا ہے،کونسل کو افغانستان سےبڑھتے دہشت گردی کے خطرےسے مؤثر طریقے سے نمٹناچاہیے۔

وزیر اعظم کاکہنا تھاکہ جوہری اور روایتی ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنےکی عالمی کوششوں کو بحال کرنا چاہیے،نئے ہتھیاروں اور اے آئی سمیت ٹیکنالوجیز پر کنٹرول قائم کرناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اگلے سال سلامتی کونسل کی نشست سنبھالنےپر ان مقاصد کو حاصل کرےگا۔

وزیراعظم سےقائم مقام بنگلہ دیشی وزیراعظم ڈاکٹریونس کی ملاقات

Back to top button