جسٹس اطہر من اللہ نے بھی چیف جسٹس کا فیصلہ مسترد کر دیا

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے بھی چیف جسٹس کے ازخود نوٹس اور سیاسی معاملات میں عدالتی مداخلت پر سوالات اٹھا دئیے۔ جسٹس اظہر من اللہ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اینڈ کمپنی کے صوبوں میں انتخابات بارے تین دو کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ انتخابات بارے از خود نوٹس چار تین سے مسترد کیا گیا تھا۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ کا تفصیلی نوٹ جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ از خود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا، ازخود نوٹس کی کارروائی نے عدالت کو غیر ضروری سیاسی تنازعات سے دوچار کر دیا ہے۔تفصیلی اختلافی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ میں جسٹس یحی خان آفریدی کے درخواستوں کو مسترد کرنے کے فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں، میں نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندو خیل کے فیصلے کو پڑھا ہے اس لیے انکے حکمنامے سے بھی اتفاق کرتا ہوں۔جسٹس اطہرمن اللہ کا تفصیلی نوٹ 25 صفحات پر مشتمل ہے۔
تفصیلی نوٹ میں جسٹس اطہرمن اللہ نےکہا ہےکہ سیاست دان مناسب فورمز کے بجائے عدالت میں تنازعات لانے سے ہارتے یا جیتتے ہیں لیکن عدالت ہرصورت ہار جاتی ہے، سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں کو اپنی انا ایک طرف رکھ کر آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے۔جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں کو آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے، سپریم کورٹ نے ماضی سےکوئی سبق نہیں سیکھا، ملک ایک سیاسی اور آئینی بحران کے دہانے پرکھڑا ہے، وقت آگیا ہےکہ تمام ذمہ دار ایک قدم پیچھےہٹیں اور کچھ خود شناسی کا سہارا لیں۔
تفصیلی نوٹ میں کہا گیا ہےکہ پنجاب،کے پی انتخابات کی تاریخ کا ازخود نوٹس خارج کیا جاتا ہے، درخواستوں اور از خود نوٹس کو خارج کرنےکی تین بنیادی وجوہات ہیں، فل کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 184 تھری کے استعمال کے بنیادی اصولوں کی پابندی بینچ پرلازم تھی، عدالت کو اپنی غیر جانبداری کے لیے سیاسی جماعتوں کے مفادات کے معاملات پر احتیاط برتنی چاہیے، عدالت کو سیاسی درخواست گزار کا طرز عمل اور نیک نیتی بھی دیکھنی چاہیے، درخواست گزاروں کا رویہ اس بات کا متقاضی نہیں کہ 184/3کا اختیار سماعت استعمال کیا جائے۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ازخود نوٹس لینےکا مطلب غیر جمہوری اقدار اور حکمت عملی کو فروغ دینا ہوگا، ماضی کے فیصلوں کو مٹایا نہیں جاسکتا لیکن کم ازکم عوامی اعتماد بحال کرنےکی کوشش کی جاسکتی ہے، انتخابات کی تاریخ کامعاملہ ایک تنازع سے پیدا ہوا ہے جو بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کا تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے درست کہا کہ عدالت کو ازخودنوٹس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، سپریم کورٹ کو یکے بعد دیگرے تیسری بار سیاسی نوعیت کے تنازعات میں گھسیٹا گیا ہے۔
تفصیلی اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے متعلقہ مقدمات میں سوموٹو کا اختیار استعمال کرنے میں بہت احتیاط برتنی چاہیے اور عدالت سے رجوع کرنے والی سیاسی جماعت کی نیک نیتی بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ میں قاسم سوری رولنگ کیس کا حوالہ بھی دیا گیا۔ اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے بعد اپوزیشن میں جانے کے بجائے استعفے دیے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے دور رس نتائج مرتب ہوئے، پی ٹی آئی کے اسمبلی سے استعفوں کی وجہ سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کی درخواست پر جس انداز سے کارروائی شروع کی گئی اس سے عدالت سیاسی تنازعات کا شکار ہوئی اور اس درخواست پر کارروائی شروع کرنے سے پولیٹیکل اسٹیک ہولڈرز کو عدالت پر اعتراض اٹھانے کی دعوت دی گئی۔ سوموٹو کی کارروائی شروع کرنے سے ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کرنے والے سائلین کے حقوق متاثر ہوئے۔
تفصیلی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ پنجاب،کے پی الیکشن کا از خود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا، میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کی رائے سے متفق ہوں، سپریم کورٹ مسلسل سیاسی تنازعات کے حل کا مرکز بنی ہوئی ہے، 27 فروری کو چائےکےکمرے میں اتفاق رائے ہوا کہ میں بینچ میں بیٹھوں گا، 23 فروری کی سماعت کے حکم میں جسٹس یحیٰی آفریدی کا الگ نوٹ بھی تھا، جسٹس یحیٰی آفریدی نے ناقابل سماعت ہونےکی بنیاد پر ازخود نوٹس اور درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
جسٹس اطہر من اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ واضح رہےکہ بینچ سے الگ ہوا نہ ہی اپنے مختصرنوٹ میں ایسی کوئی وجوہات دی تھیں، میں نے بھی اپنے نوٹ میں درخواستوں کے ناقابل سماعت ہونے کے بارے میں بلا ہچکچاہٹ رائے دی، جسٹس منصور اور جسٹس مندوخیل کی تفصیلی وجوہات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں،عدالت کو سیاسی تنازع سے بچنے کے لیے اپنے نوٹ میں فل کورٹ کی تشکیل کی تجویز دی تھی، فل کورٹ کی تشکیل سے عوامی اعتماد قائم رہتا، ازخود نوٹس کی کارروائی نے عدالت کو غیر ضروری سیاسی تنازعات سے دوچار کر دیا ہے۔
یاد رہےکہ چیف جسٹس نے غلام محمد ڈوگر ٹرانسفرکیس میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کے نوٹ پر انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس لیا تھا اور 9 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں 23 فروری کو ہونے والی ازخود نوٹس کیس کی پہلی سماعت میں جسٹس اطہرمن اللہ بینچ سے علیحدہ ہوگئے تھے اور انہوں نے الگ سے نوٹ بھی تحریر کیا تھا جو اب تفصیلی طور پر جاری کردیا گیا ہے۔9 رکنی بینچ میں شامل 4 ججز بینچ سے علیحدہ ہوگئے تھے اور انہوں نے ازخود نوٹس کو مسترد کیا تھا جن میں جسٹس اطہر من اللہ کے علاوہ جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل شامل ہیں۔
