کیا جسٹس بندیال کا گھر جانا ٹھہر چکا ہے؟

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی ساس ماہ جبین نون کی مبینہ آڈیو لیکس سیاسی حلقوں کے علاوہ ملک بھر میں خواتین سیاسی راہنمائوں اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ گھریلو خواتین میں بھی خاصے شوق سے دیکھی اور سنی گئی جس کی وجہ اس آڈیو لیک کے حوالے سے چیف جسٹس کی ساس کا تذکرہ تھا اور پاکستان میں ہر گھر میں نہ سہی لیکن ہر دوسرے گھر میں اس کیلئے بہو اور بہو کیلئے ساس کا تذکرہ دلچسپی سے سنا جاتا ہے اس لئے اس قصے میں گھریلو خواتین کی دلچسپی موجود تھی۔ تاہم ساس کی آڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر چیف جسٹس بندیال کے استعفے کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ غیر جانبداریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جسٹس بندیال کو فوری عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔
ساسیں پورے گھرانے پر ہی نہیں بلکہ کہیں کہیں تو پورے خاندان پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ صرف پاکستان یا ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ مغربی ممالک میں بھی اس کی مثالیں قدرے مختلف نوعیت کے واقعات اور حوالوں سے ملتی ہیں جس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ2001 کے آخری ماہ امریکہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پاکستان کے دورے پر اسلام آباد آئیں تو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے ان کی مصروفیات میں سول سوسائٹی، طلبا اور کاروباری افراد سے ملاقات پر مبنی ایک تقریب کا اہتمام بھی کیا اور اس موقعہ پر ان کے سوالات کے جوابات بھی ہنستے اور مسکراتے ہوئے دیئے تاہم سوال وجواب کی اس نشست میں ایک خاتون نے جو غالباً پشاور سے تعلق رکھتی تھیں انہوں نے پاک امریکہ تعلقات کو ساس بہو کی مماثلت سے قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ۔ امریکہ پاکستان سے بہو جیسے تعلقات کیوں رکھتا ہے ایک لمحے کیلئے تو ہیری کلنٹن قدرے کنفیوز ہوگئیں شاید ان کیلئے یہ غیر متوقع اور مبہم سوال تھا اور دونوں ملکوں کے تعلقات کی یہ مماثلت شاید ان کے سامنے اس انداز میں پہلی مرتبہ پیش آئی تاہم اگلے ہی لمحے ان کا چہرہ کھل اٹھا اور وہ دیر تک اس سوال سے محظوظ ہوتے ہوئے قہقہے لگاتی رہیں جبکہ وہاں موجود تمام شرکاء نے بھی تالیاں بجائیں اور پوری محفل کشت زعفران بن گئی جس سے یہ اندازہ ہوا کہ ساس کی طاقت اور بہو کی مظلومیت کا اندازہ انہیں بخوبی ہے اور انہوں نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ساس کی طاقت اور اہمیت کا اندازہ ہے اور میں اس رشتے کی ’’اہمیت اور افادیت‘‘ کو بخوبی سمجھتی ہوں تاہم ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اونچ نیچ کا شکار ہوتے ہیں۔
دوسری طرف سوشل میڈیا پر چیف جسٹس کی ساس محترمہ ماہ جبین نون کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آنے کے بعد دلچسپ، معنی خیز، طنزیہ اور مزاحیہ میمز اور ریمارکس کا گویا دلچسپ طوفان آگیا اور اس حوالے سے قارئین کی بڑی تعداد نے اپنے ’’تخلیقی فن‘‘ کا ایسا ایسا مظاہرہ کیا کہ دیکھنے اور پڑھنے والے بھی ان صلاحیتوں کو داد دیئے بغیر نہ رہ سکے، ’’Mother In Law‘‘ جہاں ٹوئیٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بنا تو کسی نے ’’ساس ہماری ریڈ لائن‘‘ اور ساس کا کرش کے سلوگن کی تشہیر کی.
ایک صارف نے لکھا کہ ججز اپنے خاندان،رشتے دار،اہل و عیال اور ۔عزیز و اقارب سے بالاتر ہوکر اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فیصلے کرتے ہیں،بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا رجحان بہت کم ہے ۔ ایک صاحب نے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ٹرک کے پیچھے ’’یہ سب میری ساس کی دعا ہے‘‘ کا فقرہ تحریر کر دیا جو موقعہ کی مناسبت سے توجہ کا مرکز بنا۔ اسی طرح گزشتہ دنوں لندن میں ایک ٹرک کے پیچھے عمران خان کی تصویر آویزاں کردی گئی تھی۔ ’’ساس کا کرش‘‘ ساس زدہ فیصلے‘‘ اور ہوم منسٹر بھی نئی اصطلاحوں کے طور پر سامنے آئے۔ سوشل میڈیا کے متعدد صارفین نے اسے جعلی آڈیو لیک بھی قرار دیا۔
مریم نواز کے اس ٹویٹ کو بھی پذیرائی ملی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ جہاں فیصلے آئین اور قانون نہیں بلکہ بیگمات اور ساسوں کی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ہو رہے وہاں فتنہ اور انتشار ہی ہوگا۔ ایک صارف نے تو محترم چیف جسٹس پر اثر انداز ہونے والے لوگوں کو مافیا قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گردی سے تعبیر کردیا۔یہ بھی کہا گیا کہ ’’سیاسی ساس مانگے مارشل لاء‘‘ یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے کم نہیں کہ موقعہ کی مناسبت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض ’’دل جلے دامادوں ‘‘ نے اپنی ساسوں کے بارے میں میمز بنا ڈالیں۔ بڑی تعداد میں صارفین نے چیف جسٹس کو مشورہ دیتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ جسٹس قیوم کی طرح فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔
