گنڈاپورکابینہ کے2وزراکےاستعفے کس طوفان کا پیش خیمہ ہیں؟

دو تگڑے وزراء کی چھٹی کے بعد پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت میں ایک مرتبہ پھر اختلافات اور گروپ بندی میں شدت آگئی ہے۔سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ اور فیصل ترکئی کے اچانک سامنے آنے والے استعفوں نے خیبرپختونخوا میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے قریبی حلقے صوبائی وزراء کے استعفوں کو ناقص کارکردگی سے جوڑتے دکھائی دیتے ہیں تاہم پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق گنڈاپور نے عمران خان سے ملاقات کے دوران دونوں صوبائی وزراء پر اپنے خلاف سازش کرنے کے الزامات عائد کئے تھے جس کے بعد دونوں وزراء کو گھر بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا تاہم جیسے ہی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا پیغام فیصل ترکئی اور عاقب اللہ کو پہنچایا گیا تو انھوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔
مبصرین کے مطابق دونوں وزراء کے مستعفی ہونے نے نہ صرف پی ٹی آئی کی اندرونی کمزوریوں کو آشکار کیا ہے بلکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی مخالفت کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ بظاہر یہ استعفے ذاتی اختلافات یا پالیسیوں پر عدم اتفاق کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں، مگر حقیقت میں یہ معاملہ آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کی اندرونی گروپ بندی اور سیاسی کھینچا تانی میں مزید شدت لانے کا سبب بن سکتا ہے۔
خیال رہے کہ عاقب اللہ خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی تھے جبکہ فیصل ترکئی کے پاس ابتدائی وثانوی تعلیم کی وزارت تھی۔ وہ اپنی وزارتوں میں اچھا کام کر رہے تھے تاہم گنڈاپور کے عتاب کا نشانہ بن گئے۔ گنڈاپور کے قریبی حلقوں کے مطابق وزیر اعلیٰ دونوں وزرا کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے اور ان کی وزارتیں تبدیل کرنا چاہتے تھے،وزیر اعلیٰ نے جب انہیں بتایا تو دونوں نے اپنے استعفے وزیرا علی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو ارسال کردیئے، صوبائی وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل خان ترکئی کا اپنے استعفے میں کہنا تھا کہ وزیر تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے اپنے قائد عمران خان کے ویژن کے مطابق شفافیت، میرٹ اور کارکردگی کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کی ، انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لئے اعزاز کی بات رہی کہ انہیں تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور ترقی کے عمل کا حصہ بنایا گیا تاہم وہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے ویژن کے ساتھ اپنی وابستگی جاری رکھیں گے۔اسی طرح صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے بھی اپنے استعفے میں اعتراف کیا کہ وزارت کے دوران انہوں نے عمران خان کے اعتماد پر پورا اترنے اور محکمہ آبپاشی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے بھرپور جدوجہد کی ۔ تاہم وہ مزید خدمات جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔
تاہم مبصرین کے مطابق استعفیٰ دینے والے وزرا کے بیانات اور وزیراعلیٰ کے مؤقف میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ فرق دراصل پی ٹی آئی کی ٹوٹ پھوٹ اور قیادت کی کمزور گرفت کو ظاہر کرتا ہے۔ صوبائی وزراء کے استعفوں کے بعد پی ٹی آئی میں بحران کم ہونے کے بجائے مزید شدید ہو گا کیونکہ پی ٹی آئی کے اکثریتی رہنما گنڈاپور کے سے سخت نالاں ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ گنڈاپور وکٹ کی دونوں سائیڈوں پر کھیلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے مخالفین اب کھل کر میدان میں آ گئے ہیں اور استعفوں کی صورت میں پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وزیراعلیٰ کے فیصلے سب کو قبول نہیں۔
علی امین گنڈاپور نے عمران کا اعتماد اور عزت کیسے گنوائی؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول علی امین گنڈاپور اپنی جارحانہ طرزِ سیاست، بھگوڑے پن اور سخت گیر رویے کے باعث پہلے ہی پارٹی کے اندر اختلافات کا شکار ہیں۔ ان کے خلاف سازش کے الزامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی میں ’’گنڈاپور مخالف گروہ‘‘ فعال ہو چکا ہے۔ مبصرین کے مطابق، وزرا کے استعفے اس گروہ بندی کو مزید تقویت دیں گےاور آنے والے دنوں میں صوبائی حکومت میں عدم استحکام بڑھائے گا۔ کچھ سیاسی تجزیہ کار خیبرپختونخوا میں سامنے آنے والے صوبائی وزراء کے استعفوں کو عمران خان کی کمزور گرفت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی چیئرمین کی غیر موجودگی اور مرکزی قیادت کی غیر یقینی صورتحال نے صوبائی سطح پر دھڑے بندی کو جنم دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کابینہ کے اندر اعتماد کی فضا ٹوٹ رہی ہے اور ہر رکن اپنی سیاسی بقا کو یقینی بنانے کے لیے علیحدہ راستے تلاش کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کو اپنی اندرونی صف بندی پر فوری توجہ دینی ہوگی۔ ورنہ وزیروں کے استعفے اور سازشوں کے الزامات ایک ایسے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں جو مستقبل قریب میں خیبرپختونخوا حکومت کی بنیادیں ہلا سکتا ہے۔
