KPKکابینہ کی تشکیل، آفریدی اور گنڈپور گروپ آمنے سامنے آ گئے

 

 

 

سہیل آفریدی کے وزیرِاعلیٰ بننے کے بعد خیبر پختونخوا میں کابینہ کی تشکیل کا عمل تحریکِ انصاف کے اندر بڑھتی ہوئی دراڑوں کو ایک بار پھر نمایاں کر رہا ہے۔ وزارتوں کی تقسیم پر گنڈاپور گروپ اور آفریدی دھڑے کے درمیان جاری رسہ کشی نے پارٹی کے داخلی انتشار کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ جس کے بعد نو منتخب وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنی کابینہ کی تشکیل کا فیصلہ بانی تحریکِ انصاف عمران خان سے ملاقات تک مؤخر کر دیا ہے۔

 

مبصرین کے مطابق سابق وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور کے قریبی ارکان اس وقت کابینہ میں جگہ کے حصول کے لیے بھرپور سرگرم ہیں۔ وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پارٹی کی صوبائی تنظیم اب بھی ان کے زیرِاثر ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ نئی کابینہ میں ان کا اثر برقرار رہے تاکہ صوبائی سیاست میں ان کا کردار ختم نہ ہو۔ دوسری جانب سہیل آفریدی کے حامی اراکین سمجھتے ہیں کہ گنڈاپور گروپ اب ایک "ماضی کی خوفناک یاد” بن چکا ہے چونکہ اب سہیل آفریدی اعتماد کا ووٹ لے چکے ہیں اور وہ نئی قیادت کے طور پر سامنے آئے ہیں، اس لیے انہیں اپنی مرضی سے ٹیم تشکیل دینے کا حق حاصل ہے صوبائی سطح پر نئی قیادت کو خود فیصلے کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں موجود یہی اختلاف اب پی ٹی آئی کے اندر ایک واضح صف بندی کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی داخلی سیاست اب محض نظریاتی نہیں بلکہ شخصی اثر و رسوخ کی جنگ بن چکی ہے۔ جو مستقبل میں پارٹی کے لیے نئے بحرانوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

 

سیاسی ماہرین کے مطابق یہ اندرونی گروپ بندی نہ صرف تحریکِ انصاف کی صوبائی کارکردگی کو متاثر کرے گی بلکہ مرکز میں پارٹی کے بیانیے کو بھی کمزور کرے گی۔ خیبر پختونخوا وہ صوبہ ہے جہاں پی ٹی آئی نے گزشتہ کئی انتخابات میں اپنی سیاسی ساکھ قائم رکھی۔ اگر یہی صوبہ اندرونی اختلافات اور طاقت کی کھینچا تانی کا شکار ہو گیا تو پارٹی کے لیے وفاق میں اپنا مؤقف مضبوط رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ناقدین کے مطابق کابینہ کی تشکیل کے عمل میں تاخیر، گروپ بندی اور پارٹی کے اندر طاقت کے مراکز کی کشمکش اس تاثر کو گہرا کر رہی ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت فی الحال “اختیار کی سیاست” کے بجائے “وفاداری کی سیاست” میں الجھی ہوئی ہے۔ذرائع کے بقول سہیل آفریدی کابینہ میں پرانے اور نئے چہرے دونوں کی شمولیت کے خواہشمند ہیں۔ تاہم وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت کے بعد ہی کابینہ کا اعلان کرینگے۔

بنوں : انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں فتنۃ الخوارج گروپ سرغنہ سمیت 2 دہشتگرد ہلاک

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کی صوبائی کابینہ کے ابتدائی خاکے میں سابق وزراء میں سے کچھ چہروں کو دوبارہ شامل کرنے اور کچھ کو نظرانداز کرنے کی تجویز زیرِغور ہے۔ تاہم، چونکہ آخری فیصلہ عمران خان کی منظوری سے مشروط ہے، اس لیے تاحال کوئی نام فائنل نہیں ہو سکا۔ تاہم وزیراعلیٰ کے انتخاب اور حلف کا امتحان ختم ہونے کے بعد اب کابینہ کی تشکیل کا مرحلہ شروع ہونے کے بعد من پسند وزارتوں کیلئے سابق وزرا، مشیر اور معاونین سمیت خواہشمند امیدواروں نے وزیراعلیٰ ہائوس میں ڈال دیئے ہیں اور نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر مسلسل شیئر کی جارہی ہیں۔ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کابینہ میں شامل وزرا، مشیر اور معاونین اپنی کرسی بچانے کیلئے سرگرم ہو گئے ہیں۔ جبکہ ذرائع کے بقول کابینہ کے ممبران کے ساتھ ساتھ حکومت سے باہر بیٹھے رہنمائوں نے بھی کوششیں شروع کر دی ہیں اور پارٹی قیادت و رہنمائوں کے ذریعے خود کو کابینہ میں شامل کرنے کیلئے لابنگ کی جارہی ہے۔

 

دوسری جانب صوبے میں نئی کابینہ کی تشکیل کے ساتھ ساتھ ایک مرتبہ پھر بیوروکریسی میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلی کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبے میں سیکرٹرییز، ڈپٹی سیکریٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ڈی آئی جیز اور ڈی پی اوز سمیت اعلیٰ سطح کے افسران کے تبادلے متوقع ہیں۔پہلے مرحلے میں اہم محکموں کے سیکرٹرییز اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ دوسرے مرحلے میں باقی افسران کی تعیناتی اور تبادلے عمل میں لائے جانے کا امکان ہے۔ ناقدین کے بقول صوبے میں مسلسل سیاسی بحران کے باعث انتظامی امور پہلے ہی ٹھپ ہیں جبکہ گنڈا پور کی جانب سے استعفیٰ دیئے جانے کے بعد سول سیکریٹریٹ سمیت تمام سرکاری دفاتر میں امور بری طرح متاثر ہیں ایسے میں سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ بیوروکریسی کی اکھاڑ پچھاڑ سےگورننس کا مکمل دھڑن تختہ ہو جائے گا۔

 

Back to top button