سخت گیر صدر ٹرمپ امن کی علامت کیوں بنتے جا رہے ہیں؟

سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے دور صدارت میں دنیا کے سب سے متنازع رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے، لیکن اپنے دوسرے دور صدارت میں وہ ایک نئے انداز میں سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر غزہ امن معاہدہ کامیابی سے ہم کنار ہو گیا تو صدر ٹرمپ کو تاریخ میں ایک نئے اشوک اعظم کے طور پر یاد کیا جائے گا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ تاریخ میں کئی حکمران ایسے گزرے ہیں جنہوں نے ابتدا میں جنگ و جدل اور خونریزی کا راستہ اپنایا مگر وقت کے ساتھ ان کے اندر حیران کن تبدیلی آئی اور وہ بدل گئے۔ سلطنت موریہ کے تیسرے شہنشاہ مہاراجہ اشوک اعظم کی کہانی بھی ایسی ہی ہے۔ وہ راجہ چندر گپت موریا کا پوتا تھا جس نے ٹیکسلا کو اپنا دار السلطنت بنایا۔ اُسے اپنے عہد کا سب سے بڑا اور طاقتور راجا کہا جاتا تھا جس نے اپنے ایک بھائی کے علاوہ 99 دیگر بھائیوں کو قتل کروا دیا تھا۔ تاہم بعد میں وہ جنگ و جدل سے تائب ہو گیا۔ اشوک کے دل میں ایسا رحم آیا کہ وہ بدھ مت کے راستے پر چل نکلا اور تلوار کے بجائے امن اور انسانیت کا پیامبر بن گیا۔
سہیل وڑائچ کے مطابق آج صدر ٹرمپ بھی اشوک اعظم کے نقش قدم پر چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ایک سخت گیر، متنازع اور خود پسند رہنما سے امن کی علامت بنتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
غزہ کی حالیہ جنگ میں ابتدا میں اسرائیل کا بیانیہ غالب رہا۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ حماس نے دہشت گرد حملے کیے، مگر جیسے جیسے اسرائیلی بمباری میں ہزاروں معصوم فلسطینی، بچے، عورتیں اور صحافی مارے گئے، عالمی رائے عامہ بدلنے لگی۔ مغربی میڈیا نے بھی اسرائیل کی پالیسیوں پر سوال اٹھانا شروع کیا، اور یہاں سے منظرنامہ پلٹنا شروع ہوا۔ اسی دوران ٹرمپ نے ایک غیر متوقع قدم اٹھایا اور غزہ میں فریقین کے درمیان مذاکرات شروع کروا دیے۔
بظاہر ٹرمپ کی ضمانت پر ہونے والے غزہ معاہدے کے بعد جنگ بندی ہو چکی ہے اور دونوں اطراف سے یرغمالیوں کی رہائی کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ غزہ معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دئا جا رہا ہے، جس کے بعد ٹرمپ کا ایک سخت گیر لیڈر کا تائثر بدل رہا ہے اور بظاہر وہ امن کے علم بردار بنتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
یہ وہی ٹرمپ ہیں جنہوں نے چند برس پہلے پاکستان کو دہشت گردی کا معاون ملک قرار دیا تھا، مگر اب ان کی پالیسی میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ پاکستان سے یاری ڈال کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ؟
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حالیہ ہفتوں میں امریکی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ ایک تقریب میں ایک امریکی نمائندے نے یہاں تک کہا کہ "امریکہ اب پاکستان کو خودمختار شراکت دار کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے، نہ کہ ایک تابع ریاست کے طور پر۔” یہ بیان پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق ٹرمپ کا یہ نیا انداز حیران کن ضرور ہے مگر غیر حقیقی نہیں۔ بطور بزنس مین وہ ہمیشہ حقیقت پسند رہے ہیں۔ جہاں کلنٹن، اوباما اور بائیڈن نظریاتی سیاست کے قائل تھے، وہاں ٹرمپ زمینی حقائق پر فیصلے کرنے والے رہنما ہیں۔ ان کے نزدیک خوابوں سے زیادہ اہمیت نتائج کی ہے، اور وہ جذبات پر عقلیت پسندی کو ترجیح دیتے ہیں۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ غزہ امن معاہدہ مسلم دنیا کے لیے بھی ایک اہم پیغام رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان قومیں اب بھی انتہا پسندی، جنونیت اور طاقت کے زعم میں مبتلا رہیں گی، یا وہ علم، ٹیکنالوجی اور ترقی کی راہ اپنائیں گی؟ سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ مسلم دنیا کو اپنی بقا اور خوش حالی کے لیے تین ستونوں یعنی علم، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ ورنہ امن کی ہر کوشش عارضی اور ترقی کا ہر وعدہ ادھورا رہ جائے گا۔ انکا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ واقعی دنیا میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو وہ محض ایک امریکی سیاست دان نہیں رہیں گے بلکہ تاریخ میں ایک بدلے ہوئے اشوکا اعظم کے طور پر یاد کیے جائیں گے یعنی ایسا لیڈر جو جنگ کے پنگوں سے نکل کر امن کے پیغام تک پہنچا۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ غیر روایتی سیاستدان ہیں جو آؤٹ آف باکس سوچ اپناتے ہیں لہذا حلیفوں کو حریف اور حریفوں کو حلیف بنانا انکے حوالے سے اچنبھے کی بات نہیں ہوگی۔ ان کی یہی غیر روایتی سوچ اسرائیل اور انڈیا کے انتہا پسندانہ عزائم پر کوڑے بن کر برس رہی ہے۔ لیکن مسلم دنیا کو بھی اپنی جھوٹی شان و شوکت اور بڑے پن کے زعم سے نکل کر حقیقت پسندی اپنانا ہو گا۔
