حکومت کا پھر شیرافضل مروت کو چیئرمین پی اے سی بنانے سے انکار

وفاقی حکومت نے ایک بار پھر رہنما پی ٹی آئی شیرافضل مروت کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنانے سے انکار کرتے ہوئے سپیکر سے نظرثانی کا مطالبہ کردیا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اپوزیشن کے نہ ماننے پر حکومت نے پی اے سی چیئرمین کے انتخاب کے موقع پر اپنا امیدوار لانے کا عندیہ دے دیا۔ شیر افضل مروت کو چیئرمین بنانے کےلیے اپوزیشن کو حکمران اتحاد کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ 29 رکنی پی اے سی میں حکمران اتحاد کی اکثریت ہوگی، سنی اتحاد کونسل کے چار اراکین کی حمایت سے شیر افضل مروت چیئرمین نہیں بن سکتے۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق کم از کم پندرہ ووٹ لینا ضروری ہوگا، پی اے سی سمیت ہر کمیٹی کے چیئرمین کا باقاعدہ انتخاب ہوتا ہے ۔ پی اے سی 29 اراکین پر مشتمل ہے 23 ایم این اے اور 6 سینیٹرز شامل ہونگے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے 6 سینیٹرز کے نام سینیٹ سیکرٹریٹ سے مانگ لیے۔
اپوزیشن نے حکمران جماعت سے پی اے سی چیئرمین کے نام پر حمایت نہ مانگی تو شیر افضل مروت چیئرمین نہیں بن سکتے، ابھی تک اپوزیشن نے شیر افضل کا نام تحریری طور پر سپیکر کو نہیں دیا۔
